ہم نے کیا چاہا تھا اور کیا ہوگیا
23 جنوری 2019 2019-01-23

پاکستانی سیاست کا باوا آدم ہی نرالا ہے یہاں ہمارے سیاستدانوں کو اصول سیاست کا کوئی پرچہ پڑھایا نہیں جاتا نہ انہیں کوئی اخلاقی سبق ازبر ہے یہی وجہ ہے کہ میرے پیارے ملک میں کسی کی بھی عزت اچھالنی اور الزام تراشی کو سیاست کا محبوب مشغلہ سمجھا جاتا ہے کالا باغ ڈی کے نام پر سبز باغ دکھائے جاتے رہے یہاں وزیراعظم تک امپورٹ کرلئے جاتے ہیں بغیر عوامی خدمت یاسیاسی کردار کے اسے الیکشن میں کامیاب بھی کرالیا جاتا ہے ملک میں سیاست دانوں کو نیچا دکھانے کا عمل تو اسی وقت شروع ہوگیا تھا جب شہید ملت خان لیاقت علی خان کو گولی ماری گئی پھر انکے قاتل کو بھی ڈھیر کردیا گیا ۔پاکستان بنانے والے بہت جلدی چلے گئے اور جو ان کے جانشین تھے انہیں مختلف انداز میں منظر سے غائب کرنے کا عمل شروع کردیا گیا۔ اور طاقتوروں نے جتلا دیا کہ اب مستقبل میں اس ملک پر طاقتور کا ہی سکہ چلے گا ۔بنیادی حقوق249تعلیم 249شعور249 میرٹ انصاف قانون سب زبانی جمع خرچ ہے ۔جو ہمارے ایوانوں میں بیٹھے لوگ کرتے رہتے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے پیش رووں کی طرح اس ملک کو صرف اور صرف لوٹنے کا عمل جاری رکھا ہے ۔فرق صرف یہ ہے کہ پہلے باہر سے حملہ آور اس خطے کو لوٹنے آیا کرتے تھے ۔وہ یہاں آتے لوگوں کو اپنا تابع کرتے اور یہاں مقیم مقامی باشندوں کے لیے کچھ نہ کچھ منصوبہ جات بھی لگاتے رہے ۔یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہاں بیٹھ کے لوگوں کو محکوم بنانے کے لیے درسگاہیں 249 سرکاری ہسپتال249 سرکاری سکول اور سرکار کے عظمت کو اجاگر کرنے والی عمارتیں تعمیر کرتے رہے ۔آج ہم میں سے بہت سے کہتے ہیں کہ انگریز دور میں بنی عمارتیں بہت مضبوط ہوا کرتی تھیں ۔ان کو سمجھنا ہوگا کہ وہ عمارتیں بھی اسی مٹی سے اور یہاں کے مزدور کے پسینے سے ہی تیار ہوا کرتی تھیں۔لیکن آج مٹی تو وہی ہے لیکن مزدور کے پسینے میں فرق آچکا ہے ۔لیکن ٹھہرئیے جناب آج بھی ہمارے امراء بڑی بڑی عالی شان عمارتیں بنوا رہے ہیں ۔اپنے جاہ جلال کو بڑھاوا دینے کیے لیے محلات بھی تعمیر کر وارہے ہیں ۔آج بھی مٹی یہیں کی ہے ۔لیکن افسوس آج ہمارے مزدور کی جگہ کبھی چین249کبھی ترکی249کبھی امریکہ تو کبھی انگلینڈ سے مزدور آتے ہیں ۔وطن سے کسی کو محبت نہیں ہے ۔ ہمارے سیاست دانوں نے وطن کو صرف سون دینے والی مرغی سمجھ لیا ہوا ہے۔اشرافیہ یہاں سے پیسہ باہر لے جارہی ہے ۔اس میں سب شامل ہیں ۔کوئی کسی طریقے سے لے جاتا ہے تو کوئی کسی طریقے سے۔کوئی ایان علی جیسے ماڈلز کے زریعے اپنا پیسہ باہر بھیجتا ہے تو کسی کا پیسہ باہر لے جانے کے لیے باہر سے جہاز آجاتے ہیں

