پولیس افسروں کے قبضے!
23 جنوری 2021 2021-01-23

ہمارے ایک عزیز صحافی بھائی شعیب احمد نے اگلے روز اپنی فیس بک وال پر لگائی جانے والی اپنی ایک پوسٹ میں لکھا” جعلی ایماندار لوگوں کے قبضے چھڑوانے کے دعوے کرنے والے سابق سی سی پی اولاہور محمدعمرشیخ نے جی اوآرون لاہور میں سی سی پی او کی سرکاری رہائش گاہ (سی سی پی اوہاﺅس) اور گاڑی پر قبضہ کرلیا، ساری پولیس مِل کر قبضہ نہ چھڑواسکی۔ اوپیاجے باشن تے اوہ پئی جے نیویارک پولیس“ .... شعیب احمد کو اللہ جانے صرف ایک سابق سی سی پی او لاہور ہی اِس معاملے میں کیوں قصوروار دکھائی دیئے؟ وہ تحقیق کریں اور اِس پر بھی کوئی رپورٹ شائع کریں کہ پولیس کے بے شمار افسران نے ریٹائرمنٹ یا اپنے عہدے سے تبدیل ہونے کے کتنے عرصے یا کتنے برسوں بعد تک سرکاری گھروں، سرکاری گاڑیوں حتیٰ کہ سرکاری ملازمین پر قبضہ کیے رکھا، بلکہ اب تک کیا ہوا ہے؟۔ گوجرانوالہ رینج کے ایک سابق انتہائی خودپسند اور شہرت پسند نون لیگی آرپی او، جوخود کو خودبخود ہی ایماندار قرار دینے کی ہرجگہ کوشش کرتے رہتے ہیں اُنہوں نے بھی اپنی اِس ”مبینہ ایمانداری“ کے ”سنہرے اُصولوں“ اور ”جدیدتقاضوں“ کے مطابق تبدیل اور ریٹائرڈ ہونے کے کئی ماہ بعدتک سرکاری گھر، گاڑی وملازموں پر قبضہ کیے رکھا، ملازموں پر قبضہ تو حال ہی میں اُن سے چھڑوایا گیا ہے، کاش کوئی ایسا ایماندار، سخت گیر، میرٹ وانصاف پسند اور عہدے کی لالچ سے بالاتر آئی جی پنجاب تعینات ہو جو خود بھی سرکاری وسائل کا غلط استعمال نہ کرے اور قبضے پولیس افسروں نے ریٹائرمنٹ یا تبدیل ہونے کے جتنے عرصے بعدتک سرکاری گھروں، سرکاری گاڑیوں اور سرکاری ملازموں پر قبضہ کیے رکھا اُن سب سے اِس کا معاوضہ وصول کرکے یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع کروادے، ہمارے کچھ سول وپولیس افسران کی ”ایمانداری“ اللہ جانے صرف اِس حدتک کیوں ہے وہ ”نقدی“ وصول نہیں کرتے، دیگر معاملات میں ”نقب زنی“ کو وہ اپنے ”خودساختہ ایمان“ کا باقاعدہ حصہ سمجھتے ہیں، ریٹائرمنٹ یا تبدیل ہونے کے بعد دو، دو سرکاری گھروں، گاڑیوں اور ملازموں پر قبضے بھی اُن کے اِسی خودساختہ ایمان کا حصہ ہیں، .... ہمارے پیارے وزیراعظم نے وزارت عظمیٰ کا حلف اُٹھاتے ہی اعلان فرمایا تھا ” وہ تمام افسروں سے بڑے بڑے کنالوں اور ایکڑز پر مشتمل سرکاری بنگلے خالی کروالیں گے، اُن سے سرکاری گاڑیاں واپس لے لیں گے .... پھر کچھ ہی عرصے بعداُن کا یہ ”فرمان مبارک“ بھی وفات پا گیا،.... چلیں وہ اتنا تو کریں جس قدر سرکاری خزانے کی ”عقیدت“ میں وہ مبتلاہیںاُس کا ثبوت دیتے ہوئے