غذائی بحران: ’’ہمارے دل سے مت کھیلو!‘‘
23 جنوری 2020 2020-01-23

آپ نے سرکس میں خوبرو لڑکی کو رسے پر چلتے دیکھا ہو گا کہ وہ کتنی مہارت سے اپنا توازن قائم رکھتی ہے کیونکہ اس کے پاس غلطی کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہوتی وہ نہ زمین پر ہوتی ہے اور نہ آسمان پر اپنی چال میں ذرا سی غلطی اسے بلندی سے زمین پر پٹخ سکتی ہے گویا زندگی اور موت میں ایک قدم اور ایک سکینڈ کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اقتدار کی سیاست اس سے زیادہ مشکل کام ہے سرکس کے رسے سے گرنے والی فنکارہ تو ہو سکتا ہے بچ جائے مگر سیاست میں عوام کی نظروں سے گرنے والا سیاستدان اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ تلوار زنی کا وہ قدیم کھیل ہے کہ جو ایک بار مخالف کے وار سے گر گیا وہ دوبارہ کھیل میں واپس نہیں آئے گا مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت کا کوئی دشمن میدان میں نہیں جو ان کے لئے خطرہ بن سکے مگر وہ پھر بھی پے در پے اپنے آپ سے مصروف جنگ ہیں۔ ایک سین ختم ہوتا ہے تو دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔

گزشتہ ہفتے جب وفاقی وزیر برائے آبی ذرائع فیصل واوڈا ایک ٹی وی ٹاک شو میں جوتا میز پر رکھ کر اپنے مخالفین کو بے عزت کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو ان کی یہ انوکھی اور احمقانہ تدبیر الٹی ہو گئی اور میڈیا عوام اور سیاسی مخالفین سب نے متفقہ طور پر ان کی اس اوچھی حرکت کو سخت ناپسند کیا یہاں تک کہ آرمی چیف کو وزیراعظم سے ملاقات کرنی پڑی کہ فوج کو ان معاملات میں نہ گھسیٹا جائے۔ یہ وہی وزیر ہیں جو شوبازی کے شوق میں چینی قونصل خانے پر دہشت گرد حملے کے دوران سستی شہرت کے حصول کے لیے پستول لے کر وہاں پہنچ گئے تھے جس کی وجہ سے پولیس آپریشن میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں مگر پارٹی نے ان کو کوئی سزا نہیں دی۔ اس قماش کے سیاستدانوں نے قومی سطح پر اختلاف رائے، تحمل ، برداشت اور اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر سیاسی روایات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ ٹی وی پر آ کر ایسی ایسی زبان استعمال کی جاتی ہے کہ سننے والے کو شرم آتی ہے مگر اس دفعہ تو پانی سر سے گزر گیا جب موصوف نے ملٹری بوٹ لا کر میز پر سجا دیا۔

قومیں غلطیوں سے نہیں ہٹ دھرمی سے تباہ ہوتی ہیں چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت اور پارٹی کی طرف سے اس گھٹیا حرکت پر ان کے باز پرس کی جاتی یا کوئی تادیبی کارروائی ہوتی یا انہیں وزارت سے ہٹایا جاتا ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی، انہیں وزیراعظم نے بلایا اور کہا کہ دو ہفتے ٹی وی پر تشریف نہ لائیں جبکہ پیمرا حرکت میں آئی اور مذکورہ پروگرام کے اینکرپرسن کو 2 ماہ کے لیے بین کر دیا گیا۔ پیمرا کو بھی یہ جرأت نہیں ہوئی کہ وہ وزیراعظم یا سپیکر قومی اسمبلی کو فیصل واوڈا کے خلاف کارروائی کی سفارش ہی کر دیتے۔ فیصل واوڈا کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ وزارت تک پہنچے ہیں۔ سپانسر شپ کی سیاست کی وجہ سے ملک میں حقیقی تبدیلی کی منزل ابھی بہت دور ہے۔ فیصل واوڈا تمام اخلاقی دباؤ سے بری الذمہ ہیں اور انہوں نے ابھی تک اپنے اس فعل پر معافی نہیں مانگی ہمارے ہاں غلطی تسلیم کرنے کی روایت ہی نہیں ہے بلکہ غلطی کا دفاع کیا جاتا ہے اور اس ناکام دفاع میں مزید حماقتیں کی جاتی ہیں۔ کرنل شفیق الرحمن مرحوم نے اپنی ایک مزاحیہ کتاب کا نام حماقتیں رکھتا وہ اتنی زیادہ مقبول ہوئی کہ انہوں نے اپنی دوسری کتاب کا نام مزید حماقتیں رکھ دیا۔ ہمیں حکمران جماعت کی موجودہ طرز سیاست کرنل شفیق الرحمن کا ناول لگتی ہیں۔ مثلاً ٹی وی پر جوتا لہرانا اسے ٹیبل پر رکھنا اس کی کوئی سزا نہیں مگر کاشف عباسی کا جوتے کو دیکھ کر ہنسنا قابل سزا ہے جس پر انہیں 2 ماہ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی اثناء میں وزیراعظم عمران خان نے حکومت پارٹی اور اتحادیوں کے ساتھ ملاقات میں اس عزم کا دوربارہ اظہار کیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو کسی قیمت پر نہیں ہٹایا جائے گا۔ ق لیگ کہتی ہے کہ 300 سے زیادہ اہم پوسٹوں پر غیر منتخب افراد کو رکھا گیا ہے مگراس میں انہیں حصہ نہیں دیا گیا۔ کابینہ کے اجلاس میں بھی پنجاب میں گورننس میں بہتری کے لیے بزدار کو ہٹانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے مگر وزیراعظم ٹس سے مس نہیں