۔لٹیروں کو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا ہے اگر کوئی ان لیٹروں کے آلہ کاروں کے خلاف کھڑا ہوتا ہے تو اسے سر عام بھون دیا جاتا ہے ۔قاتل کا سراغ مٹا دیا جاتا ہے ۔ ایان علی کے تفتیشی کا قتل نہ سمجھ آنیوالی بات تو نہیں یہ پاناما کا ہنگامہ کچھ بھی نہیں سب لکھے ہوئے کردار تھے ورنہ وہ باقی نام کدھر ہیں جو پانامہ کی فہرست میں تھے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار ریٹائرڈ ہوئے تو انکے حصے بھی کھٹے میٹھے فیصلے آئے۔سابق چیف جسٹس اپنے دور میں جسٹس کی بجائے سیاست پر زیادہ دھیان دیتے رہے ۔میرے ملک میں سالہا سال سے لوگ عدالتوں میں دھکے کھارہے ہیں ۔اگر چیف صاحب رہتی دنیا تک نیک نامی کے خواہاں ہوتے تو وہ انصاف کا نظام بہتر کرنے کی کوشش کرتے ۔ججز کی تعداد بڑھا کے فیصلے جلد از جلد کروانے کا رواج دیتے ۔مجرموں کے لیے بچ نکلنے والے چور دروازں کو ہمیشہ سے بند کرنے کی کوشش کرتے ۔قانون اور انصاف کا عملی بول بالا کرنے کی کوشش کرتے ۔ہر روز ٹی وی چینل پر آکر اپنے لوگوں کو للکارنے کی بجائے عدالت میں بیٹھ کے ایسے فیصلے کرتے کہ لوگ ان کو سر آنکھوں پر بٹھا لیتے ۔لیکن انہوں نے ’ معذرت کے ساتھ‘ دائمی عزت کی بجائے چند دنوں کی شہرت کا رستہ چنا ۔انہوں نے بڑے بڑے مقدمات کو دیکھنا شروع کیا ۔ان کا قلم کم اور ان کی زبان زیادہ بولتی رہی ۔وہ نان ایشو کی طرف زیادہ متوجہ رہے ۔عمران کی محبت میں وہ دیوانے ہوئے پھرتے تھے اسی لیے نواز شریف کو پابند سلاسل کرنے کے لیے انہوں نے دن رات عدالتوں کو کام پہ لگائے رکھا ۔بغیر کسی کرپشن کے ثبوت249کسی منی لانڈرنگ کی تفصیل انہوں نے نواز شریف کو بار بار جیل بجھوایا۔کہا جاتا ہے کہ

نوازشریف کی نااہلی انکا ‘‘بڑا‘‘ فیصلہ تھا لیکن میں سمجھتاہوں اس سے بھی بڑا فیصلہ موبائل فون کے کارڈ پر ٹیکس کاخاتمہ تھا وہ ٹیکس جو نوازشریف حکومت نے اقتدار میں آتے ہی لگا دیا تھا ۔لیکن انہیں شائد سمجھ آگئی کہ یہ قوم طاقت والے کے پیچھے کھڑی واہ واہ کرنے کی عادی ہے تو انہوں نے ڈیم بنانے کا اعلان کردیا ۔لوگوں سے ڈیم کے لیے چندہ مانگتے رہے اور آخر میں جب وہ رخصت ہوئے تو ان سے کچھ بھی نہ ہوسکا ۔حکومت نے جب نیک نیتی سے کوشش شروع کردی تو ان شاء اللہ ڈیم بن بھی جائے گا لیکن ڈیم بنانے سے پہلے بہت ضروری ہے کہ ہمارے پاس جو پانی دستیا ب ہے اس کو بہتر طور پہ استعمال کرنا سیکھ لیں ۔

