چارٹر آف گورننس۔۔۔!
23 جنوری 2019 2019-01-23

چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے اعزاز میں منعقدہ فل کورٹ ریفرنس میں جن خیالات کا اظہار کیا اور جس چارٹر آف گورننس کا تصور پیش کیا ہے وہ سوچ کے نئے زاویوں کو دعوتِ فکر دیتا ہے۔ جناب چیف جسٹس نے اپنے عالمانہ خطاب میں کہا کہ میں عدلیہ میں زیر التوا 19لاکھ مقدمات کا قرض اُتارنا چاہتا ہوں، جھوٹے مقدمات، جھوٹے گواہوں اور انصاف میں تاخیر کے خلاف ڈیم بنانا چاہتا ہوں۔ جمہوری استحکام کے لئے سول بالا دستی اور سویلینز کا احتساب ضروری ہے۔ میثاقِ حکمرانی کے لئے صدر کی زیر قیادت چوٹی کی پارلیمانی ، عدالتی اور انتظامی قیادت بشمول فوج اور ایجنسیوں کے مابین مباحثہ ہونا چاہیے۔ فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی گنجائش ہونی چاہیے۔ پالیسی معاملات میں عدالت کی مداخلت پر بھی بات ہونی چاہیے۔ سو موٹو کا اختیار بہت کم اور صرف ان قومی معاملات میں ہوگا جہاں کوئی دوسرا حل نہ ہو۔ لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جناب چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے قومی وحدت اور ملک کے انتظامی اور آئینی انتظام پر بھی منفی اثرات مرتب ہونگے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے یہ خیالات یقیناًقابلِ قدر ہیں۔ سیاسی جماعتوں، سیاسی راہنماؤں، تھنک ٹینکس، اربابِ اقتدارواختیار اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے اصحاب دانش و بصیرت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اِن قابل قدر خیالات کا جائزہ لیں۔ اور ان کے بارے میں اپنی آراء کا اظہار کریں۔ بالخصوص جناب چیف جسٹس نے مستقبل کے لئے جو لائحہ عمل تجویز کیا ہے اور میثاقِ حکمرانی ( چارٹر آف گورننس ) کے لئے جس نئے مباحثے کی ضرورت پر زور دیا ہے اُس کے قابلِ عمل ہونے یا نہ ہونے کا بھی جائزہ لیں۔ یقیناًہمارے لئے اس طرح کی سوچ و بیچار اور نئے عملی اقدامات اس لئے ضروری ہیں کہ ہماری قومی زندگی کو کئی طرح کے انتظامی، قانونی، آئینی، عدالتی اور معاشرتی مسائل کا سامنا ہی نہیں ہے بلکہ مستقل ریاستی اِداروں اور اُن کے چوٹی کے عہدوں پر فائز شخصیات کے درمیان اختیارت کی تقسیم اور اِداروں کے ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ پاکستان کو جو صورتِ حال درپیش چلی آرہی ہے اِس کے حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ ہم آگے بڑھنے کی بجائے دائروں میں سفر کرنے کی صورت حال سے دوچار چلے آرہے ہیں۔ ہم جہاں سے آغاز کرتے ہیں کچھ عرصے بعد واپس وہیں آجاتے ہیں۔ ہماری لئے ضروری ہے کہ ہم اداراتی کشمکش اور اِداروں کے ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت اور اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے گاہے گاہے سامنے آنے والے معاملات و مسائل کا مستقل حل ڈھونڈیں تا کہ ملک و قوم صحیح پٹری پر چلتے ہوئے آگے بڑھ سکیں۔

جناب چیف جسٹس نے میثاقِ حکمرانی کی تشکیل کے لئے صدرِ مملکت کی زیر قیادت چوٹی کی پارلیمانی ، عدالتی اور انتظامی قیادت بشمول فوج اور ایجنسیوں کے مباحثے کی بات کی ہے یقیناًاس پر غور و فکر کیا جانا چاہیے۔ تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ مملکتِ خدادادِ