واپس نہ لینے والا ایک حکم جاری کریں کہ ریٹائرمنٹ یا تبدیل ہونے کے بعد جتنے افسروں نے ناجائز طورپر دودوسرکاری بنگلوں گاڑیوں وملازموں وغیرہ پر قبضے کئے ہوئے ہیں یہ قبضے فوری طورپر اُن سے واگزار کروائے جائیں، علاوہ ازیں ناجائز طورپر جتنا عرصہ سرکاری وسائل پر وہ قابض رہے اُن کا باقاعدہ حساب کتاب کرکے اِس کا اُن سے معاوضہ وصول کیا جائے، ....مجھے یقین ہے وہ پر کبھی نہیں کریں گے، اپنے اقتدار کے اڑھائی برس گزرجانے کے بعد بھی وہ کچھ نہیں کرسکے تو اس کے زیادہ تر ذمہ داران وہ پولیس وسول افسران ہی ہیں جن کے بارے میں اقتدار میں آتے ہی اُنہوں نے فرمایا تھا ” ہم اُن سے بڑے بڑے بنگلے، گاڑیاں وغیرہ چھین لیں گے، اور اُن کے بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھائیں گے“.... محترم وزیراعظم اپنے اِسی ناقابل عمل بیان کا اب تک خمیازہ بھگت رہے ہیں، بیوروکریسی سے اُنہیں بے بس کردیا ہے، اِس ”بے بسی“ کا بدلہ وہ زیادہ سے زیادہ اِس صورت میں لے رہے ہیں کہ ہرچارچھ ماہ بعد افسروں کو تبدیل کردیتے ہیں، بندہ پوچھے اِس عمل سے اڑھائی برسوں میں کوئی بہتری نہیں آسکی آگے کیا آنی ہے؟، بلکہ اِسی سے تو مزید تباہی ہورہی ہے، ....افسوس ہمارا تقریباً سارا نظام ہی ”چورچوروں کے ہاتھ کاٹیں گے“ کے ”قول زریں“ پر مبنی ہے، اِس کی زندہ مثال یہ ہے باوثوق ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ کرپشن ہمارے اُس محکمہ اینٹی کرپشن میں ہوتی ہے جسے کچھ لوگ اب انٹی کرپشن کہتے ہیں، میراایک ”بلائینڈ فرینڈ“ محکمہ زراعت پنجاب کا افسر ہے، وہ کہتا ہے وہ چونکہ اندھا ہے اور ”انھی“ ڈالنا اُس کا ”حق“ ہے تو اُس کا تبادلہ محکمہ زراعت سے اینٹی کرپشن میں ہونا چاہیے“۔ اینٹی کرپشن میں کیا کیا گل کھلائے جاتے ہیں؟ کسی کو تفصیلات معلوم کرنی ہوں وہ پنجاب کی اینٹی کرپشن عدالت سے جاکر کرلے۔ سارے ” طریقہ واردات“ کُھل کر سامنے آجائیں گے ، .... یوں محسوس ہوتا ہے ہماری ” سرکار پاک“ اِس ملک سے صرف کرپشن ختم کرنا چاہتی ہے کرپٹ افسروں کو ختم نہیں کرنا چاہتی، ظاہر ہے کرپٹ افسران نہ رہے ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کو کرپشن کرنے کے نت نئے طریقے کون بتائے گا ؟؟؟