Planning, future, blessings, Allah, Amber Shahid
23 جنوری 2021 (11:58) 2021-01-23

ناحق  ہم  مجبوروں  پر  یہ تہمت ہے مختاری کی 

چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

میر تقی میر کا یہ شعردسویں جماعت میں پڑھا اور اس کی تشریح کو خوب رٹا بھی لگایا لیکن اس کی حقیقی معنویت ہمیں زندگی کے تجربوں اور روز پیش آنے والے واقعات نے سمجھائی۔ جب دیکھا کہ ہم جتنی مرضی پلاننگ کرلیں لیکن فیصلہ تو آخر ہمارے رب کا ہی چلتا ہے، وہ ہمیں تقدیر کا پابند بنا کر صحیح اور غلط کے فیصلوں میں خود مختاری دے دیتا ہے اور بات ہماری نیت پر آجاتی ہے اور پھر یہ نیت ہی ہمیں ہدایت یا بے راہ روی کی طرف لے جانے کاباعث بنتی ہے۔ 

کتنا زعم ہوتا ہے نا انسان کو اپنی دولت صحت اور طاقت پر لیکن جب اس کا حکم آتا ہے تو ایک لمحے کی مہلت نہیں ملتی۔ میں نے زندگی میں بہت سے معجزے دیکھے ہیں ایک غریب باپ کواکلوتی بیٹی کی شادی کے لیے پریشان دیکھا اور پھر دس دن بعد ہی اس کی بچی کی شادی اتنی شان و شوکت سے ہوتی ہے کہ اس باپ کو خود بھی یقین نہیں آتا وہ اس کے سب چائو پورے کرلیتا ہے۔ دوسری طرف ایک ارب پتی اپنی بیٹی کے نکاح کے بعد شادی کے لیے دو کروڑ کی تیاری کرچکا ہوتا ہے۔ تیس روزہ تقریبات کے لیے لاکھوں کے جوڑے، مہنگے ترین شادی ہال کی بکنگ ہوجاتی ہے لیکن پھر ایک دم کرونا آتا ہے اور وہ اپنے ارمان لیے رہ جاتا ہے اور آخر اپنی بچی کوبغیر کسی تقریب کے اکیلے رخصت کردیا جاتا ہے۔ 

یہی نہیں آپ زندگی موت کے معاملات دیکھ لیجیے ! 

ایک ہفتے میں ہونے والے دو واقعات نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ 

کچھ روزقبل وحدت روڈ شاہد کالونی میں لگنے والی آگ نے گھر اجاڑ دیا، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جھلس کر جاں بحق ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 52 سالہ رخسانہ، 8 سالہ عبیرہ، 5 سالہ ہادی اور ایک سالہ حنان شامل ہیں۔بتایا 

گیا ہے کہ گزشتہ روزوحد ت کالونی کے علا قہ آ بپار ہ سٹا پ شاہد کالونی کے ایک گھر میں پیش آیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ گیس ہیٹر کی لیکیج کے باعث لگی جہا ں کمرے میں موجود 03 کمسن بچے اورانکی نانی دم آگ لگنے کے باعث جا ں بحق ہو گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے آگ پر قابو پا یا۔علاقہ مکین کہتے ہیں کھڑکی توڑ کر گھر میں گئے اور آگ بجھانے کی کوشش کی۔ گھر میں دھواں ہونے کی وجہ سے کچھ پتا نہیں چل رہا تھا۔ آگ زیادہ ہو گئی اور ریسکیو کے آنے پر وہ باہر آ گئے۔ ڈی ایس پی ماڈل ٹاؤن محمد اشفاق نے کہا کہ آگ کمرے میں چلنے والے ہیٹر سے لگی، بچے گھر کے پچھلے کمرے میں موجود تھے۔ ان کے ماں باپ جو بچوں کو نانی کے پاس اچھا بھلا چھوڑ کر گئے تھے ان کو کیا خبر تھی کہ آج کے بعد وہ اپنے بچوں کو نہیں دیکھ سکیں گے۔ کیسی  آفت ٹوٹی ان پر توبہ! 

لیکن دوسری طرف ایک اور واقعہ کے متعلق پڑھنے کے بعد میرا اللہ پر ایمان مضبوط ہوگیا جب گزشتہ دنوں انڈونیشیا کے ہوائی جہاز کو پیش آنے والے حادثہ کے تین دن بعد امدادی کارکنوں نے اس بچے کو سمندر سے زندہ نکال لیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ جب اسکی ماں کو یہ یقین ہو گیا کہ اب تقدیر کا لکھا نہیں ٹل سکتا تو اس نے بچے کو نشست کے نیچے موجود لائف جیکٹ میں باندھ کر رب کے حوالے کر دیا اور اس جس نے اپنی تدبیر سے اسکی ماں کی اس آخری خواہش کو پورا فرما دیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون ہے جس نے اسکی ماں کے ذہن میں اسے بچانے کیلئے یہ تدبیر پیدا کی؟

 وہ کون ہے جس نے اسے اتنے روز سمندر کی تند وتیز لہروں کے غیض و غضب سے بچائے رکھا؟ 

وہ کون ہے جس نے اسے اتنے روز سمندر کی تہہ میں جانے سے محفوظ رکھا؟

 وہ کون ہے جس نے اتنے روز اسکے ننھے منے جسم کو سمندر میں موجود خوفناک مخلوق کا لقمہ نہیں بننے دیا؟

 وہ کون ہے جس نے اتنے روز اسے نا موافق موسمی اثرات سے بچائے رکھا؟

 وہ کون ہے جو اسے اتنے روز کھلاتا پلاتا رہا؟

 وہ کون ہے جس نے سمندر کی تاریکی میں امدادی کارکنوں کو اس تک پہنچایا؟

نگاہیں جسے پا نہیں سکتیں لیکن وہ نگاہوں کو پالیتا ہے وہ نہایت باریک بین اور انتہائی باخبر ہے (قرآن)

'جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے' کی کہاوت متحدہ عرب امارات میں پیش آنے والے واقعے نے ایک بارپھر تازہ کر دی جب کہ ایک شیر خواربچی ایک کثیر منزلہ عمارت کی دسویں منزل سے نیچے گر کر بھی زندہ بچ گئی۔

اس تناظر میں اس آیت کا ترجمہ پڑھیں! رہی موت، تو جہاں بھی تم ہو وہ بہرحال تمہیں آکر رہے گی خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں ہو اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے، اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ تمہاری بدولت ہے کہو، سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے آخر ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی ۔

سورہ نسا آیت ۸۷ :یاد رکھیں زندگی موت کا مالک خدا ہے ہمیں ہروقت اللہ سے توبہ کرنی چاہیے اور زندگی کو اس کی رضا کے تابع گزارنا چاہیے کیونکہ ہم نہیں جانتے اگلے پل میں کیا ہونے والا ہے۔ اسی لیے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ناگہانی آفتوں سے پناہ کی دعامانگا کرتے تھے۔جس کے الفاظ یہ ہیں۔  

اے اللہ ! بے شک میں گر کر مرنے، دب کر مرنے،ڈوب کر مرنے اور جل کر مرنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ موت کے وقت شیطان مجھے اچک لے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ تیرے راستے میں پیٹھ پھیرتے ہوئے مارا جاؤں،اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میری موت (زہریلے جانورکے) ڈسنے سے واقع ہو۔


ای پیپر