ہوتے ۔ ستاروں کے علم کے ماہرین نے انہیں بتا دیا ہے کہ جس دن بزدار گھر چلا گیا اس دن عمران خان وزیراعظم نہیں رہیں گے اس لیے عمران خان سیاست میں سارا کچھ برداشت کر سکتے ہیں مگر بزدار کے معاملے میں یوٹرن نہیں لے سکتے۔ یہ ان کی بقاء کا مسئلہ ہے۔ جان توسب کو پیاری ہے مگر خدشہ یہ ہے کہ عثمان بزدار کو بچاتے بچاتے کہیں ایک وقت ایسا نہ آجائے کہ پوری کشتی ہی ڈوب جائے۔ کیونکہ کشتی پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔

مہنگائی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ اب تو خوشحال طبقہ بھی مہنگائی کے ہاتھوں تنگ نظر آتا ہے۔ اسی اثناء میں ملک میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے (ن) لیگ کی حکومت میں آٹے کا ریٹ 40روپے کلو تھا جو اب 70 سے 80 روپے تک ہو چکا ہے۔ مڈل مین اور فلور مل مافیا نے گندم کاشتکار سے 1200روپے فی من خرید کر ذخیرہ کر لی جو اب 2000 روپے من میں بھی دستیاب نہیں۔ وزیر فوڈ سکیورٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک میں گندم کا وافر ذخیرہ موجود ہے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ دسمبر اور جنوری میں لوگ روٹی زیادہ کھاتے ہیں آٹے کا بحران پیدا ہوا ہے اتنی غیر سنجیدہ گفتگو پر ہم تبصرہ کرنے سے قاصر ہیں۔ وزیر فوڈ سکیورٹی خسرو بختیار کے بیان کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ حکومت کی اقتصادی کمیٹی ECC کے اجلاس میں 4لاکھ ٹن گندم فوری درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اطلاعات ہیں کہ مہنگے داموں خریدی جانے والی یہ گندم 15 فروری سے پہلے نہیں پہنچ سکتی۔ حکومت نے پہلے تو بلا سوچے سمجھے سستے داموں گندم ایکسپورٹ کر کے نقصان پہنچایا اب مہنگے داموں خرید کر عوام کو نقصان پہنچایا جائے گا۔ وزیر کہتا ہے کہ وافر ذخیرہ موجود ہے کابینہ کہتی ہے فوری طور پر باہر سے لا رہے ہیں عجیب حشر برپا ہے۔ حکومتی نا اہلی بے حکمتی اور عاقبت نااندیشی کا دور دورہ ہے پتہ نہیں اس کا انجام کیا ہو گا۔ کوئی شخص کوئی کمیٹی ، کوئی ادارہ اپنی غلطی تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ اس حکومت کو کسی اپوزیشن کی ضرورت ہی نہیں ہے یہ خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار نے میں خود کفیل ہے۔

اب یہ کہا جا رہا ہے کہ گندم افغانستان سمگل ہو گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ کس کی غلطی ہے۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ فلور مل مالکان نے گندم ذخیرہ کر لی ہے اگر یہ وجہ درست ہے تو بھی حکومت کی نا اہلی اس میں شامل ہے۔ وجہ کچھ بھی ہو ملک کو تاریخ کے بد ترین آٹا بحران سے دو چار کر کے اب صرف بہانے بنانے سے کام نہیں چلے گا۔ کھیل کے میدان سے سیاست ااور حکومت تک پہنچنے والے وزیراعظم ہر بات میں کرکٹ اور کھیلوں کی زبان اور محاورے استعمال کرتے ہیں جیسے یہ ملک کھیل کا میدان ہو۔ کھیل کے میدان کا ہی ایک محاورہ ہے کہ فاتح کھلاڑی ٹرافی لے کر آتا ہے جبکہ شکست خوردہ کھلاڑی اپنی شکست کا جواز پیش کرتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نا کامی ناکامی ہی ہوتی ہے اس کا جواز ہو یا نہ ہو۔ سیاست اور حکمرانی کے کھیل میں نتائج دیکھے جاتے ہیں اگر آپہ زیرو پر آؤٹ ہو جائیں تو قوم آپ کے سپورٹس مین سپرٹ کو کیا کرے گی۔ یہ 22 کروڑ لوگوں کی زندگی کا معاملہ ہے جو آپ کے غلط تجربوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔ قوم کے جذبات کے ساتھ کرکٹ کھیلنا بند کریں۔


ای پیپر