موقع اچھا ہے
23 جنوری 2019 2019-01-23

اب تو گنتی بھی بھول گئی ہے ۔ لیکن امریکیوں کا تانتا بندھا ہوا ہے ۔ ابھی دفتر خارجہ اور دیگر حکام ایک کو رخصت کرکے اطمینان کی سانس لیتے ہیں تو دوسرا جہاز لینڈ کر چکا ہوتا ہے ۔ ٹیلی فون کر کے اپنے خیالات عالیہ سے مستفید فرمانے کیلئے تیار عہدیدار الگ ہیں۔ صدر ٹرمپ کی ٹیویٹ بازی تو خیر کسی بھی بین الاقوامی معاملہ پر کسی بھی وقت منظر عام پرآسکتی ہے ۔ آج کل امریکی ایک مرتبہ پھر اسلام آباد پر مہربان نظر آتے ہیں۔ کام نکلوا نا ہو تو امریکیوں کی زبان بہت میٹھی ہوجاتا کرتی ہے ۔ بازو مروڑنا ہوتو البتہ ان کے پاس پابندیوں کے کئی قوانین موجود رہتے ہیں۔کبھی پریسلر ترمیم۔ کبھی کیری لوگر بل۔ کبھی ایف اے ٹی ایف کا پھندہ۔ امریکہ ان دنوں افغانستان کی خونی دلدل سے نکلنے کا باعزت راستہ تلاش کررہے ہیں۔ افغانستان آنے کے کئی راستے ہیں۔ واپسی کیلئے البتہ اسلام آباد کی مدد درکار رہتی ہے ۔ ورنہ راستہ بہت طویل اور پر خطر ہوجاتا ہے ۔ ماضی قریب میں امریکیوں کا لب و لہجہ بہت تلخ ہوا کرتا تھا۔ وہ کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں دیئے گئے چند ٹکوں کا احسان بھی جتاتے۔ اور دباؤ ڈالنے کیلئے دہشت گردی کا بھی ذکر کرتے۔ اوپر سے بھارت کی پیٹھ بھی تھپکتے۔ لیکن گذشتہ چند ہفتوں میں بہت تیزی سے پس پردہ تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ امریکہ افغانستان کے کوہسار وں میں ڈیڑھ ٹریلین ڈالر جھونک چکے ہیں۔ لیکن ابھی تک کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔ مزید نقصان یہ ہوا کہ چین نہ صرف خطے میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ان کے برا پر آکھڑا ہو ا۔ روس اپنی طاقت میں اتنا اضافہ کر چکا ہے کہ تنہا سپر والی امریکی حیثیت کب کی چیلنج ہوچکی۔ ایرانیوں نے بھارت سے روابط بڑھا لیے۔ اور بھارت کے ذریعے وہ براہ راست افغانستان میں داخل ہو چکے۔ چاہ بہار کا

آپریشنل کنٹرول اب بھارت کے پاس ہے ۔ امریکی افغانستان کے ریگزراروں پربارود برساتے رہے۔ اور ان کے گردو نواح کی سفارتی دنیا بدل گئی۔ لہٰذا اب امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں کھلبلی ہے تو پنٹا گون میں افراتفری۔ اب ان کو ایک ہی راستہ نظر آتا ہے کہ افغانستان سے واپسی کا کوئی راستہ نکالا جائے۔سب سے پہلے تو امریکی صدر نے باقاعدہ بیان جاری کیا کہ وہ وزیر عظم عمران خان سے ملنا چاہیں گے۔ پھر اس کے بعد سابق امریکی سفیر برائے پاکستان نجی دورے پر پاکستان آئے۔ اور اعلی سطحی ملاقاتیں کیں۔ سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر نے بہت سال پہلے پیش گوئی کی تھی کہ آنے والے سالوں میں عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم ہونگے۔کیمرون منٹر پاکستان میں وسیع سفارتی اثر و رسوخ کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستان میں قیام کے دوران ان کی ملاقاتیں اعلیٰ سیاسی اور عسکری شخصیات سے ہوئیں۔ ابھی وہ واپس گئے ہی تھے کہ امریکی صدر کے خصوصی نمائندہ زلمے خلیل زاد کی پاکستان آمد کی خبریں بریک ہوئیں۔ زلمے خلیل زاد کابل اور بغداد میں امریکہ سفیر بھی رہ چکے ہیں۔ امریکی مقتدرہ کے نمائندہ ہیں۔ ان کی آمد سے قبل ہی افغانستان کے صدر اشرف غنی کی وزیرعظم عمران خان سے ٹیلی فون پر طویل بات چیت ہوئی۔ اس گفتگو سے خبر یہ نکلتی ہے جلد ہی عمران خان بطور وزیر اعظم دورہ کابل پر جائینگے۔ بات ہورہی تھی امریکیوں کی آمد و رفت کی۔زلمے خلیل زاد کی آمد سے قبل ہی افغانستان کے طالبان اور دیگر فریقین کے مابین مذاکرات کے دو ادوار ہوچکے ہیں۔ لیکن یہ مذاکرات بہت ابتدائی نوعیت کے ہیں۔ ان مذاکراتی ادوار میں گفتگو کو آگے بڑھانے کیلئے طریقہ کار طے کیا جارہا ہے ۔ سنجیدہ مذاکرات کی دلی ابھی بہت دور ہے ۔ امریکی چاہتے ہیں کہ پاکستان طالبان کو براہ راست مذاکرات کی میز پر لے آئے۔ طالبان انٹر نیشنل گارنٹیوں کے بغیر آگے نہیں بڑھنا چاہتے۔ لہٰذا اب ان مذاکرات کیلئے سعودی عرب بھی انووالو ہورہا ہے ۔ ولی عہد سلطنت پرنس محمد بن سلطان کا دور ہ پاکستان بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران امریکی کمانڈر جنرل جوزف کی آمد۔ زلمے خلیل زاد کی انٹری اور رکن سنیٹ لنڈے گراہم کی پے در پے ملاقاتیں امریکیوں کی فرسٹریشن کو ظاہر کرتی ہیں۔

امریکی صدر ٹر مپ کے متعلق امریکی اخبارات میں ایف بی آئی تحقیقات کی خبریں شائع ہورہی ہیں۔ ری پبلکن جانتے ہیں کہ مسٹر ٹرمپ بہت غیر مقبول ہیں۔ لیکن پھر بھی وہ اگلا الیکشن جیتنے کی تیاری کررہے ہیں۔ اس کیلئے وہ افغانستان سے اس تاثر کے ساتھ نکلنا چاہتے ہیں کہ فاتح کا تاثر ابھرے۔ لہٰذا اب وہ کچھ عرصہ پاکستان پر مہربان رہیں گے۔ پاکستان کواس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔


ای پیپر