خشتِ اول کے معمار کی تلاش
23 جنوری 2020 2020-01-23

مسلم اُمّہ کو معاشی ، سیاسی اور سماجی مسائل کا سامنا تو ہے ہی سہی لیکن بنیادی مسئلہ ترکِ تقلید ، اجتہاد کا بند دروازہ کھولنے اور روحانی جمہوریت کا قیام ہے۔ چند روز قبل فرزندِ اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کا ایک انٹرویو

گرامی قدر جناب مجیب الرحمٰن شامی کی زیرِ دارت شائع ہونے والے قومی ڈائجسٹ

کے نومبر ۲۰۱۴ ء کے شمارے میں ان کے انٹرویو سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ بحیثیت قوم جہاں ہماری اور بہت سی کمزوریاں ہیںا ن میں ایک یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنے دانشوروں اور قومی شخصیات کی فکر و دانش سے استفادہ کی بجائے انہیں ایک تہوار یا ایک مخصوص موقع تک ہی محددود کردیا ہے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب کی بصیرت ، فہم اور قومی و ملکی معاملات کو تاریخی اور فلسفیانہ پس منظر میں دیکھنے کی صلاحیت کے حوالے سے یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ:

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے

ڈاکٹر صاحب علم اور قدرو منزلت کے جس مرتبے پر فائز تھے ان کی گفتگو اور فہم سے استفادہ کے لیے بھی ایک خاص علمی سطح کا ذہن درکار ہے جوبذات خود ایک وسیع المطالعگی کا متقاضی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے انٹرویو سے ایک طالبِ علم کے ذہن میں چند سوال پیدا ہوتے ہیں جن کی وضاحت ضرور ی ہے ۔ اگرچہ ڈاکٹر جاوید اقبال اب اس دنیا میں موجود نہیں ہیں لیکن امید ہے کہ صاحبانِ علم طالب علم کے ان سوالات پر روشنی ڈال سکیں گے۔

۱۔ ڈاکٹر صاحب نے عورت کی حکمرانی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’ اسلام میں ایسی کو ئی قد غن نہیں کہ عورت حکمران نہیں بن سکتی۔ اگر جنگ جمل میں ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کو شکست نہ ہوتی تو شاید یہ بات صحابہ کرام ؓ کی موجودگی میں ہی حل ہوجا تی اور عورت کی حکمرانی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہوجاتا کیونکہ پھر حضرت عائشہ ؓ مسلمانوں کی خلیفہ بن جاتیں‘‘۔

یہاں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا خلفیہ وقت کے تقر ر اور انتخاب کا میعار جنگ کی فتح و شکست کے نتیجے میں ہو گا ؟ یا پھر خلیفہ وقت کا انتخاب ان کی اہلیت کے مطابق ہوگا جس کا فیصلہ قرآن پاک کے حکم کے مطابق مسلمانوں کی باہمی مشاورت سے طے پائے گا ؟۔ عورت کی حکمرانی کے حوالے سے جس مثال کو ڈاکٹر صاحب نے بیان فرمایا ہے وہ خلیفہ وقت اور خاص کر عورت کی حکمرانی کے انتخاب کے طریقہ کار کے موقع سے مناسبت نہیں رکھتی۔

۲۔محترم ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب نے ’’ مسلم امہ کے زوال کا بنیادی سبب نہ صرف ملوکیت اور ملائیت کو قرار دیا بلکہ انہوں نے موجودہ جمہوری نظام کو آڑے

ہاتھوں لیتے ہوئے اس میں موروثیت کو بھی اندرونِ خانہ بادشاہت قرار دیا ہیـ‘‘۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ ’’ موجودہ جمہوریت کا اقبال ؔ سے کوئی تعلق نہیں اقبال ’’روحانی جمہوریت‘‘ کو پسند کرتے تھے جس سے مراد وہ یہ لیتے تھے کہ آپ تہذیبی طور پر اتنے بلند ہوجائیں کہ ہر مذہب کااحترام کریں‘‘۔

ڈاکٹر صاحب نے بنیادی نکتہ کی طر ف نشاندہی کی ہے۔ مگر ڈاکٹر صاحب اسی جمہوری نظام کے تحت ۱۹۷۰ ء ؁ کے عام انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں جس میں ان کی سرپرستی ایک طرف سرمایہ داروں کے نمائندے میاں شریف صاحب نے فرمائی اور دوسری جانب ایک بڑی مذہبی جماعت جماعت اسلامی کے سربراہ مولانا مودودی صاحب نے فرمائی۔ یہاں اس حقیقت کو بھی سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ جس ملوکیت اور ملائیت کو ڈاکٹر صاحب ملت اسلامیہ کی زبوں حالی کا سبب قرار دیتے ہیں جو کہ بالکل بجا ہے، لیکن موجودہ سرمایہ دارانہ و جاگیر دارانہ ذہنیت نے بھی اسی ملوکیت اور ملائیت کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ علامہ اقبال نے اپنی کتاب ’’ علم الاقتصاد‘‘ میں سرمایہ دارانہ نظام کی قباحتوں اور اس کے منفی پہلوئوں کا پردہ جس طرح چاک کیا ہے وہ قابلِ مطالعہ ہے۔

