کھلواڑ کا ذمہ دار کون ہے
23 جنوری 2020 2020-01-23

عمران خان کی حکومت کو برسراقتدار آئے کوئی ڈیڑھ برس کا عرصہ ہوا چاہتا ہے اور وقت کا سب سے بڑا سوال یہ ہے ان کے عہدِ اقتدار میں ملک کی زمامِ کار کس کے ہاتھوں میں ہے… کون منصوبہ بندی کرتا ہے… پالیسیاں کہاں وضع کی جاتی ہیں… ان کا اطلاق کس کے ہاتھوں سے ہوتا ہے اور کیا یہ پالیسیاں جو اس وقت تک سامنے آئی ہیں… ان کے اندر آپس میں کوئی ربط بھی پایا جاتا ہے… آسان لفظوں میں پوچھا جا سکتا ہے کہ وفاق کے مختلف محکموں کو کون چلا رہا ہے اور کیا صوبوں میں خاص طورپر جہاں تحریک انصاف کی براہ راست حکمرانی ہے مثلاً پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا … وہاں پر جو حکومتیں بٹھائی گئی ہیں… کیا اختیارات بھی ان کے پاس ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے تبدیلی کا نعرہ لے کر آنے والی حکومت کے سامنے کوئی واضح منزل بھی ہے اور اس کی سمت کا تعین بھی کیا جا سکتا ہے یانہیں… ایسا تو نہیں جیسا بظاہر حالات بتاتے ہیں… پورے کے پورے ملک کا نظم ونسق انتشار کا شکار ہے… اس کی کوکھ سے مسلسل خلفشار جنم لے رہا ہے اور کسی کو کچھ علم نہیں کہ یہ گاڑی اسی طرح تادیر چل پائے گی یا نہیں وفاق کے اہم ترین محکموں پر نظر ڈالئے… جہاں تک خارجہ امور اور دفاع کا تعلق ہے اس کے بارے میں ملک کے باخبر ترین افراد اور صاحبان نظروبصیرت سے لے کر گلی محلے کے چھابڑی فروش تک ہر کوئی جانتا ہے کہ اصل فیصلے کہاں ہوتے ہیں اور کون کرتا ہے… اگرچہ ڈیکوریشن پیس کی طرح ایک وزیرخارجہ مقرر ہے جو ہر وقت متحرک رہتا ہے … بیرونی ممالک کے دورے کرتا ہے اور پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر خارجہ پالیسی پر لمبے چوڑے بیانات بھی دیتا ہے… اس کے نیچے ملک کا دفتر خارجہ بھی پہلے کی طرح موجود ہے… جس کا ترجمان روزانہ کے حساب سے بیانات اور وضاحتیں جاری کرتا ہے… لیکن یہاں آ کر اس کی ساری کہانی ختم ہوجاتی ہے اور فیصلے وہ لوگ کرتے ہیں جن کے ہاتھوں میں پاکستان کی کسی بھی حکومت کو اقتدار کے سنگھاسن پر لا بٹھانے اٹھانے یا جب وہ مناسب سمجھیں اسے تخت سے اٹھا پھینکنے کی طاقت پائی جاتی ہے یہ ہمارے وہی بادشاہ گر ہیں جو دفاع کے امور کو خالصتاً اپنی اجارہ داری سمجھتے ہیں … اس محکمے کی صورت حال یہ ہے وزیر دفاع اتنا بھی متحرک نہیں جتنی تھوڑی بہت آزادی خارجہ امور والے وزیر کو دی گئی ہے… پرویز خٹک صاحب آج کل اس محکمے کے سربراہ ہیںلیکن امور دفاع کی ترجمانی تک وزارت دفاع کے پاس نہیں کسی اور کے سپرد ہے… یہ فریضہ فوج کا ترجمان ادارہ انجام دیتا ہے… جو براہ راست آرمی چیف کے ماتحت ہے… پالیسی سازی میں مشاورت تو دور کی بات ہے ترجمان ادارے کی جانب سے بھی وزیر دفاع کو کبھی گھاس ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی… شاید وہ اپنے دفتر میں جا کر محکمانہ Briefs سے متعلق دوچار کاغذوں پر دستخط