نیا پاکستان زیادہ کرپٹ ہے
23 جنوری 2020 2020-01-24

آپ پاکستان کے ایک سینئر ترین بیوروکریٹ کو پکڑ لیتے ہیں، انیس ماہ تک جیل میں رکھتے ہیں، جب ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں ضمانت کے لئے درخواست دائر ہوتی ہے اور سوال ہوتا ہے کہ فواد حسن فواد کا موٹر وے سٹی اور پلازہ میں کتنا حصہ ہے تو نیب کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ یہ تو ملزم پارٹی ہی بتائے گی ، سوال یہ ہے کہ اگر یہ ملزم پارٹی نے ہی بتانا ہے تو آپ ڈیڑھ برس سے زائد عرصہ کیا تحقیق اور تفتیش کرتے رہے۔ ستم تو یہ ہے کہ آپ پاکستان کی تاریخ کے ایک کھرب روپے کے سب سے بڑے سکینڈل اور ریفرنس کی خبر تک جاری نہیں کرتے مگر جب آپ کے پراسیکیوٹر عدالت سے اچھی خاصی بے عزتی کروا کے آتے ہیں تو آپ اپنے بیٹ رپورٹرز کے ذریعے کردار کشی پر مبنی کچھ اورغیر مصدقہ اطلاعات جاری کروا دیتے ہیں۔ میں نے قومی احتساب بیورو کی جاری کردہ پریس ریلیزز دیکھی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر وہ کسی لیٹر ہیڈ پر نہیں ہوتیں، ان کے نیچے کسی کے دستخط نہیں ہوتے اور سادہ کاغذ پر لکھے ہوئے کچھ الفاظ ہوتے ہیں جسے کسی عدالت میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا۔

بات صرف فواد حسن فواد تک محدود نہیں ہے بلکہ ہر اس شخص کی ہے جسے سیاسی مخالفت کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا ہے ۔ کیا یہ امر ڈھکا چھپا ہے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کرنے کے بعد بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ایل این جی کی ڈیل میں ان پر الزامات کیا عائد کئے جائیں۔ کیا خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کے ساتھ ایک ڈراما نہیں رچایا جا رہا۔ عدالت میں نیب الزام لگاتا ہے کہ فلاں ، فلاں جائیداد تمہاری ہے ، تم نے نہ صرف اسے کرپشن کے پیسے سے بنایا ہے بلکہ اپنے گوشواروں میں بھی ظاہر نہیں کیا۔ جس پر الزام لگایا جاتا ہے اس کی طرف سے جواب آتا ہے کہ یہ جائیداد میری نہیںاور نہ ہی میرا اس سے کوئی تعلق ہے ، میں اس پر حلف نامہ دیتا ہوں۔ نیب کی طرف سے جواب آتا ہے دیکھا ، یہ شخص کرپٹ ہے اور اپنی آمدن کے ذرائع ثابت نہیں کر سکا۔ عدالت اس پر ریمانڈ میں ایک بار پھر توسیع کر دیتی ہے اور ملزم کو کبھی نیب کی تحویل میں اور کبھی جیل میں بھیج دیا جاتا ہے ۔ اگر کسی قانون کے ماہر سے پوچھیں تو یہ لطیفے ہیں جو تاریخ کی کتابوں میں لکھے جا رہے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ہر لطیفہ ایک المیے سے نکلتا ہے ۔ نیب کو ایک طرف رہنے دیں، اینٹی نارکوٹکس فورس نے مسلم لیگ نون پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ خان کو پکڑ کر کون سی نیک نامی کمائی ہے ۔ اگر کسی کو اس مقدمے کے سچے ہونے پر رتی برابر بھی یقین ہے تو اسے عدالت کا ضمانت کے بارے میں لکھا ہوا فیصلہ پڑھ لینا اچاہیے۔ ہمارے عدالتی فیصلے کہہ رہے ہیں کہ اب سیاسی مخالفت کی بنیاد پر مقدمے درج اور گرفتاریاں ہور ہی ہیں۔

اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ کیا نیب جیسے ادارے کی ضرورت ہے تو میں کہوں گا، ہاں ، ہمارے کرپٹ ترین معاشرے میں اس کی اشد ضرورت ہے ۔ یہ سوال ایسے ہی ہے جیسے آپ مجھ سے پوچھیں کہ کیا باورچی خانے میں چٰھری کی ضرورت ہے تو میں کہوں گا کہ اگر آپ نے گوشت سے سبزی تک کچھ بھی پکانا ہے تواس کے لئے چھری تو لازمی طور پردرکار ہو گی مگر کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کے پاس چھری ہو وہ اس چھری سے گھر والوں پر وار رکرتا پھرے ، ہمسائیوں پر حملہ کر دے، شہ رگیں کاٹتا پھرے، ایسے جنونی شخص سے چھری فوری طور پر واپس لے لینی چاہیے۔ بدعنوانی کے انسداد کے لئے ادارے انتہائی ضروری ہیں مگرانہیں حزب اختلاف کے خاتمے کے لئے استعمال کرنا بدترین سیاسی ظلم ہے ۔پچھلے چند برسوں میں کرپشن کے نعرے کو صر ف ایک سیاسی جماعت کی کردار کشی کے لئے استعمال کیا گیا ہے اور اب تک جتنے بھی مقدمات بنائے گئے ہیں انہیں غیر جانبدار عدالتوں میں ثابت کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ثابت ہو رہا ہے ۔

گذشتہ برس ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان دنیا کے 187 ممالک میں سے ایمانداری میں 117 ویں نمبر پر تھا وہ 120 ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے ۔ ہم نے ایک برس میں تین ممالک کو بے ایمانی میں پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ بدعنوانی بھی بڑھی ہے ، مہنگائی بھی بڑھی ہے اور بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ ہر وقت احتساب احتساب چیخنے والے ماضی کے حکمرانوں سے کہیں زیادہ کرپٹ ثابت ہوئے ہیں۔ میں بطور صحافی کہہ سکتا ہوں کہ جہاں ماضی میں لاکھ او رکروڑ کی کرپشن ہوتی تھی تو اس حکومت کا لیول ارب روپے کا ہے ۔ یہ ایک ہی ہلے میں چالیس چالیس ارب روپے اپنے پیاروں کے حوالے کر دیتے ہیں اور کوئی پوچھتا تک نہیں۔ میں اگر عمران خان اینڈ کمپنی کے بیانات پر یقین کرلوں کہ ماضی کے حکمران کرپٹ تھے تو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو سامنے رکھتے ہوئے کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ مہا کرپٹ ہیں جبکہ نااہلی اس سے الگ ہے ۔ موجودہ حکومت کا ایک طاقتور ترین آدمی پنجاب کے ایک ایسے ادارے پر قبضہ کرنے کے لئے تیار بیٹھا ہے جس کی بچت اس برس ایک ارب بائیس کروڑ روپے ہے ۔ جس کا بجٹ سولہ ارب سے زائد ہے ،میں سوشل سیکورٹی کے ادارے کی بات کر رہا ہوں جو پنجاب حکومت سے ایک روپیہ بھی نہیں لیتا بلکہ اس نے کنٹری بیوشن کے ذریعے اپنے ملازمین کی پنشن کے لئے بائیس ارب روپے کی خطیر رقم بھی منافع بخش منصوبوں میں انویسٹ کر رکھی ہے یعنی اس کے ملازمین کی تنخواہیں ہی نہیں بلکہ پنشن بھی سرکاری خزانے سے نہیں جاتی۔ میں اس پر ایک تفصیلی کالم بعد میں لکھوں گا کہ اس تاریخی واردات پر آج نیوز نائیٹ میں سوشل سیکورٹی کے ملازمین ہی نہیں بلکہ پنجاب بھر کے مزدور رہنما بھی اہم ترین انکشافات کریں گے۔

تبدیلی سرکار نے پاکستان میں کرپشن کو بڑھا دیا ہے جو پہلے ہر برس کم ہورہی تھی اور نیب نے کرپشن نے ریٹ بہت زیادہ بڑھا دئیے ہیں۔ تاجر کہتے ہیں کہ وہ جوکام پہلے پانچ ہزار روپے دے کر ہوجاتا تھا اب اسی کام کے پچاس ہزار سے پانچ لاکھ روپے تک مانگے ہی نہیں جاتے بلکہ زبردستی وصول بھی کئے جاتے ہیں۔ اس ایک ، ڈیڑھ برس کے اعداد وشمار دیکھتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ اس میں مہنگائی بڑھی ہے ، کرپشن بڑھی ہے ، بے روزگاری بڑھی ہے ، ناامیدی بڑھی ہے ۔ پہلے جو بات صرف ہم کہتے تھے اب عالمی اداروں نے بھی کہنا شروع کر دی ہے کہ نیا پاکستان پرانے پاکستان سے زیادہ کرپٹ ہے ۔


ای پیپر