ماورائے عدالت قتل
23 جنوری 2019 2019-01-23

ساہیوال میں ایک خاندان کے تین افراد اور ان کے ہمسائے کو جس طرح بے دردی سے پولیس نے انسداد دہشت گردی ونگ (CTD) کے اہلکاروں نے معروف شاہراہ پر دن دیہاڑے مارا،ا س نے ایک بار پھر پولیس کے ادارے کے خلاف بے پناہ عوامی ردعمل کو جنم دیا ہے۔ سوشل میڈیا اس واقعے کے خلاف غم و غصے سے بھرا ہو اہے۔ پولیس نے جس طرح ایک خاندان کو نشانہ بنایا اور ایک 13 سالہ بہن اور ماں باپ کو 3 معصوم بچوں کے سامنے گولیوں کا نشانہ بنایا اس کے خلاف شدید ردعمل بالکل فطری ہے۔

میں خود ایک 10 سالہ بچی کا باپ ہوں اور اس کے سوالات نے مجھے لاجواب کیا ہوا ہے۔ میں نے اسے ہمیشہ یہ بتایا کہ پولیس ہماری حفاظت کے لیے ہوتی ہے۔ ہمیں پولیس کی عزت کرنی چاہیے مگر اب وہ دو دنوں سے مسلسل یہی پوچھے جا رہی ہے کہ اگر پولیس ہماری حفاظت کے لیے ہوتی ہے تو انہوں نے بچوں پر گولیاں کیوں چلائیں۔ میرے پاس آخری چارہ یہی تھا کہ اسے بتاؤں کہ پولیس میں اچھے اور برے دونوں طرح کے لوگ ہوتے ہیں مگر دو دنوں سے وہ جو کچھ دیکھ اور سن رہی ہے، اس کے بعد پولیس کے بارے میں اس کا رویہ تبدیل ہو چکا ہے۔ دو دن ہو گئے ہیں مگر جب بھی تینوں معصوم بچوں کی پٹرول پمپ پر سہمے، پریشان اور زخمی بدنوں اور خون آلود کپڑوں والی تصویر سامنے آتی ہے تو آنسو خود بخود رواں ہو جاتے ہیں۔ یہ آنسو دراصل اس بے بسی اور لاچارگی کے ہیں جو مجھ جیسے لوگ اس ظالمانہ، جابرانہ اور غیر انسانی نظام کے سامنے محسوس کرتے ہیں۔

میرے نزدیک ان تینوں معصوم بچوں کا مجرم وہ نو آبادیاتی ڈھانچہ اور نظام ہے جسے ہمارے حکمران طبقات 71 سالوں سے سینوں سے لگائے ہوئے ہیں۔ یہ ڈھانچہ اور نظام برطانوی سامراج نے ہمیں غلام بنانے اور اپنے سامراجی مقاصد اور مفادات کو پورا کرنے کے لیے بنایا تھا اور ہم پر مسلط کیا تھا۔ پولیس کا پورا نظام 100 سال سے بھی پرانا ہے۔، پولیس کے ضابطے ، طریق کار، تربیت، قوانین اور پورا ڈھانچہ فرسودہ، ظالمانہ اور 21 ویں صدی کے جدید تقاضوں سے یکسر خالی ہے۔ جب تک پولیس کا موجودہ نظام ہے، اس طرح کے سانحات اور واقعات تسلسل سے رونما ہوتے رہیں گے۔ بے گناہ اور معصوم لوگ تھانوں کے اندر اور باہر سڑکوں پر پولیس کی سفاکیت کا نشانہ بنتے رہے ہیں جبکہ ہمارے سابقہ اور موجودہ حکمران ایسے واقعات پر روایتی بیان بازی کرتے رہیں گے اور مگرمچھ کے آنسو بہاتے نظر آئیں گے مگر اس نظام اور ڈھانچے کو بدلنے کے لیے ضروری اصلاحات اور اقدامات نہیں کریں گے۔ کیا ماڈل ٹاؤن کا قتل عام ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی نہیں تھا؟ کیا نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے بعد ایسے اقدامات نہیں ہونے چاہئیں تھے جو اس قسم کے واقعات کی روک تھام کرتے ۔

اگر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقتولین کو بروقت انصاف مل جاتا اور ذمہ داروں کے خلاف مؤثر کارروائی ہو جاتی تو ساہیوال کا سانحہ نہ ہوتا۔ اگر نقیب کے قاتل راؤ انوار کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی ہوتی اور وہ آزادانہ نہ گھوم رہا ہوتا تو شاید یہ سانحہ بھی نہ ہوتا اور تین بچے یتیم ہونے سے بچ جاتے۔ آج شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنما کس منہ سے موجودہ حکومت کو اس سانحے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں جو کہ محض 5 ماہ پہلے برسراقتدار آئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں اپنے 10 سالہ دور اقتدار میں پولیس اصلاحات نافذ کیوں نہ کیں۔ پولیس کے ڈھانچے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کر کے اسے انسان دوست کیوں نہ بنایا۔پیپلزپارٹی نے سندھ میں پولیس کے نظام میں کتنی اصلاحات متعارف کروائی ہیں، کیا سندھ کی پولیس وڈیروں اور جاگیرداروں کی چاکری کرنے کی بجائے قانون اور انصاف کے مطابق کام کرتی ہے۔