گرامی قدر ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب تقریباََ ایک دہائی قبل اسی جمہوری نظام کے تحت قائم ہونے والی سینٹ کے رکن بھی رہے ہیں ۔ تقریباََ تین سال قبل جب زمانہ شناس افراد کی ایک اکثریت یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ اب اقتدار کا ہُما تحریک انصاف کے سر پر بیٹھا ہے تو ڈاکٹر صاحب کے فرزند ولید اقبال نے اسی جمہوری نظام میں ۲۰۱۳ء کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر حصہ لیا ۔ جنھیں ڈاکٹر صاحب نے اپنی موجودگی میں تحریک انصاف میں شامل کروایا۔ ڈاکٹر صاحب کے فرمودات اور ارشادات اپنی جگہ درست لیکن میری معلومات کے مطابق فرز ندان ِ اقبال نے اقبالؔ اور جناح کے پاکستان کی تعمیر کے لیے کسی ایسی تحریک کی سرپرستی فرمائی ہے اور نہ ہی کسی ایسی تحریک کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی ہے ۔ درحا لا نکہ علامہ اقبال فلسفہ اور شاعری کے ساتھ عملی سیاست میں بھی پوری طرح سرگرم رہے اور پوری شدت کے ساتھ جاگیر دارانہ و سرمایہ دارانہ ذہنیت اور ملائیت کے خلاف رہے ۔ اس کے برعکس فرزندان اقبال کا انتخاب مسلم لیگ (ن)اور تحریک انصاف ٹھہری ہیں ، جن کو روحانی جمہوریت تو دور کی بات مغربی جمہوریت سے بھی دور تک کوئی نسبت نہیں ہے۔

۳۔ ایک جانب ڈاکٹر صاحب اپنی کتاب ’’ اپنا گریباں چاک ‘‘ صفحہ نمبر ۲۷۳ پر رقم طراز ہیں کہ ’ ’ دراصل پاکستان ناکام ریاست نہیں بلکہ اس کی موجودہ قیادت ناکام نسل کے ہاتھ میں ہے‘‘ دوسری جانب اپنے انٹرویو میں وہ اسی قیادت کو جس کی رگ رگ میں نظریاتی اور مالی بدعنوانی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، عہد خلافت راشدہ کے انتظامی و عدالتی اختیارات تفویض کرنے کی توثیق فرماتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے اسباب زوال ِ امت کا ایک سبب تقلیدی سوچ اور جامد فکر کو قرار دیتے ہوئے اجہتاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ’’ سرسید نے کہا تھا کہ اگر مسلمانوں نے تقلیدی سوچ کو نہ چھوڑا تو ہندوستان میں مسلمانوں کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ علامہ اقبال نے بھی تقلید کو معتوب کرتے ہوئے اجتہاد پر اصرار کیا ۔ اقبال کی اجتہادی فکر کا محور قرآن حکیم ہے کیونکہ قرآن ہمیشہ کے لئے انسانیت کا رہنما ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ قرآن کی بعض تفاسیر اگلے زمانوں میں جاکر ہونا ہیں اور اسلام کی عظمتوں کا کارواں اجتہادی عمل ہی سے آگے بڑھے گا‘‘ ۔ یہاں علامہ اسلم جیراج پوری کا یہ فقرہ نقل کرناچاہوں گا کہ ’’ ہم قرآن پاک کو اتنا ہی سمجھ سکتے ہیں جتنا کہ ہمارے عہد کا علم‘‘۔

ڈاکٹر صاحب نے انٹرویو میں دینی مدارس میں جدید علوم اور جدید تعلیم کے اسکولوں میں دین کی تعلیم کے احیاء کو نسلِ نو کے لیے تازہ فکر اوراپنی گمشدہ منزل کو پانے کا کلیدی ذریعہ قرار دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کی ترقی کے لیے جن دو اقدامات کو ترجیح دینی چاہیے وہ آبادی پر کنٹرول اور تعلیم کی ترویج ہے۔ کیونکہ اقبال کا نقطہ نظر بھی یہی تھا کہ موجودہ فرنگی تعلیم صرف اچھے غلام پیدا کرسکتی ہے۔

ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم نے جن نکات اور اقدامات کی طرف نشاندہی کی ہے ان کے بارے میں کوئی دوسری رائے نہیں ہوسکتی لیکن ڈاکٹر صاحب نے ان اقدامات کے عملی پہلوئوں کی طرف نشاندہی نہیں کی ہے کہ ترک تقلید کی ابتدا کہاں سے ہوگی ؟ اجتہاد کا بندباب کھولنے میں حائل روکاو ٹیںکیسے دور ہونگی ؟ جمہوریت کے لباد ے میں مور وثیت کا خاتمہ کیسے ہوگا ؟ روحانی جمہوریت کے قیام کے لیے کن مراحل سے گذرنا ہوگا ؟ اور رجعت پسند ملائیت سے نجات کس طرح ممکن ہوگی ؟

سنتے ہیں جو بہشت کی تعریف سب درست

لیکن خدا کرے، وہ تیری جلوہ گاہ ہو!

یہ بات طے ہے کہ مسلم امہ کو جن مسائل کا سامنا ہے ان کا دیرپا اور پائیدار حل کسی قانون کے نفاذ کے ذریعے ممکن نہیں کیونکہ کسی بھی قوم کی حالت سدھار نے اور بوسیدہ استحصالی نظام کی یکسر تبدیلی کے لیے انقلاب اور انتخابات سے پہلے اولین تقاضہ تربیت ، تلقین اور تعلیم ہی کا ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس عظیم عمارت کی بنیاد کے لیے خشتِ اول کے لیے معمار کون ہوگا ؟ نرگس کب تک اپنی بے نوری پر نوحہ کنا ں ر ہے گی؟


ای پیپر