کر دیتے ہوں گے اس کے علاوہ ان کا سارا دن سیاسی روابط والی سرگرمیوں میں گزر جاتا ہے… گویا دفاع کے امور وزیر دفاع کا دردِسر نہیں… ان دو اہم تر محکموں کے بعد اس شعبے کی جانب آیئے جس کا تعلق براہ راست پاکستان کے حقیقی مستقبل اور ایک عام آدمی کی فلاح و بہبود سے ہے یعنی محکمہ خزانہ اور اس سے متعلقہ جملہ امور… اس کی ساری کی ساری ذمہ داری جیسا کہ پوری قوم جانتی ہے آئی ایم ایف کے بیرونی ادارے پر ڈال دی گئی ہے… وزیر خزانہ ان کا ہے، سٹیٹ بینک کی گورنری ان کے ایک نامزد کے سپرد ہے اور اب تازہ ترین اقدام کے طور پر پاکستان کے قومی خزانے کے مالک اس بینک کا ڈپٹی گورنر بھی مرتضیٰ سید نامی ایک صاحب کو آئی ایم ایف کے کوٹے سے مقرر کردیا گیا ہے… دوسرے الفاظ میں پوری کی پوری معیشت امریکہ کے براہ راست اثرورسوخ میں چلنے والے اور وقتی قرض عطا فرمانے والے ایک مالیاتی ادارے کو ٹھیکے پر (Out source) دے دی گئی ہے… اس کا فوراً نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ پچھلی حکومت ملک کی مجموعی قومی پیداوار کو 5.8 فیصد تک کے بلندی کی جانب اڑنے والے نکتے پر لے گئی تھی… اب وہ آئی ایم ایف کے سبز قدموں کی بدولت 3 فیصد سے نیچے آن گری ہے اور بین الاقوامی مبصرین کی رائے ہے کہ اگلے دو ایک برس میں دو فیصد بھی کم رہ جائے گی… ٹیکسوں کی زیادہ سے زیادہ وصولی محکمہ خزانہ کی سب سے بڑی ذمہ داری ہوتی ہے… عمران خان نے دعویٰ کیا تھا اس کا فریضہ سرانجام دینے والے محکمے ایف بی آر کے اندر ایسی تبدیلیاں لائیں گے اور تاجروں کا اس پر ایسا اعتبار بڑھ جائے گا کہ و ہ خود آ کر ٹیکس جمع کرایا کریں گے… آج کی حالت یہ ہے کہ ایف بی آر کے چیئرمین شبرزیدی کو جنہیں بڑی آئو بھگت کے ساتھ لایا گیا تھا بالآخر اعتراف کرنا پڑا ہے کہ موجودہ ٹیکس نظام نہیں چل سکتا ناکامی کی طرف جا رہا ہے …

وفاقی حکومت کااگلا اہم ترین محکمہ اطلاعات کا ہے جو حکومت کی صبح شام کی کارکردگی کوعوام کے سامنے پیش کرتا ہے… اس کی سربراہی خاص انداز کے زبان و بیان کی ایسی ماہر خاتون کے سپرد کی گئی ہے جو کئی پارٹیاں اور سیاسی وفاداریاں بدلتی ہوئی پچھلے انتخابات سے ذرا پہلے تحریک انصاف کے دروازے پر آ کھڑی ہوئیں… ایم این اے کا ٹکٹ لیا… انتخاب لڑا بری طرح شکست کھا گئی… عمران خان نے وزارت عظمیٰ سنبھالتے ہی سب سے پہلے اپنے منتخب رکن اسمبلی کو اس کام پر مامور کیا تھا… ان کے بیانات اگرچہ چاردانگ عالم میں گونجتے تھے… موصوف مگر کسی کا پاس و لحاظ نہیں کرتے تھے… کئی لوگ تنگ آ گئے تو اس خاتون کوذمہ داری سونپی گئی… ان کے پاس ٹیلی ویژن پر آ کر بیانات دینے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوتا اس کے باوجود محترمہ اکیلی اس فریضے کو سرانجام نہیں دیتی، خدا جھوٹ نہ بلوائے درجن سے زائد ترجمان وزیراعظم ہائوس کے گرد منڈلاتے رہتے ہیںاور اپنے اپنے طور پر ترجمانی کے نمبر ایک دوسرے

