لسّی پینے کا مقابلہ اور ’’ شوخے‘‘ کا تعارف؟؟
23 جنوری 2019 2019-01-23

’’لڑکیوں کا ٹیلنٹ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی چھینک میں بھی نزاکت پیداکر سکتی ہیں‘‘ ۔۔۔؟

یہ ایک سیانے کا قول ہے ۔۔۔ ’’آجکل کے سیانے‘‘ ایسے اقوال زریں ہی جاری کرتے ہیں۔ ایسی ہی باتوں پر ریسرچ کرتے ہیں کیونکہ وہ آپ نے سن رکھا ہو گا ۔۔۔ ’’جیسا دیس ویسی بھینس‘‘ ۔۔۔؟؟

سوری غلطی کی معافی ۔۔۔؟؟ ہماری ’’سیاست‘‘ میں مزاح ۔۔۔ ہماری ’’قیادت‘‘ میں مزاح ۔۔۔ ہماری ’’ریاضت‘‘ میں مزاح ۔۔۔ ہماری ’’۔۔۔‘‘ میں مزاح ۔۔۔ ہماری ’’۔۔۔‘‘ میں مزاح ۔۔۔ یہ جو میں نے خالی جگہ چھوڑی ہے ۔۔۔ اِس میں آپ مرضی کے لفظ ڈال کر اپنی اپنی مرضی کا مزہ حسب توفیق لے سکتے ہیں۔ کل جناب عطاء الحق قاسمی نے شہر کے لکھاریوں کے اعزاز میں ’’ ناشتہ‘‘ کا پروگرام رکھا ۔۔۔ میں ایسے چاک و چوبند سینئر کو دیکھتا ہوں تو ہمت پکڑتا ہوں۔ قاسمی صاحب نے ’’لسیّ‘‘ کا گلاس پیا ۔۔۔ تو میں نے دو پی ڈالے ۔۔۔ ’’ مظفر سمجھ رہا ہے یہاں لسیّ پینے کا مقابلہ ہو رہا ہے۔‘‘ ۔۔۔ قاسمی صاحب نے ہنستے ہوئے حافظ عزیز کو دیکھتے ہوئے کہا تو میں نے لسیّ کا خالی گلاس ایک طرف رکھا اور باداموں والے دودھ کے گلاس کو مُنہ لگایا ۔۔۔ ’’میزبان‘‘ نے گھورا تو ۔۔۔ مگر ہم نے چھٹی والے دن ناشتہ ہمیشہ مرضی کا کیا ہے۔

یہ ہمارا ریکارڈ ہے ۔۔۔ ’’جی ۔۔۔ آپ نے کیا کہا۔۔۔؟؟‘‘

’’ہم نے وزن (پیٹ) بڑھانے میں بھی ریکارڈ قائم کیا ہے؟‘‘

لازم نہیں کہ ہم ہرسوال یا جگت کا جواب موقع پر ہی دیں۔ اسی میں کامیابی ہے ۔۔۔؟!!

ناشتہ تناول فرما کر نکلے تو پارکنگ میں ایک صاحب کو سکیورٹی والے سے اُلجھتے دیکھا۔ ہم نے سکیورٹی والے کے اعتراض میں عقل کا استعمال دیکھا تو اُس کا ساتھ دینے کی جسارت کیا کی نئی نویلی کرولا والا ’’شوخا‘‘ ہمارے ہی گلے پڑ گیا ۔۔۔؟!

تم مجھے جانتے نہیں ۔۔۔؟

’’جی نہیں‘‘ میں نے جواب دیا ۔۔۔ ’’اچھا‘‘ حضور میں نے آپ کا چہرہ مبارک پہلی دفعہ دیکھا ۔۔۔ مجھے کیا معلوم آپ کون ہیں۔۔۔؟!! اِس دوران ہلمٹ پہنے ایک نو عمر نے نئی نویلی کرولا والے کی ٹانگوں میں تیز چلتی بڑی سی موٹرسائیکل گُھسا دی۔۔۔ ’’موصوف‘‘ نے اپنا تھری پیس جھاڑتے ہوئے اٹھتے ہوئے ۔۔۔ درد سے کراہتے ہوئے جو موٹرسائیکل والے ہلمٹ سوار کی طرف دیکھا توجہ کی ۔۔۔ ’’ہم تو نکل لیئے ۔۔۔‘‘؟!! یہ ہمارا قومی مزاج ہے۔

اس موقع پر ہمارا اپنا ہی یہ شعر ملاحظہ کریں جو رات کے دو بجے جب لاہور میں شدید بارش ہو رہی تھی۔ہیٹر کے پاس بیٹھے ’’مونگ پھلیاں‘‘ کھاتے ہوئے ’’ایجاد‘‘ کیا ۔۔۔ جی کیا کہا ۔۔۔ ’’چلغوزے‘‘ ۔۔۔؟؟؟

