پنجاب پر ٹڈی دل کی یلغار
23 جنوری 2020 2020-01-23

خبر ہے کہ ٹڈی دل نے سندھ اور بلوچستان کے بعد پنجاب کے کئی علاقوں میں بھی فصلوں پر یلغار کر دی ہے جس سے ساہیوال‘ وہاڑی‘ گگو‘ اوکاڑہ‘ پاکپتن‘ عارفوالہ‘ چیچہ وطنی‘ کمیر‘ ہڑپہ سمیت متعدد شہروں میں مکئی‘ چارہ‘ آلو‘ گندم اور دوسری فصلوں کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔خبر پر صوبائی وزیر برائے زراعت پنجاب ملک نعمان لنگڑیال کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل 30 سال بعد دبارہ متحرک ہوئی ہے جس سے پاکستان ہی نہیں دوسرے 52 ممالک بھی ٹڈی دل کی زد میں آئے ہیں جبکہ مشرقی افریقہ میں تو ٹڈی دل حملہ روزانہ اڑھائی ہزار لوگوں کی خوراک ہڑپ کررہا ہے۔اقوام متحدہ کی خوراک اور زراعت سے متعلقہ تنظیم ایف اے او(فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن) نے ستمبر کے پہلے ہفتے میں پاکستان میں ٹڈی دل کی صورتحال کو انتہائی سنجیدہ قرار دیتے ہوئے وارننگ دی تھی کے ٹڈی دل کی دوسری نسل پیدا ہو چکی ہے۔ایف اے او کی واچ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ٹڈی دل کی مزید افزائش اور پھیلاؤ کا خطرہ موجود ہے۔ہماری حکومت اور معاشرے کا وطیرہ ہے کہ پانی سر سے گزرنے کے منتظر رہتے ہیں اور بعد میں واویلا ایسا کہ دیکھنے والا ہماری معصومیت پر واری جانے کو تیار ہو جاتا ہے ۔لاعلمی بھی ایک جرم ہے اور پھر ایک عوامی عہدیدار کے لیے ایسا جرم ناقابل معافی ہے ۔ابھی ہم آٹے کے مصنوعی بحران سے نمبردآزما ہیں۔ہم آرمی ایکٹ کی ترامیم اور مشرف کیس سمیت ایسے قومی مسائل میں پھنسے ہوئے ہیں کہ مستقبل قریب میں آنے والے طوفان کا احساس ہی نہیں ہو رہا۔اپنی سیاست بچانے اور چمکانے والوں سے درخواست ہے کہ ذرا ساہیوال اور وہاڑی جیسے علاقوں کی طرف بھی نظر دوڑائیں جہاں گندم کے ساتھ ساتھ مکئی، چارے اور آلو کی فصلیں چاٹ کر ٹڈی دل آپ کو اصل بحران

