Life, Pakistan, two things, Akram, Lahore
23 جنوری 2021 (12:28) 2021-01-23

کرم زری والے بظاہر سادہ لوح دکھتے تھے لیکن اتنے سادہ تھے نہیں۔ وہ زری والے کے نام سے مشہور تھے کیونکہ اندرون شہر میں ان کا زری کا کاروبار تھا۔ لاہور میں واقع تقریباً تمام دفاتر میں اُن کی خاصی شناسائی تھی۔ اگر کسی کاکام کسی دفتر میں پھنس جاتا اور اُس کا ہونا ناممکن نظر آتا تو ایسے میں بے اختیار ذہن میں اکرم زری والے کا نام بلنک (blink ) کرنے لگ جاتا تھا،کہ چلو زری والے کو تلاش کریں۔لیکن پاکستان میں زندگی گزارنے کے اُس کے فلسفے اپنے تھے۔ مثلاً وہ کہا کرتا تھا کہ اگر پاکستان میں زندگی گزارنی ہو تو دو چیزیں آپ کے پاس ضرور ہونی چاہیں۔ اگر دو نہیں تو ایک تو ضرور ہونی چاہی۔ وہ دو چیزیں کیا تھیں۔ ایک دولت اور دوسری اقتدار یعنی کوئی سیاسی یا سرکاری عہدہ،پھر ہر طرف سکھ کی بانسری بجتی ہے ۔بلکہ اس کا فلسفہ تو یہ تھا کہ حتی الوسع سرکاری کام پیسے دے کر ہی کرانے چاہیں، سفارشیں کرانے سے اجتناب برتنا چاہیے۔ اس سے عموماً کام لٹک جاتے ہیں اور وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ انسان ذہنی تکلیف سے گزرتا ہے۔ اکرم کی ایسی باتیں سن کر میں انہیں عموماً کہا کرتا تھا کہ اکرم تم پانچ وقت نماز پڑھتے ہو اور پرچار کس فلسفے کا کرتے ہو۔ جواباً وہ کہا کرتا تھا کہ آپ سرکاری عہدے پر تعینات ہیں اس لئے آپ کو ایک عام آدمی کے مسائل کا ادراک ہی نہیں ہے اور آپ کو ہر طرف ہرا ہی ہرا نظر آتاہے۔ مختلف محکموں میں کئی افسرا ن کی کرپشن کا سب لوگوں کو معلوم ہوتا ہے۔ اُنہیں عموماً لوگ اچھا افسر نہیں کہتے۔ لیکن اکرم زری والے ایسے افسران کا نام سن کر ان کی تعریف کرنا شروع کر دیتے ۔ کہتے بہت ہی اچھا افسر ہے، عوام کے کام نہیں روکتا۔ اکرم زری والے کے ایسے افسران سے بہت پیار و محبت والے تعلقات ہوتے تھے۔ ایسے افسروں کی تعریفیں کرتے ہوئے ان کی خصوصیات بھی گنواتے ہوتے تھے۔ کہتے ،یقین کریں اگر اس افسر کو بتا دیا جائے کہ سائل بہت غریب ہے تو وہ مفت بھی کام کر دیتا ہے، اور کام دیکھ کر اگر اس نے کہہ دیا کہ ہو جائے گا تو سمجھو کام ہو گیا، اور جو وقت اس نے دے دیااسی میں ہوگا۔ اُسے دیانتدار افسروں سے بڑی چڑ تھی۔ کہتا تھا ایسے افسران عوام کو بہت تنگ کرتے ہیں۔ جس کا ایسے افسران سے کام پڑ جائے وہ ذلیل ہو گیا۔ چکر لگوا لگوا کر آدمی کو ذلیل و خوار کر دیتے ہیں اور کام پھر بھی نہیں ہوتا۔ آپ کے ذہن میں آ رہا ہوگا کہ شاید اکرم زری والا خود بھی کام کرانے کے پیسے لیتا تھا، ایسا ہرگز نہیں تھا۔