وہ اب ’’شریف ‘‘لوگوں کی پہنچ میں کہاں ۔۔۔؟؟ ہمارا تازہ شعر ملاحظہ کریں ۔۔۔؟؟

اِس درجہ ہے میٹھا تیرا لہجہ تیرے الفاظ

دشمن بھی سنے بول اُٹھے ’’ واہ ارے واہ واہ‘‘

یہ چھٹی والے دن بڑے ہوٹلوں میں ’’ناشتہ ‘‘ ایک منفرد سی روایت ہے۔ ویسے ماڈرن لڑکے لڑکیاں ’’ہلکی ہلکی‘‘ پوڑی حلوہ کھاتے ہیں تو ’’اُوئی‘‘ ۔۔۔ ’’اُوئی‘‘ کرتے ہیں ایسے Event کو وہ خوب ’’انجوائے‘‘ کرتے ہیں۔ اگرچہ کبھی کبھار پوڑی حلوہ کھانے سے اُن کو پیچش لگ جاتے ہیں یا لسیّ کا گلاس پینے سے ’’غنودگی‘‘ ہو جاتی ہے اور وہ ’’ٹن‘‘ ہو جاتے ہیں ۔۔۔ وعدہ کرتے ہیں (خود سے) کہ اب ایک سال تک اتنا Heavy ناشتہ نہیں کریں گے چاہے ’’وہ‘‘ یعنی ناشتہ کروانے والا روٹھ جائے ۔۔۔ جب ہم ’’کھد‘‘ سری پائے لسیّ چائے وغیرہ کا ناشتہ ’’ٹکا‘‘ کے روز کرتے تھے اور آپ کو حیرت نہیں ہوگی ۔۔۔ کیونکہ آپ بھی ہمارے ہی دور کے ہیں۔۔۔

کہ دو پیر گیارہ بجے لنچ کی تیاری شروع؟

ہو جاتی تھی ، اور بُھوک کا مت پوچھیں؟!!

تاریخ میں بڑھک مارنا ۔۔۔ کب اور کس نے ایجاد کیا یہ کھوج لگانا ہے تو ہمیں پاکستان فلم انڈسٹری کے مشہور وولن اور بعد میں ہیرو ۔۔۔ مظہر شاہ مرحوم اور سلطان راہی شہید کے گھر والوں سے رابطہ کرنا ہو گا ۔۔۔ شاید وہ لوگ اس ’’بڑھک بازی‘‘ کی تاریخ اور اس کی تاریخی اہمیت سے آگاہ ہوں ۔۔۔ ہمیں بہر حال یہ بڑھک مارنے والے اداکار پسند تھے اور آج کے بعد وہ اداکار بھی پسند ہیں جو بہر حال بڑھک مارنے کی کوشش کرتے تو ہیں مگر اُن میں سے کچھ کی بڑھک مارنے سے پتلون کی بیلٹ ڈھیلی ہو جاتی ہے یا اُنھیں پیٹ میں بل پڑ جانے سے 1122 کے ذریعے ایمرجنسی لے جانا پڑتا ہے ۔۔۔ یا کچھ بڑھک مارنے والے بیلنس قائم نہ رکھنے کے باعث چکرا کر گر جاتے ہیں اور اُٹھ کے پھر سے بڑھک مارنے کی کوشش کرتے ہیں اور شرمندہ ہو کر شیشے میں منہ دیکھنے لگتے ہیں ۔۔۔

کوئی نہیں ہے یہاں جیسا خوبرو تو ہے

حسیں بہت ہیں مگر میرے یار تو تُو ہے

ملک عطاء کا پرسوں فون آیا ۔۔۔ ’’تیرا بھرا وی 1122 دی سیر کر آیا اے‘‘ ۔۔۔

’’مبارکاں‘‘ ۔۔۔ واہ پہلے تو میرے منہ سے نکلا پھر میں نے معاملے کو سنجیدہ لیا تو پتہ چلا کہ ہمارے دوست ملک عطاء الرحمن آف باغبانپورہ کو ملتان نوکری کے دوران دل کا جان لیوا ’’ٹاکرا‘‘ ہوا خیر سے سخت جان ہیں خوش گفتار ہیں، خوش خوراک بھی ہیں ناشتے میں تین دوستوں کا جو ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں ناشتہ ہضم کر جاتے ہیں کم از کم لسّی کے ٹیبل پر جتنے بھی گلاس نظر آئیں چشم زدن میں حلق میں انڈیل لیتے ہیں ایسے دوستوں پر جب دل کی طرف سے ’’وار‘‘ ہو تو پھر 1122 اُن کی مدد کے لیے بہر حال شہر کے خاص خاص علاقوں میں موجود ہوتی ہے جہاں بھی ہمارے اس دوست کی مدد کو 1122 بر وقت پہنچ گئی اور وہ اللہ پاک کی نعمتوں کو کشادہ دلی سے ہڑپ کرنے کے لیے ہمارے درمیان موجود رہے ۔۔۔

اصل میں بڑھک بازی پر میرا آج لکھنے کا ارادہ نہیں تھا لیکن ملکی حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم بھی ساہیوال کے پُر سوز واقعہ کے حوالے سے بات کریں ۔۔۔ بڑے بڑے سیاسی ’’باوے‘‘ اس حوالے سے بڑے ’’بے لوث‘‘ بیانات جاری کر رہے ہیں کہ ہم یہ کر دیں گے، ہم وہ کر دیں گے ۔۔۔ دہشت گردی کی اس دور میں ادارے اپنا فرض تو بہر حال ادا کر رہے ہیں اور عوام کی جان و مال کی حفا ظت اداروں کا فرض اوّل ہے لیکن محتاط رویہ بھی تو ضروری ہے ۔۔۔ دودھ کا دودھ، پانی کا پانی اس وقعہ کے حوالے سے ہونا چاہئے مگر یہ سب کچھ بظاہر تو محض ’’بڑھک بازی‘‘ ہی لگتا ہے ۔۔۔ ’’دلوں کے بھید اللہ جانتا ہے‘‘ ۔۔۔؟!!


ای پیپر