Prof. Yasir Khakwani, Modern therapies, heart disease, Muhammad Awais Ghauri
23 جنوری 2021 (11:44) 2021-01-23

امریکہ کے ارب پتی بزنس مین ولیم کلیمنٹ سٹون نے بہت سی کتابیں لکھیں ٗ جن میں اس نے انسان کو ترقی کے راز بتانے کی کوشش کی۔ اس نے ایک بار کہا تھا کہ ’’آپ چاند کو نشانہ بنائیں ٗ بالفرض چوک بھی گئے تو کوئی ستارہ ضرور نشانے پر آجائے گا‘‘۔ 

وطن عزیز کے کہرے اور دھند میں لپٹے جمود زدہ ماحول میں ایک خبر نے دل میں خوشی سی بھر دی۔پاکستان میں اب بغیر سینہ چاک کئے ’’کی ہول‘‘ سرجری کے ذریعے دل کے مریضوں کے آپریشن کئے جا رہے ہیں۔دنیا میں دل کے امراض سے شفاء کیلئے جدید طریقہ علاج بروئے کار لائے جا رہے ہیں مگر وائے افسوس کہ پاکستان آج بھی وہی تیس سال پرانا طریقہ علاج رائج ہے۔ وہی سینے کے درمیان کی ہڈی جس کو بریسٹ بون کہا جاتا ہے اس کو کاٹا جاتا ہے ٗ دل کو تندرست و توانا کیا جاتا ہے اور پھر دوبارہ بریسٹ بون کو جوڑنے کیلئے سٹیل کی تاروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔سرجن رابرٹ ایچ گٹس دنیا کے وہ پہلے معالج تھے جنہوں نے 2 مئی1960 کو  امریکہ کے البرٹ آئن سٹائن کالج برائے میڈیکل برونز میونسپل ہسپتال میں سب سے پہلا ہارٹ بائی پاس کیا۔ امریکہ کے ہی سرجن کرسچین برنارڈ نے 3 دسمبر 1967 میں دنیا کاسب سے پہلا کامیاب ہارٹ ٹرانسپلانٹ کیا اور دل کے عوارض کی دنیا بدل کر رکھ دی۔جبکہ پاکستان میں یہ سہرا پروفیسر یاسر خاکوانی کو جاتا ہے  جنہوں نے دنیا کا پرتعیش لائف سٹائل ٹھکرا کر پاکستان میں واپس آنے کا فیصلہ کیا اور ملتان میں ’’کی ہول‘‘ سرجری کا آغاز کر کے پاکستان کو دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کی اپنی سعی کی۔ 

آپ کا تعارف پروفیسر یاسر خاکوانی سے کراتے ہیں مگر اس سے پہلے انسانیت کے ان محسنوں کا ذکر بھی کرتے چلیں  جنہوں نے پاکستان میں دل کے عوارض کے علاج کیلئے اپنی زندگیاں وقف کیں اور آج جتنے بھی مریض پاکستان میں دل کے علاج سے مستفید ہوتے ہی اس کا سہرا کہیں نہ کہیںانہی محسنوں کو جاتا ہے۔

پروفیسر ایم اے چیمہ اور پروفیسر رحمان پاکستان میں ہارٹ سرجری کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ پروفیسر ایم اے چیمہ نے میو ہسپتال کا شعبہ امراض دل قائم کیا ٗ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور کی داغ بیل ڈالی اور پھر ملتان میں انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا آغاز کیا۔ اسی طرح کراچی میں پروفیسر 

رحمن نے دل کے امراض کے ہسپتال کا آغاز کیا اور آج کل پشاور میں رحمن میڈیکل انسٹی چلا رہے ہیں۔پروفیسر انجم جلال نے ملتان اور اس سے قبل فیصل آباد میں دل کے عوارض کے ہسپتال قائم کئے اور ان دنوں بحیثیت چیف ایگزیکٹو پنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں فرائض سرانجام  دے رہے ہیں۔پروفیسر حیدر زمان نے ملتان انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں پروفیسر انجم جلال کے ساتھ مل کر دل کے ڈیپاٹمنٹ کا آغاز کیا۔ پروفیسر حیدر زمان کا سب سے بڑا کارنامہ پورے پاکستان میں ڈاکٹرز کو تربیت دینا ہے۔ پنجاب بھر میں جتنے بھی ہسپتالوں میں ڈاکٹرز خدمات سرانجام دے رہے ہیں ان میں سے زیادہ تر پروفیسر حیدر زمان کے شاگرد ہیں۔ اسی طرح پروفیسر رانا الطاف وہ ہستی ہیں جنہوں نے 2012 میں بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ملتان انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا انتظام سنبھالا اوردس سالوں میں انہوں نے اس ہسپتال کو پاکستان کے سب سے بلند مقام پر فائز کر دیا کیونکہ ان دنوں وہاں پر دل کی جدید ترین ’’کی ہول‘‘ سرجری ہو رہی ہے۔ ’’کی ہول سرجری ‘‘ کے بعد پروفیسر یاسر خاکوانی پاکستان کو طب کی دنیا کے کس مقام پر لے گئے ہیں اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ انگلینڈ جسے دل کے امراض کے علاج کے حوالے سے ایک منفرد مقام حاصل ہے وہاں پر صرف چار ہسپتال ایسے ہیں جہاں ہارٹ  ٹرانسپلانٹ کیا جاتا ہے جن میں کوئن الزبتھ برمنگھم ٗ کنگز کالج لندن ٗ لائل پرامٹن اینڈ ہیر فیلڈ ٗ لندن  شامل ہیں۔ یہ لائل پرامٹن وہی ہسپتال ہے جہاں پر سابق وزیراعظم نواز شریف بھی زیر علاج رہے ہیں۔ جبکہ ’’کی ہول‘‘برطانیہ میں بھی صرف تین ہسپتالوں میں کی جاتی ہیں۔ 