سے بڑھ کر بناتے ہیں… یہ سب مختلف فکروخیال کے لوگ ہیں… ان کی سوچ ایک ہے نہ خیالا ت میں یکسانی پائی جاتی ہے… محترمہ مشیر اطلاعات کی مانند انہوں نے بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے اجڑے ہوئے کیمپوں سے نکل کر تحریک انصاف کے یہاں پڑائو ڈالا ہے… اور اکثرویشتر متضاد بیانات کے ذریعے ٹیلی ویژن ٹاک شوز پر آ کر وزیراعظم کی ذات اور ان کی پالیسیوں کی ترجمانی عوام کے سامنے رکھتے ہیں… نوبت جوتم بیزار تک آن پہنچتی ہے… ان میں سے ایک فیصل واوڈا تو نمونہ عبرت بنے ہوئے ہیں… یعنی پورا محکمہ اطلاعات چوں چوں کا مربہ ہے… کم و بیش یہی عالم دوسرے محکموں کا ہے… جن میں سے ملک کے اندر خوراک کی تقسیم کے ذمہ دار ادارے کی وہ کارکردگی سامنے آئی ہے کہ اشیائے صرف کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کے علاوہ گندم، آٹے اور چینی کے سٹاک کے بے دردی اور انتہائی غیرذمہ دارانہ طریقے سے استعما ل کی وجہ سے پورے ملک کے اندر ہاہاکار مچی ہوئی ہے… حکومتی وزراء کہتے ہیں کہ گندم کی کوئی قلت نہیں لیکن بازاروں میں آٹا دستیاب نہیں… شوگر مافیا ہر حکومت کے ذریعے بالادستی اختیار کرنے کے فن میں یدِطولیٰ رکھتا ہے لیکن لمحہ موجود کے اندر تو جو صاحب فوڈ اتھارٹی کے مدار المہام اصل چیئرمین ہیں اور جنہیں سپریم کورٹ باقاعدہ نااہل بھی قرار دے چکی ہے لیکن عملاً جیسا کہ ہرکوئی جانتا ہے انہیں اور ان کے ذاتی ہوائی جہاز کو وزیراعظم کی کرسی کو استحکام بخشنے کی خدمات بجا لانے میں تمغہ امتیاز کا درجہ حاصل ہے … خوراک کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور یہ جہانگیر ترین صاحب کا دم قدم ہے جس کی بدولت خوراک میں خودکفیل خدا کا عطا کردہ یہ ملک ایسی قلت کا منظر پیش کر رہا ہے کہ کسی حکومتی ترجمان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کی کیا توجیح کرے… کوئی کہتا ہے کہ گزشتہ ماہ اکتوبر میں وافر گندم ہونے کی وجہ سے چار کروڑ ٹن برآمد کرنے کی اجازت دی گئی لیکن یار لوگوں نے اپنے منافع کی خاطر بڑھا کر اسے 6 کروڑ ٹن کردیا… اس سے زیادہ بڑی مقدار میں سمگل کر دی گئی… کسی کا کہنا ہے کروڑوں ٹن اس طرح ضائع ہوئی کہ انسانوں کی خوراک مرغیوں کوکھلا دی گئی اور کوئی اب اس پر سٹپٹا رہا ہے گندم کی قلت کو سامنے رکھتے ہوئے جو درآمدی آرڈر دیئے گئے ہیں ان کے تحت دانہ ملک کے اندر پہنچتے پہنچتے مقامی فصل تیار ہو کر منڈیوں میں آنا شروع ہوجائے گی… یوں ہمارے کسان کی محنت ضائع جائے گی… لوگ درآمد کردہ گندم خریدیں گے یا کم از کم سرکاری ریٹ والی لیکن مقابلتاًمہنگی مقامی خوراک کی روٹیاں کھائیں گے… گویا ایک نیا بحران سر اٹھانے کو تیار ہے… اس طرح دیکھئے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت کا سب سے بڑا نشان امتیاز یہ ہے کہ اس کی کوئی پالیسی نہیں کسی منصوبہ بندی کے تحت کام نہیں ہو رہا ، جس سمت کی جانب جا رہی ہے اس کا خود حکومت والوں