ابھی تک ہم پانی کی چوری کو نہیں روک سکے نوائے وقت کے معمار جناب مجید نظامی مرحوم نے 27 مئی 2008 کو دی نیشن میں The water bomb آرٹیکل لکھ کر پانی کے مسئلے کی سنجیدگی کو واضح کردیا تھا بھارت نے قیام پاکستان کے بعد کبھی بارڈرپہ گولہ باروود برسایا تو کبھی آبی جارحت سے کام لیا ۔ہمارے ملک کے کچھ نادانوں نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرکے ملک دشمنی سے کام لیا ہے بھارت ہمارے پانیوں پہ ڈیم بنا چکا ہم پانی کے مسئلے پر عالمی عدالتوں سے بھی سرخرو نہیں ہوئے ۔ہمارے قول و فعل میں اس قدر تضاد ہے کہ کیا کہئے خان اعظم جناب عمران خان نے یو ٹرن کو درست قرار دے دیا تھا سیرت بڑی چیز ہے صاحب میدان بدر میں جب اخنس بن شریق ابوجہل سے تنہائی میں ملا تو اس نے موقع غنیمت جانا اور ابوجہل سے کہا ہم یہاں اکیلے ہیں اور کوئی ہماری بات بھی نہیں سن رہا یہ بتاو کہ تمہاری ’رسول ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم ‘انکے بارے کیا رائے ہے وہ سچے ہیں یامعاذ اللہ جھوٹے تو جہالت و ظلمت کی اس علامت نے کہا خدا کی قسم محمدؐ یقیناً سچے ہیں اور آج تک محمدؐ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ۔اب پاکستان کوریاست مدینہ بنانے والے اور ان سے پہلے کے حکمرانوں نے کیا کیا جھوٹ نہیں بولے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بڑی خوش آئیند بات کی ہے اور اپنے پہلے ہی بیان میں کہا ہے کہ انکی زندگی کے دو ہی مقصد ہیں ایک ڈیم بنانا دوسرا ملک کو قرضوں سے نجات دلانا تو میں بھی اب کچھ ڈیم بنانا چاہتا ہوں ایک ڈیم عدالتی مقدمات میں غیر ضروری تاخیر کے خلاف ایک غیر سنجیدہ قانونی چارہ جوئی اور جعلی عینی شاہدین اور جعلی گواہیوں کے خلاف یہ بھی کوشش کروں گا قرض اترسکے زیر التوا مقدمات کا قرض جنہیں جلد ازجلد نمٹایا جائے میں سمجھتا ہوں جسٹس آصف سعید کھوسہ کو سانحہ ساہیووال کا ازخود نوٹس لینا چاہئے تھا اسے اگر پاکستانی تاریخ نہیں تو ساہیووال کی تاریخ کا نائن الیون ضرور کہنا ہوگا کہتے ہیں پولیس والوں کی دوستی اچھی نہ دشمنی لیکن ا ب اس کویوں کہنا چاہئے کہ پولیس والے اچھے نہ پولیس والوں کی موجودگی اچھی اس واقعہ کے بعد ایک فیملی اپنی کار پر کہیں جا رہی تھی انہوں نے کار پر لکھ کر لگا دیا پولیس والو ہم دہشتگرد نہیں ہمارے ساتھ فیملی ہے ۔سوال یہ ہے کہ پولیس والے کون ہیں ۔یہ کہیں باہر سے تو نہیں منگوائے گئے ہیں ۔یہ کیوں اپنے ہم وطنوں پہ بار بار ظلم کرتے پائے جاتے ہیں ۔جب یہ ہم میں سے ہی ہیں تو پھر کیوں یہ اس طرح کے کام کر رہے ہیں ۔میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی عقل والا حکمران کسی پولیس فورس کو عوام پر گولیاں برسانے کا حکم نہیں دے سکتاہے ۔لیکن یاد رہے ہماری پولیس انگریز دور کے قانون پہ چل رہی ہے ۔انگریز وں نے اپنے سامراج کو دوام بخشنے کے لیے پولیس کی طاقت کو بار بار استعمال کیا تھا ۔کبھی جلیانوالہ باغ تو کبھی کہیں اور ۔یہ وہ باقیا ت ہیں جو ہماری پولیس کو ورثے میں ملی ہیں ۔اگر ملک میں بہتر پولیس فورس بنانی ہے تو انگریز کے قانون کی جگہ اسلام کے قانون کی بات لاگو کرنا ہوگی ۔ورنہ ایسے واقعات ہوتے رہیں گے ۔آج ساہیوال میں ہواہے کل کہیں اور ہوسکتا ہے ۔نظام میں بہتری لا نے کی عملی کوشش کر کے ملک میں بہتر رویے فروغ دینے ہوں گے۔


ای پیپر