’’کی ہول‘‘ سرجری میں روایتی بائی پاس کی طرح مریض کو زیادہ تکلیف نہیں سہنی پڑتی۔ مریض کے سینے پر تین انچ کا کٹ لگایا جاتا ہے اور اس جگہ سے پسلیوں کے درمیان میں سے اس کے والز کھول دئیے جاتے ہیں۔ اس طریقہ علاج میں مریض کے صحت یاب ہونے کی شرح زیادہ ہے ٗ مریض کا خون کم ضائع ہوتا ہے اور اسے بائی پاس کی طرح دو ماہ بیڈ ریسٹ نہیں کرنا پڑتا بلکہ وہ ایک ہفتے میں ہی روزمرہ زندگی گزارنے کے قابل ہو جاتا ہے اور اس آپریشن کے بعد بائی پاس کی طرح  احتیاطیں بھی نہیں کرنا پڑتیں۔

مگر کی ہول سرجری علم جراحی کا ایک مشکل ترین فن ہے۔ پروفیسر یاسر خاکوانی پاکستان کی تاریخ کے سب سے پہلے اور واحد سرجن ہیں جو’’کی ہول‘‘ سرجری کا تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ دل کے عوا رض کے جدید طریقہ علاج  Velve repair AF ablation کے پاکستان میں واحد ماہر ہیں۔ اسی طرح وہ arrhythmia treatment جیسے جدید آپریشن میں بھی اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں۔  دو ماہ کے دوران ڈاکٹر یاسر خاکوانی نے 16 ’’کی ہول‘‘ بائی پاس آپریشن کئے ہیں۔ یہ تمام آپریشن فری کئے گئے ہیں جس کیلئے پروفیسر یاسر خاکوانی اور پروفیسر رانا الطاف نے انتھک محنت سے اس کو ممکن بنایا ہے۔ پروفیسر یاسر خاکوانی  دنیا کے اعلیٰ ترین صحت کے اداروں  کوئن الزبتھ برمنگھم ٗ کنگز کالج لندن ٗ لائل پرامٹن اینڈ ہیئر فیلڈ ٗ لندن  سے تجربہ حاصل کر کے پاکستان واپس آئے۔ انہیں برطانیہ میں دنیا کا بہترین انداز زندگی میسر تھا۔ ان کے پاس مہنگا ترین شاندار گھر ٗ لگژری گاڑیاں ٗ برطانیہ کی شہریت کی آفر تھی لیکن وہ جب پاکستان سے برطانیہ گئے تو ان کے ذہن میں اک خیال تھا کہ تجربہ حاصل کر کے پاکستان واپس آنا ہے۔ 

پاکستان میں کی ہول سرجری ٗ ہارٹ ٹرانسپلانٹ ٗ VELVE repair AF ablation  اور arrhythmia treatmentجیسے جدید طریقہ علاج اس لئے عام نہیں ہو پا رہے کیونکہ پا کستان کے جو ہونہار سرجن بیرون ملک سے اس کی تربیت لیتے ہیں وہ پاکستان  واپس ضرور آتے ہیں مگر چند ماہ بعد ہی دوبارہ بیرون ملک چلے جاتے ہیں جہاں انہیں اعلیٰ معیار زندگی میسر آتا ہے۔ایک ایم بی بی ایس کرنے والے ڈاکٹر کو دل کے امراض کا ماہر سرجن بننے کیلئے تقریبا 10 سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے اور پاکستان میں اس وقت دل کے سرجنوں کی تعداد ضرورت سے بہت کم ہے۔ کیونکہ دنیا بھر میں اس شعبے کے ماہرین کی بہت مانگ ہیں۔ پرکشش تنخواہیں ٗ شہریت ٗ لگژری گھر اور گاڑیاں ان کی منتظر ہوتی ہیں۔ مگر پاکستان میں کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی ٗ اور ہنر سیکھنے کے بعد یہاں کے عوام کی خدمت کرنے کو اپنا فرض جا نتے ہیں۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے محب وطن لوگوں کو پاکستان میں بھی زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیںکیونکہ یہی وہ لوگ  ہیں جوچاند پر نشانہ لگانے کی کوشش میں کئی ستارے ہماری جھولی میں ڈال دیتے ہیں۔


ای پیپر