نئے معاشی پیکج میں تاریخی اعلانات ،عوام کیلئے بڑی خوشخبری
23 جنوری 2019 (19:31) 2019-01-23

اسلام آباد :وزیر خزانہ اسد عمر نے بجٹ تقریر شروع ہوتے ہی صاف صاف الفاظ میں بتایا کہ یہ منی بجٹ نہیں بلکہ معاشی اصلاحات کا پیکج ہے ،حیران کن طور پر حکومت نے ٹیکس بڑھانے کی بجائے متعدد ٹیکسوں کو ختم اور کئی ایک ٹیکسوں میں نمایاں کمی کر دی ،اسد عمر نے کہا اب پاکستان کی معیشت میں بہتری آنی شروع ہو گئی ہے ۔

وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہایس ایم ای سیکٹر کے بینک قرضوں پر آمدن کا ٹیکس20 فیصد کررہے ہیں،ایس ایم ای سیکٹر کے بغیر روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوسکتے،انہوں نے کہا کہ درآمدی موبائل اور سیٹلائٹ فون پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ کر دیا گیا ہے30 ڈالر سے کم قیمت کے موبائل پر سیلز ٹیکس 150 روپے ہو گا،30 سے 100 ڈالر قیمت کے درآمدی موبائل پر 1470 روپے سیلز ٹیکس عائدہو گا،200 سے 350 ڈالر قیمت کے درآمدی موبائل پر 1930 روپے سیلز ٹیکس عائدہوگا،100 سے 200 ڈالر قیمت کے درآمدی موبائل پر 1870 روپے سیلز ٹیکس عائد ہو گا۔350 سے 500 ڈالر قیمت کے درآمدی موبائل پر سیلز ٹیکس 6000 روپے سیلز ٹیکس عائدہو گا۔

قومی اسمبلی میں اسد عمر کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے خوب نعرے بازی کی ،قومی اسمبلی ہال گو نیاز ی گو کے نعروں سے گونجتا رہا ،جس پر اسد عمر نے ایک دفعہ رک کر اپوزیشن کو جواب بھی دیا کہ 22سال سے تو عمران خان رکا نہیں تو اب ایسے نعرے لگانے کا کیا فائدہ ہے ،پرویز خٹک نے دوران تقریر اسد عمر سے پوچھا کہ ٹیکس تو ہماری حکومت ختم کر رہی ہے تو یہ اپوزیشن شور کیوں مچا رہی ہے ،اس سوال کے جواب میں اسد عمر نے کہا کہ یہ لوگ شور اس لیے مچا رہے ہیں کہ جس معیشت کا پہیہ ہم نے جام کر دیا تھا یہ لوگ کیوں اس کو دوبارہ چلانے لگے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ نان فائلر800 سے 13 سو سی سی تک گاڑی خریدسکے گا،ویلتھ ٹیکس سال میں دو مرتبہ جمع کرایاجائے گا،نیور پرنٹ پرامپورٹ ڈیوٹی ختم کر دی گئی،انہوں نے کہا کہ چھوٹے سے درمیانی اداروں کیلیے قرضوں پر آمدن پر ٹیکس نصف کررہے ہیں،غریبوں کے لیے گھر بنانے ہیں،فوری طور پر فائلر کی بینکنگ ٹرانزیکشن پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جارہاہے۔

انہوں نے کہا کہ5 ارب کی قرض حسنہ کی اسکیم لارہے ہیں،چھوٹے گھروں پر بینک قرض آمدنی کا ٹیکس39 سے کم کرکے 20 فیصد کررہے ہیں،پانچ ارب روپے کا ریوالونگ فنڈ قائم کررہے ہیں،بینک ڈیپازٹس پر ودہولڈنگ لگا ہوا ہے،انہوں نے کہا کہ شادی ہال پر ٹیکس 20 ہزار سے کم کرکے5 ہزار روپے کردیا،جولائی سے نان بینکنگ کمپنیوں کا سپر ٹیکس ختم کیا جارہا ہے،کارپوریٹ اِنکم ٹیکس پر ایک فیصد سالانہ کمی برقرار رہے گی،اسد عمر نے کہا کہ متبادل توانائی مشینری بنانےکی سرمایہ کاری کیلیے5سال تک ٹیکس استثنا دیا گیا ہے۔

وزیرخزانہ کا کہنا ہے کہ بجٹ نہیں اصلاحات کا پیکج پیش کررہاہوں،عوام نے مسائل کے حل اور ان کے ادراک کیلیے ایوان میں بھیجا ہے،ایسی معیشت بنانی ہے کہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہو،جب تک سرمایہ کاری نہیں ہوگی معیشت ٹھیک نہیں ہوسکتی،اس سے قبل وفاقی کابینہ نے منی بجٹ تجاویزاوراکنامک ریفارمز پیکج کی منظوری دیدی۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزرا نے شرکت کی، وزیر خزانہ اسد عمر نے ضمنی بجٹ میں دی گئی تجاویز پر بریفنگ دی،وفاقی کابینہ کے ارکان نے اسد عمر کی بریفنگ پراظہاراطمینان کیا۔


ای پیپر