، جہاں تک سرکاری گھروں پر ناجائز قبضوں کا معاملہ ہے آئی جی عہدے کے ایک ”فارغ افسر“ یعنی ریٹائرڈ افسر جِن کا باقاعدہ نام بھی اگلے کسی کالم میں لکھنے کی مجھے شاید ضرورت محسوس ہونے پولیس ٹریننگ سینٹر چوہنگ میں کتنے ہی برسوں سے ایک گھر پر ناجائز قبضہ کیاہوا ہے، المیہ یہ ہے یہ گھر خالی پڑا ہے، اِس میں صرف ”قبضہ“ رہتا ہے، یہ گھر اُن کے داماد کو الاٹ ہواتھا جو لاہور میں ایس پی سٹی تھا، پھر سندھ کے کسی علاقے میں وہ تعینات تھا جہاں نامعلوم وجوہات کی بناءپر اُس نے خودکشی کرلی تھی، اُس کے بعد یہ گھر ڈی آئی جی عہدے کے ایک افسر ہمایوںمسعود سندھو کو الاٹ ہوگیا، اُنہوں نے ہرممکنہ حدتک کوشش کی آئی جی عہدے کے ریٹائرڈ افسر اپنے داماد کے نام پر الاٹ ہونے والے اس خالی گھر کا قبضہ اُنہیں دے دیں، تاحال وہ بے چارے ناکام ہیں اور بے گھر بھی ہیں، قابض ریٹائرڈ آئی جی سے ایک بار میں نے پوچھا ” جب یہ گھر خالی پڑا ہوا ہے آپ نئے الاٹی کو قبضہ کیوں نہیں دے رہے؟ ، وہ فرمانے لگے ”اصل میں میری بیٹی نے کچھ عرصہ اِس گھر میں گزارا ہے۔ اُسے اِس کے درودیوار سے محبت ہوگئی ہے، ہم اِس لیے یہ گھرخالی نہیں کر رہے “ ، .... اُنہوں نے مجھ سے وعدہ کیا چار چھ ماہ بعد وہ یہ ”خالی گھر“ نئے الاٹی کے سپرد کردیں گے، افسوس اُن کے یہ ”چارچھ ماہ“، ڈیڑھ دوبرسوں بعد بھی نہیں آئے، مجھے تو یہ شک ہوتا ہے اِس گھر کو کسی مخصوص مقصد کے لیے اُنہوں نے پاس رکھا ہوا ہے، اللہ اُنہیں ہدایت دے اور اِس سے پہلے کہ یہ ایشو میڈیا یا عدالت کی زینت بنے وہ یہ گھر عزت سے خالی کردیں، اُنہیں سوچنا چاہیے کسی حق دار کا صبر قبر میں کہیں اُن کے داماد مرحوم کے لیے کسی عذاب کا باعث ہی نہ بن رہا ہو؟،....مجھے اِس موقع پر ایک عظیم پولیس افسر مرحوم جاوید نور یاد آرہے ہیں، وہ ایک انتہائی ایماندار اور شاندار پولیس افسر فیصل شاہکار کے سسر تھے، جاوید نور بیدیاں روڈ پر واقع ایلیٹ سینٹر میں پولیس کے ایک گھر میں رہتے تھے، ریٹائرمنٹ کے کچھ ہی عرصہ بعد وہ کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہوگئے، اُن دِنوں اُن کا ایک گھر ڈیفنس فیز سکس میں زیرتعمیر تھا، کوئی سرکاری افسر اپنی ریٹائرمنٹ کے تین ماہ بعد تک قانونی طورپر سرکاری گھر میں رہ سکتا ہے، اُنہیں مگر سرکاری گھر خالی کرنے کی بہت جلدی تھی ،سوشدید بیماری کی حالت میں بھی اپنے زیرتعمیر گھر کو جلدازجلد مکمل کروانے کی ہرممکن حدتک وہ کوشش کرتے رہے، تین ماہ سے کچھ دن پہلے ہی اُن کا یہ ذاتی گھرتیار ہوگیا اور وہ وہاں شفٹ ہوگئے حالانکہ وہ چاہتے ہمارے ”عمومی افسرانہ مزاج“ کے مطابق ریٹائرمنٹ کے تین برسوں بعدتک بھی سرکاری گھر میں وہ رہ سکتے تھے، اُن کا یک اور اعزازیہ ہے بطور ڈی جی آئی بی بوقت ریٹائرمنٹ اُس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے میری موجودگی میں اُنہیں مدت ملازمت میں توسیع کی پیشکش کی یہ داغ قبول کرنے سے اُنہوں نے معذرت کرلی تھی !! 


ای پیپر