تیری مرضی جس کو دہشت گرد کہہ کر مار دے
23 جنوری 2019 2019-01-23

سانحہ ماڈل ٹاؤن ہو،نقیب اللہ کاقتل ہو یا ساہیوال میں ماں، باپ اور بیٹی سمیت چار افراد کا خون۔۔۔

جب ریاست ہی مجرم ہو تو انصاف کون کرے

کتنے معصوم ہیں وہ دوست جو بے چارے عمران اور بزدار سے انصاف مانگ رہے ہیں۔یہاں تو راؤانوار جیسے ریاستی قاتل کو پناہ دینے والے اسے سپریم کورٹ پیش کرنے پر بھی تیار نہیں تھے

اور ثاقب نثار کو کہنا پڑا

’’ہمیں پتہ ہے ہم نے آپ کو کیسے عدالت میں پیش کرایا تھا‘‘

پاکستان کے مظلوم لوگو، سنو:

فرض کیا خلیل ایک دہشت گرد تھا تو کیا دہشت گرد کی کار جب پولیس نے روک لی تھی تو گرفتار کرنا چاہیے تھا یا اس کی بیوی اور بیٹی اریبہ کو قتل کر دینا لازمی تھا؟

سلطان راہی (ایک فلم میں) ، پولیس والے پر تشدد کر رہا ہوتا ہے۔

سلطان راہی کی ماں: وے پتر، ایہنوں نہ مار ، ایہہ وی کسے ماں دا جمیا اے!!

سلطان راہی نے اس پولیس والے کے منہ پہ ایک تھپڑ مارا اور کہا:

’’ماں، جدوں کوئی ایہہ وردی پہن لیندا اے تے نہ او پیو دا رہندا اے، نہ ماں دا‘‘

16اہلکاروں کے خلاف میاں، بیوی، بیٹی اور ڈرائیور کے قتل کا مقدمہ ہوا لیکن فوٹیج میں نظرآنے کے باوجودکسی اہلکار یا ٹیم کے کمانڈرکانام نہیں لکھا گیا۔۔۔نامزد ایف آئی آرنہ دینا انصاف کے قتل کی

طرف پہلا قدم ہے۔۔۔جب سی ٹی ڈی اس ایکشن کی ذمہ داری لے رہی ہے تو کیاادارے کو معلوم نہیں کہ کن اہلکاروں نے کارروائی میں حصہ لیا؟تو پھر بچوں کو دو پنجاب حکومت کی طرف سے دو کروڑ کی امداد دینا اور تاحیات اُن کی کفالت کرنا یہ ریاست کا منہ بولا ثبوت ہے کہ ریاستی ادارے بذات خود تسلیم اس دہشت گردی میں شامل ہیں۔

دُکھ، غم، بہت ثانوی الفاظ ہیں،شاید یہ بچے زندگی بھر خوف کی فضا سے باہر نہ نکل سکیں۔ یہ لگا گھاؤ کبھی نہ بھر سکے گا،یہ وہ آگ ہے نہ جلے گی نہ بجھے گی ۔۔۔عمر بھر یہ دھواں اور آگ سلگتے رہیں گے یہ بچے۔یہ بچے تاحیات سوچتے رہیں گے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے والدین کو دہشت گرد قرار دے کر گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا تھا۔ یہ پھول سے بچے عمر بھر خوف و ہراس ، دکھ، کرب ، پژمردگی کی فضا سے نہیں نکل سکیں گے۔ تاحیات ان کے دلوں میں پاکستان سے محنت کی کونپل نہیں پھوٹ سکے گی۔ ان کے دلوں میں جو نفرت کا بیج جنم لے چکا ہے وہ کبھی بھی ختم نہیں ہو گا۔ خواہ موجودہ حکومت جس طرح بھی اُن کے زخموں کو مندمل کرنے کی کوشش کرے گی۔ جے آئی ٹی بنے یا ملزموں کو تختۂ دار پر لٹکایا جائے ، اُن کی زندگی کی رونقیں اور بہاریں واپس نہیں آئیں گی۔ اُن کی زندگیوں میں پیدا ہونے والا خلا اُن کی آنے والی نسلوں کے جینز میں بھی جائے گا۔ تاریخ یہ بات بار بار دہرائے گی کہ جس پارٹی کی بھی حکومت ہوئی اسی پارٹی کے دور میں عوام کو بلا جواز دہشت گرد قرار دے کر مارا گیا۔ ابھی تو ہم زینب جیسے واقعات کو نہیں بھولے تھے۔سانحہ ماڈل ٹاؤن جیسا واقعہ ہمارے دلوں پر رینگ رہا ہے۔ نقیب اللہ قتل کیس ابھی بیچ میں لٹکا ہوا ہے اور ہم سانحہ ساہیوال کو رونے کے لیے بیٹھ گئے ہیں۔ جس ملک میں شراب آنی ثابت ہو جائے اور چیف جسٹس جیسا آدمی بے لوث ہو جائے ، اس ملک میں انصاف کی توقع کرنا بے وقوفی کی انتہا ہے۔ وزیراعظم کی قمیص کے دو سوراخ تو نظر آ گئے مگر ان معصوموں کے چھلنی جسموں کے سوراخ کسی جے آئی ٹی کو نظر نہیں آئے۔ بقول شاعر

بابا دیکھیں نا لوگ ہمیں دیکھ رہے ہیں

دیکھ کر کیوں رو رہے ہیں

آپ ہمیں کہاں چھوڑ چلے ہیں

دیکھیں نا اماں بھی بات نہیں کر رہی

دیکھیں نا ہم رو رہے ہیں

ہمیں خاموش کروائیں نا اماں

اچھا بابا آپ ہی کچھ بولیں نا

خاموش کیوں ہیں ہم سے بات کیوں نہیں کرتے

بات کریں نہیں تو ہم ڈر جائیں گے

بن آپ کے ہم مر جائیں گے

خود چلے گئے ہمیں چھوڑ کر

بنا سوچے ، لال کدھر جائیں گے

اٹھیں نا نہیں تو ہم کسی کی ہوس ٹھہر جائیں گے

ہمیں بھی اپنے ساتھ لے جائیے وہاں

دنیا بری ہے ہمیں نہیں رہنا یہاں

ہم سے چھن گئی ہو جنت، و سایہ جہاں

خدا ایسے درندوں کو نیست و نابو کرے، بچوں کو صبرِ جمیل اور خدا اپنے حفظ و امان میں رکھے، اور شہداء کو جنت الفردوس علیٰمیں ا مقام عطا فرمائے ۔بقول عباس تابش

تو پرندے مار دے سرو و صنوبر مار دے

تیری مرضی جس کو دہشت گرد کہہ کر مار دے


ای پیپر