کو علم نہیں اور جو حقیقی معنوں میں اس کی گاڑی چلا رہا ہے اس کو کوئی جانتا نہیں… ان سطور کے آغاز پر خارجہ پایسی کا ذکر ہوا تو عرض کیا گیا کہ اسے چلانے والا کوئی اور ہے مگر جو بھی ہے اس کی زیرنگرانی کیا برگ و بار لا رہی ہے… دودن پہلے ڈیووس میں وزیراعظم کی صدر ٹرمپ سے ملاقات ہوئی… انہوں نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کردار ادا کرنے کا جھانسہ دیا… ایسی پیشکش موصوف نے گزشتہ 22 جولائی کو عمران خان کے دورئہ وائٹ ہائوس پر بھی کی تھی… تب خیال کیا گیا چونکہ موجودہ صدر امریکہ کا بھارتی وزیراعظم مودی کے ساتھ ذاتی اعتماد کا تعلق ہے اسی لئے شاید انہوںنے ثالثی کی پیشکش کی ہو… لیکن یہ سب کچھ فریب نظر ثابت ہوا اس کے فوراً بعد 5 اگست کوبھارتی وزیراعظم نے نہایت درجہ سفاکی کے ساتھ قدم اٹھاتے ہوئے اپنے ہی آئین کے آرٹیکل 370 اور ذیلی دفعہ 35اے کو پائوں تلے روندتے ہوئے کشمیر کا انضمام کر لیا… اس کی جداگانہ حیثیت ختم کر کے رکھ دی… اور ہمارے پاس احتجاجی بیانات دینے کے علاوہ کچھ نہ رہا… سلامتی کونسل کے دو خفیہ اجلاس ہوئے لیکن وہاں سے قرارداد تو دور کی بات تھی پاکستان یا کشمیر عوام کے حق میں ایک بیان بھی جاری نہ کیا گیا… واحد ملک چین ہے جو اس بات میں ہمارا دم ساز بن کر سامنے آیا لیکن اس حوالے سے ہمارے خارجہ امور کی جان کنی کا یہ عالم ہے کہ عین اس وقت جبکہ صدر امریکہ ٹرمپ اور وزیراعظم پاکستان عمران خان ڈیووس میں ایک دوسرے کے ساتھ بظاہرخوشگوار ملاقات کر رہے تھے امریکہ بہادر کی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز پاکستان میں موجود ہیں اور انہوں نے باردگر سی پیک کے خلاف بیان داغ دیا ہے… ایک مرتبہ پھر گویا ہوئی ہیں کہ اس منصوبے میں حصہ داری پاکستان کو بہت مہنگی پڑے گی… اب بھی دستبردار ہو جائے تو بہتر ہو گا… حالانکہ امر واقع یہ ہے جیسا کہ اس امریکی خاتون ڈپلومیٹ کے گزشتہ دورہ اسلام آباد میں اس پر واضح کردیاگیا تھا کہ چین کی جانب سے ملنے والے جن قرضوںکی جانب وہ اشارہ کر رہی ہیں وہ عالمی منڈیوں کے معیارات کو سامنے رکھتے ہوئے ہر لحاظ سے سستے ہیں، شرح سود کم تر ہے اور واپسی کا عرصہ لمبا، پاکستان پر زیادہ بوجھ پڑنے والا نہیں جبکہ اس میں شرکت ہماری معیشت کے لئے کہیں زیادہ سودمند ثابت ہو گی تاہم امریکہ کو منظور نہیںہے کہ چین اس منصوبے کے حوالے سے خطے پر اس طرح چھا جائے کہ واحد سپر طاقت اور بھارت دونوں کے لئے برداشت کرنا مشکل ہو جائے… لہٰذا پاکستان پر مسلسل دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ سی پیک کو ترک کر دو… جبکہ حکومت ہماری صرف اتنی بات پر بچھتی چلی جا رہی ہے کہ امریکہ نے کشمیر پر ایک دفعہ پھر ثالثی کی پیشکش کردی ہے … جس کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے کہ کچھ حاصل ہونے والا نہیں… یہ ہے وفاقی محکموں کی حالت زارکی ہر ایک کونظر آنے والی تصویر… جس کے اندر سے ملک کا تاریک ہوتا مستقبل ہر دیکھنے والے کو نظر آ رہا ہے…