پولیس میں جوابدہی کا نظام مؤثر نہیں ہے۔ پولیس کا بیڑہ غرق کرنے میں محض سیاسی حکومتوں کا ہی کردار نہیں ہے بلکہ فوجی آمروں نے پولیس کی تباہی اور اس کے جابرانہ رویے کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس کے پورے نظام کو بدنے کی ضرورت ہے۔ محض انتظامی عہدوں میں تبدیلی، ان کے نام اور وردی بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ انگریزوں کے بنائے ہوئے قوانین اور ضابطے اب فرسودہ ہو چکے ہیں۔ یہ 21 ویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ ہمارا کرمنل جسٹس سسٹم کام نہیں کر رہا۔ اس پورے نظام کو بنیادی اور سنجیدہ نوعیت کی تبدیلی اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔ قوانین بھی بدلنے چاہئیں۔ پولیس کا پورا ڈھانچہ اور نظام بھی بدلنا چاہیے اس حوالے سے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

تحریک انصاف کی حکومت اگر اصلاحات میں سنجیدہ ہے تو اسے فوری طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ جتنا تاخیر کرے گی اتنا ہی اپنی مشکلات میں اضافہ کرے گی۔ نقیب اللہ محسود سانحہ ماڈل ٹاؤن اور سانحہ ساہیوال کے متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کا سب سے بدترین طریقہ یہ ہے کہ نہ صرف ان واقعات میں ملوث افراد کو سزا ملے بلکہ اس نظام کو ہی تبدیل کر دیا جائے جو ان واقعات کے رونما ہونے کی وجہ بنا۔

ماورائے عدالت قتل ، فوجی عدالتیں اور گمشدہ افراد اس بات کی واضح علامت اور مثال ہے کہ ہمارا کرمنل جسٹس سسٹم اور عدالتی نظام کام نہیں کر رہا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اس پر اعتماد نہیں ہے اسی لیے وہ ماورائے قانون و عدالت اقدام اٹھاتے ہیں۔ وہ سائنسی تفتیشی طریق کار اپنانے کی بجائے تشدد، تذلیل اور مار پیٹ کے ذریعے اقبال جرم کرواتے ہیں۔ گواہوں کے تحفظ کا مؤثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے مجرم عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ تفتیش کے نظام کو درست کہا جائے۔ عدالتی اصلاحات کے ذریعے کرمنل جسٹس سسٹم کو مضبوط اور

مؤثر بنایاجائے۔ نئے قوانین بنائے جائیں جو انسانوں کے احترام، قانونی برابری اور بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق اور اصولوں سے ہم آہنگ ہوں۔

ہمارے حکمرانوں اور ریاستی اداروں نے اصل کام کرنے کی بجائے شارٹ کٹ ڈھونڈ لیے ہیں جو کہ ہمیں بحیثیت سماج تباہی اور بربادی کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔ مثلاً پولیس مقابلے، لوگوں کو غائب کرنا اور ماورائے عدالت قتل ۔ ہمارے حکمران طبقات اور ریاستی ادارے اچھی طرح جانتے ہیں کہ موجودہ نظام ٹھیک طریقے سے کام نہیں کر رہا۔ اس نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے مگر کیونکہ وہ اس فرسودہ اور ظالمانہ نظام سے فائدہ اتھاتے ہیں۔ یہ نظام ان کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے اس لیے وہ اس نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ خود کو قانون اور ضابطوں سے بالا رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ سب کے لیے قانون کا یکساں نفاذ اور اطلاق نہیں چاہتے۔ اس میں محض سیاستدان ہی شامل نہیں ہیں بلکہ ریاستی افسر شاہی اور طاقتور ریاستی ادارے بھی شامل ہیں۔

پاکستان جیسے ملکوں میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات عوامی دباؤ کے بغیر ممکن نہیں ہیں۔ ہمیں اپنے غصے کو سوشل میڈیا کے ذریعے بیان کرنے کو کافی نہیں جاننا چاہیے بلکہ اپنے غصے کو اصلاحات کے لیے عوامی تحریک میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ مؤثر، مسلسل اور وسیع النبیاد عوامی تحریک اور مہم کے بغیر اصلاحات اور تبدیلی کا خواب پورا نہیں ہو گا۔ تبدیلی اور اصلاحات دراصل عوام کی ضرورت ہیں نہ کہ حکمران طبقات کی۔ حکمران طبقات وقتی طور پر ایک دوسرے کے خلاف سیاسی پوائنٹنگ سکورنگ کرتے ہیں مگر انہیں موجودہ نظام کو بدلنے میں خاص دلچسپی نہیں ہے۔ 13 سالہ اریبہ اور اس کی چھوٹی بہنوں اور بھائی کو انصاف دلوانے کا سب سے بہترین طریقہ یہی ہے کہ اس نظام کا خاتمہ کیا جائے۔


ای پیپر