پاکستان کے آئین کو سامنے رکھا جائے کہ وہ میثاقِ حکومت کا کیا تصور پیش کرتا ہے۔ ہمیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ہمارا ایک باقاعدہ آئین ہے جس کے کئی ابواب اور سینکڑوں کی تعداد میں شقیں ہیں جن میں ملک کے نظامِ حکومت کے حوالے سے تصریح ہی نہیں کی گئی ہے بلکہ مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور دُوسرے ریاستی اِداروں کی آئینی حدود ، ذمہ داریوں اور اختیارات و فرائض کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ اس طرح واضح آئینی شقوں کی موجودگی میں کسی نئے نظام یا کسی میثاقِ حکمرانی کے لئے بظاہر ضرورت نہیں رہتی ہے لیکن ہماری یہ بدقسمتی رہی ہے کہ آئین میں اِداروں کے اختیارات و فرائض کی واضح حد بندی اور نشاندہی کے باوجود ریاستی اِداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے بعض معاملات میں باہمی ٹکراؤ کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے اور شاید آج بھی ہے۔ اس صورتِ حال میں چیف جسٹس محترم آصف سعید کھوسہ کا میثاقِ حکمرانی کے بارے میں مشاورت کا تصور یقیناًایک صائب مشورہ گرادانہ جا سکتا ہے۔ اس کے لئے پہلا مرحلہ قومی زندگی کے مختلف شعبوں اور اِداروں سے متعلقہ چوٹی کی قیادت کے درمیان ایک وسیع تر مباحثے کے نتیجے میں مختلف قومی معاملات اور مسائل کے بارے میں اتفاقِ رائے کا حصول ہے جس کو ریاست کے دائمی اِداروں کی اطاعت بھی حاصل ہو۔ اگلے مرحلے میں اِس اِتفاقِ رائے کو بنیاد بنا کر ملک کے نظامِ حکومت ، آئین و قانون اور اِداروں کے مابین اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے ضروری اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ جس کے لئے اگر آئین میں ترمیم بھی کرنی پڑے تو اِتفاقِ رائے سے اِس کا بھی اہتمام کیا جا سکتا ہے۔

جناب چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اِن کے قومی وحدت اور ملک کے انتظامی اور آئینی انتظام پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ جناب چیف جسٹس کی تشویش بجا ہے۔ لاپتہ افراد کے مسئلے کو جو کب سے چلا آرہا ہے ضرور حل کیا جا نا چاہیے۔ بلاشبہ اس سے ملک کی بدنامی ہی نہیں ہو رہی ہے بلکہ قومی وحدت اور سلامتی کو ناقابلِ بیان نقصانات بھی پہنچ رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لا پتہ اور گمشدہ افراد میں بہت سارے ایسے افراد شامل ہیں جو ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ اِن میں سے زیادہ کا تعلق بلوچستان، خیبرپختونخواہ، کراچی اور جنوبی پنجاب سے بنتا ہے۔ بدقسمتی سے بلوچستان اور کراچی میں بھارتی خفیہ ایجنسی رابُری طرح پاکستان دُشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے۔اس کے ساتھ وہاں علیحدگی پسند تنظیمیں بھی کافی سرگرم ہیں۔ اِن کے آلہ کارافرادجو ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں کے اِن کے خلاف ضروری کاروائی کرنا قومی سلامتی کے اِداروں کی ذمہ داری بنتی ہے۔ اِسی طرح خیبرپختونخواہ اور جنوبی پنجاب میں انتہا پسند عسکری تنظیمیں جو دہشت گردی میں ملوث ہیں اُن کے نیٹ ورک موجود ہیں۔ اب اِن سے متعلقہ افراد جن کا دہشت گردی کی کاروائیوں، انتہا پسندانہ سرگرمیوں ، خود کش حملوں یا اِسی طرح کی دوسری ملک دشمن سرگرمیوں سے تعلق بنتا ہے کا سدِ باب کرنا یقیناًریاست کی ذمہ داری بنتی ہے۔ اِس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے قومی سلامتی کے ذمہ دار اِدارے یا خفیہ ایجنسیاں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کاروائیاں کرنے میں یقیناًحق بجانب ہیں۔ لیکن اس کے لئے جو طریقہ کار اختیار کیا جا نا چاہیے وہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے ۔ یہ نہیں کہ ایسے افراد کو اُٹھا لیا جائے ، اُنہیں لا پتہ کر دیا جائے، اُن کے لواحقین کو اِس سے بے خبر رکھا جائے اور عدالتوں میں بھی اُن کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا جائے یقیناًاِس سے ملک کی سا لمیت اور قومی وحدت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس کا ازالہ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

جناب چیف جسٹس نے پالیسی معاملات میں عدالتوں کی مداخلت اور سوموٹو کا اختیار استعمال کرنے کی بھی بات کی ہے۔ اُن کا یہ کہنا قابلِ تحسین ہے کہ سوموٹو کا اختیار بہت کم اور صرف اُن قومی معاملات میں ہوگا جہاں کوئی دُوسرا حل نہیں ہوگا۔اللہ کرے جناب چیف جسٹس اپنے اس فرمان پر دِل و جان سے عمل کر سکیں۔ سابقہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب نے بھی چیف جسٹس کا حلف اُٹھاتے ہوئے اِسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا تھا کہ وہ سوموٹو ایکشن لینے سے اجتناب کریں گے۔ لیکن بعد میں کیا ہوتا رہا ہے وہ سب کے سامنے موجود ہے۔ عدالتوں کا کام انصاف کرنا ہے ۔ ایسا انصاف جو ہوتا ہوا نظر آئے نہ کہ ججز کو اُس کی تشہیر کرنی پڑے۔


ای پیپر