 وہ صرف لوگوں کے کام کرا کر خوش ہوتا تھا۔ 

جب وہ کسی کا کام کرا چکتا تھا تو اس کے چہرے پر ایک خوبصورت سی smile ہوتی تھی اور پھر ذرا غرور بھری چال چلتا تھا۔ اس کی آمد کے انداز سے ہی پتہ چل جاتا تھا کہ کام ہو گیا ہے۔ ہاں ان تعلقات کو قائم رکھنے میں وہ اپنی جیب سے خرچ کرتا تھا۔ مثلاً تقریباً ہر دس پندرہ دن بعد وہ دوستوں کو لنچ کراتا تھا۔جس میں مختلف محکموں کے درمیانے اور چھوٹے درجے کے افسران ہوتے تھے۔ لنچ کے سلسلے میں اس کی پسندیدہ جگہ لاہور کے لکشمی چوک کا علاقہ تھا۔ وہاں کے ریستورانوں والے اکرم زری والے کو بخوبی جانتے تھے۔وہ وہاںکھڑے ہو کر بڑے شوق سے دیسی مرغ کی کڑاہی مکھن میں تیار کراتا تھا۔ کھانے کے دوران وہ بڑے پیار سے بوٹیاں کڑاہی سے نکال نکال کر دوستوں کی پلیٹوں میں ڈالتا رہتا تھا۔ لیکن ایک بات سب جانتے تھے کہ وہ ان کھانوں پر خرچہ اپنی جیب سے کرتا تھا، کیونکہ کسی کا کام کرانے میں اپنے لئے پیسے رکھنا تو وہ اپنی توہین سمجھتا تھا۔ کچھ محکموں کو تو وہ اپنے محکمے سمجھتا تھا مثلاً ایل ڈی اے، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ، اکاونٹنٹ جنرل پنجاب کے دفاتر ، نادرا و پاسپورٹ آفس اور محکمہ پولیس وغیرہ،حتیٰ کہ وہ ہاوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن والوں سے لوگوں کو loan بھی لے دیتا تھا۔ اس کے جوڈیشری میں سول ججز اور سیشن ججز تک بڑے پیار و محبت والے تعلقات تھے۔ اکرم زری والے کی ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ ہر ملنے والے کی خوشی غمی میں ضرور شامل ہو تا تھا۔ انہی پیار و محبت والے تعلقات کی بنا پروہ اُن افسران سے بھی کام کرا لیتا تھاجن سے کام کرانا بہت ہی مشکل سمجھا جاتا تھا۔ وقت چلتا رہا اور پھر اکرم زری والا بیمار رہنے لگا۔ اُسے جگر کا کوئی عارضہ لاحق ہو گیا تھا۔ کافی علاج معالجہ کراتا رہا لیکن بیماری بڑھتی گئی اور وہ اس جہان فانی سے کوچ کر گیا۔ ظاہر اس کی یادیں ہمارے ساتھ ہیں ۔اکرم کو گزرے دودہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن اپنا وطن عزیز اسی چال سے چل رہا ہے۔ہر سرکاری محکمے میں وہی حال ہے۔ ذرا بھر کوئی تبدیلی کہیں نظر نہیں آتی۔عوام یونہی پیسے دیکر کام کرا تے پھرتے ہے۔اُس دن ایک دوست نے بات کی جو دل کو بہت صحیح لگی۔کہنے لگا اسی پاکستان میں موبائل فون کے کنکشن اور نیٹ مہیاکرنے والی مختلف کمپنیاں اپنا کاروبار کر رہی ہیںلیکن چونکہ یہ پرائیویٹ ہیں اس لئے عوام کو ان سے ذرہ بھر کوئی شکایت نہیں ہے۔ نہ کوئی غلط بل آنے کا احتمال نہ کوئی بل ٹھیک کرانے کا جھنجھٹ۔ بلکہ ہر کمپنی کی طرف سے نئی نئی سہولیات اور وہ بھی سستے داموں مہیا کرنے کی آفرزآتی رہتی ہیں۔ بچے سے لیکر بوڑھے تک ہر آدمی موبائل استعمال کر رہا ہے لیکن کسی کو کوئی ٹینشن (tension ( نہیں ہے۔ ابھی یہی کمپنیاں حکومت کے حوالے کر دیں اور انہیں سرکاری محکمے چلائیں، یہ واپڈا کی طرح عوام کی زندگیاں عذاب کر دیں گی۔

 نہ جانے پاکستانی حکومتیں سرکاری محکموں کو کم کیوں نہیں کرتیں۔ تمام حکمرانوں کا اقتدار میں آنے سے پہلے سرکاری محکموں سے واسطہ رہاہے اور یہ لوگ سرکاری محکموں کو پیسے دیکر کام کراتے رہے ہیں،لیکن مجال ہے کہ انہوں نے کبھی عوام کی جان ان سرکاری محکموں کے عذاب سے چھڑانے کی کوشش کی ہو۔آپ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں جا کر دیکھیں حکومتی و سرکاری اداروں کا وجود تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔لیکن ہمارے حکمران تو سرکاری محکموں کے ذریعے ساری طاقت اپنے پاس رکھنے کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ اپنے صوبہ پنجاب پر ہی نظر ڈال لیں۔وزیر اعلیٰ صاحب نے حکومت پنجاب کے سول سیکریٹریٹ سے الگ بہت بڑا وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ قائم کر رکھا ہے۔ جو طاقت کا سرچشمہ ہے۔  تمام احکامات وہیں سے جاری ہوتے ہیں۔ چیف سیکریٹری اور باقی تمام محکمہ جات کے سیکریٹریز صرف تعمیل کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں۔عوام آج بھی اپنے کام کرانے کے لئے کسی اکرم زری والے کو تلاش کرتے پھرتے ہیں۔


ای پیپر