ملک کی سب سے زیادہ آبادی والے اور بااثر ترین سیاسی کردار کے مالک صوبہ پنجاب کی عمومی گراوٹ کی صورت حال یہ ہے جہاںمٹی کے ایک مادھو کو وسیم اختر پلس کا نام دے کر جناب وزیرعظم نے صوبائی وزیراعلیٰ کا منصب عطا کر رکھا ہے… اس کی ناکامیوں کے چرچے زبان زدعام ہی نہیں بلکہ حکومت کے اندرونی حلقوں میں بھی سخت تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں… یہ معروضات قدرے طویل ہو گئی ہیں جن کی بنیاد پر پنجاب میں تیزی سے بگڑتی انتظامی صورت حال کی تفصیل میں جانے کا موقع نہیں لیکن مضحکہ ترین کیفیت یہ ہے وزیراعلیٰ عثمان بزدار صاحب کے اختیارات کو ان کے دفتر اور سیکرٹریٹ تک محدود کر کے رکھ دیا گیا ہے… اصل احکام چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس جاری کرتے ہیں… جن پر اوپر سے حکم نازل ہوتاہے… دوسرے الفاظ میں رہی سہی صوبائی خودمختاری نسیاً منفیاً ہو کر رہ گئی ہے… اور اب تازہ ترین خبر یہ ہے واضح اکثریت سے محروم حکومت کو بیساکھی کا کام دینے والے پنجاب کے ایک مؤثر سیاسی گروپ نے اپنا اثرورسوخ اس حد تک بڑھا لیا ہے کہ بعض اضلاع میں جہاں وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا خاندانی ووٹ بینک پایا جاتا ہے ان کی براہ راست حکمرانی قائم ہوچکی ہے اور باقی اضلاع کوبھی ہمارے یہ چودھری برادران حکومت کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی چادر کی لپیٹ میں لے لینے کے در پے نظر آتے ہیں… اس میدان میں بھی عمران خان کی بے بسی ملاحظہ کیجئے کہ باہمی شکر رنجی کی بنا پر ان کے اور چودھری پرویز الٰہی کے درمیان ملاقات تک نہیں ہو پا رہی… لیکن پنجاب گجرات والوں کی جھولی میں گرتا نظر آرہا ہے… تو کیا عمران خان کو صرف وزارت عظمیٰ کا عہدہ چاہیے تھا… وہ بھی محض پروٹوکول والا جس کی خاطر انہوں نے منتخب کی بجائے سلیکٹڈ ہونے کا طعنہ قبول کر لیا… لیکن اصل اختیارات کو اپنی گرفت میں نہ رکھ سکے … نتیجہ اس کا یہ ہے کہ حامی اور مخالف سب حکومت کے ماتھے پر ناکام اور نااہل ہونے کا لیبل چسپاں کرنے میں متفق معلوم ہوتے ہیں جبکہ احتساب کا جو نعرہ موصوف نے حکومت سنبھالنے سے پہلے اور بعد میں بھی بڑی بلند آواز بلکہ گلا پھاڑ پھاڑ کر لگایا تھا وہ مذاق بن کر رہ گیا ہے… لہٰذا فطرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملک و ملت کو اس حالت تک پہنچانے کا اصل ذمہ دار کون ہے… وہ جنہوں نے ہمارے کرکٹ کے کھلاڑی کو ووٹ دیئے یا وہ جنہوںنے مقابلتاً تھوڑے ووٹوں والے غبارے میں زیادہ ہوا بھر کر اسے ما قبل کی منتخب حکومت کی جگہ عطا فرمائی…یہ قوتیں کون ہیں اور کہاں بیٹھی ہیں ان کے بارے میں بھی کسی کو کوئی شبہ نہیں ہے کہ کون کیا ہے اور کیا نہیں آخری تجزیے میں ملک کی قسمت کے ساتھ اتنے بڑے کھلواڑ کی ذمہ داری کس پر عائد کی جاسکتی ہے…


ای پیپر