میں مبتلا کرنے جا رہی ہے۔بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں ایک چھوٹے سے طبقے کے علاوہ کوئی بھی شخص زراعت کی ز سے بھی واقف نہیں ہے۔ حکومت نے 100 دن کے ایجنڈے میں زرعی پالیسی بنانے کا جو دعویٰ کیا تھا اس میں چھوٹے کسانوں کو قرضے دینے اور بڑے کسانوں پر چھری پھیرنے کے جو اقدامات کیے گئے ہیں وہ ٹماٹر، آٹا اور چینی بحران کے بعد ٹڈی دل کے حملے کی صورت میں سامنے آ کر حکومتی زرعی پالیسی کا منہ چڑا رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ٹڈی دل پاکستان سمیت 52 ممالک پر حملہ آور ہے اور 30 سال بعد پاکستان آیا ہے مگر کیا ہم ماضی کی طرح حادثہ گزر جانے کے منتظر رہیں گے؟اگر 52 ممالک پر حملہ ہوا تو آپ مزید 30 سال انتظار کریں گے یا کوئی حکمت عملی بھی طے کریں گے؟زرعی ماہرین کا ماننا ہے کہ ابھی تک ٹڈی دل سے بچاؤ کی کوئی تدبیر نہیں ایجاد کی گئی تاہم چند دیسی طریقے جیسے کہ ڈھول بجانا یاپلاسٹک کی بوتل سمیت مختلف طریقوں سے ٹڈی کو بھگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔حکومتی سطح پر ہوائی سپرے کارگر طریقہ ثابت ہوا ہے مگر حکومت پاکستان سپرے کی درآمد کے لیے اب تک دستاویزاتی معاہدوں پر انحصار کر رہی ہے۔ادھرٹڈی دل کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ٹڈیوں کی دوسری نسل بھی تیار ہے۔ابھی دوسری نسل کی ٹڈیاں پنک یا گلابی رنگ کی ہیں جنھیں زرد ہونے میں چند ہفتے لگیں گے۔ فروری کا مہینہ اور بارشیں ان ٹڈیوں کی افزائش کے لیے سازگار ماحول بنا دیں گی۔جنوبی پنجاب میں پہلے ہی کم عمر گلابی ٹڈیاں حملہ آور ہیں۔سنا ہے اگر یہ زرد رنگ کی ہو کر دل بنانے میں کامیاب ہو جائیں تو محض آدھے گھنٹے میں پورا کھیت چٹ کر جاتی ہیں۔ پنجاب میں ٹڈی دل کے داخلے نے کاٹن بیلٹ کوبھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔اگر یہ ٹڈیاں دل کی صورت میں پنجاب کی کاٹن زون تک پہنچ گئیں تو پنجاب کی معیشت اور اس طرح پاکستان کی معیشت کو ایک بڑے نقصان کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ اس سے قبل 1982 اور 1950 کی دہائی میں بھی ٹڈی دل نے سندھ کے کئی شہروں میں کپاس کی تیار فصلوں کو تباہ کر دیا تھا۔ریسرچ رپورٹس کے مطابق دنیا میں ٹڈی دل کے سب سے زیادہ حملے قازقستان میں دیکھے گئے ہیں جہاںکی حکومت ٹڈی دل سے بچاؤ کے لئے ہر سال 1 کروڑ ڈالر سے زائد خرچ کرتی ہے۔2019 میں سعودی عرب کی فصلوں پرٹڈی دل کا حملہ ہوا تو شہریوں نے پریشان ہونے کے بجائے ٹڈی دل پر مشتمل ڈشز کی دعوتیں اڑانا شروع کر دیں ۔اسی طرح گزشتہ برس تھر میں حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث عوام نے خود ہی حل ڈھونڈا اور فصلیں کھانے کے لئے آنے والی ٹڈیوں کو سکھا کر مختلف ڈشز کی صورت میں پکا کر کھانا شروع کر دیا ۔ تاریخ میں ٹڈی دل کے حملوں پر نظر ڈالی جائے تو فرعون کے لشکر پر نازل ہونے والے پانچ عذاب میں سے ایک ٹڈی دل بھی تھا،اسی وجہ سے پرانے اور زمیندار بزرگوں کو ماننا ہے کہ اگر رزق پر حملہ ہو تو یہ اللہ کا عذاب ہے۔ اب یہ ہمارے اعمال کا عذاب ہے یا وقت پر سپرے نہ کرنے کے حکومتی نااہلی کے باعث اس کا مستقل حل ڈھونڈنے کی ضرورت ہے ۔ تمام صوبوں کو مل کر اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے تھنک ٹینک بیٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ ٹڈی دل کے حملے سے بچنے کے لئے حکومت کے پاس محض چند ہفتے باقی ہیں ۔ سپرے کرنا ہے یا کوئی اور طریقہ اختیار کر نا ہے فیصلہ جلدی کرنا ہو گا کیونکہ اطلاعات ہیں کہ فصلوں کے ساتھ ساتھ سندھ اور پنجاب کے بارڈر پہ آم اور امردو کے باغ بھی ٹڈی دل کی ز د میں آ چکے ہیں ۔اب حکومت پر منحصر ہے کہ اس اصلی بحران سے کیسے نمٹتی ہے کیونکہ مصنوعی بحران تو سیاست کرنے کے لئے پیدا کیے جاتے ہیں مگر یہ اصلی بحران آپ کی سیاست کی بھی ایسی تیسی پھیر دے گا لہذا جلدی کیجیے کیونکہ ہم نہیں چاہتے ہیں ہمیں بحران کے بعد اس عنوان سے کالم لکھنا پڑے ۔ ’’ اب پچھتائے کیا ہوت جب ٹڈیاں اجاڑ گئیں کھیت ــ‘‘۔


ای پیپر