ساہی وال سے سترہ سوال
23 جنوری 2019 2019-01-23

یہ بھی کم المیہ نہیں کہ دہشت گردی کی روک تھام کرنے والے ادارے نے ایک گاڑی پراندھا دھند فائرنگ کر کے تیرہ سالہ بچی سمیت چار افراد کو ہلاک کر دیا مگر اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کھلی بربریت نے سیکورٹی ایجنسیوں کے کام کرنے کے پورے نظام کو بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے۔ ہم بنیادی طور پرانگریز کے بنائے اس نظام کے قیدی ہیں جس کا مقصد عوام کا تحفظ نہیں بلکہ اپنی ناجائز حکمرانی اور وسائل کی لوٹ مار کو تحفظ دینا تھا۔ جب تک ہم اپنے سیکورٹی اداروں کے اختیارات اور طاقت کے استعمال کی بنیادی سمت درست نہیں کریں گے، کچھ بھی درست نہیں ہوگا۔ہمیں سمجھا دیا گیا ہے کہ آئین ، قوانین اور اخلاقیات ہی نہیں بلکہ بندوق ہی فیصلہ کرنے کی اصل صلاحیت اور اختیار ہے، مان لیجئے، ایسا ہرگز نہیں ہے ۔

پنجاب کے سابق آئی جی جناب احمد نسیم سے میں نے پوچھا تو انہوں نے واقعے کو افسوسناک تو قرار دیا مگر اس کے ساتھ ہی کہا کہ سی ٹی ڈی کا ادارہ نو برس پہلے قائم ہوا اور ان برسوں میں ایسی کوئی شکایت نہیںملی، یہ سی ٹی ڈی ہی ہے جس نے پنجاب کو دیگر تمام صوبوںکے مقابلے میں کہیں زیادہ پر امن بنا رکھا ہے کہ گزشتہ برس یہاں دہشت گردی کے صرف دو واقعات ہوئے۔یہ تصویر کا ایک رخ ہے، دوسرا رخ یہ ہے کہ سی ٹی ڈی سمیت دیگر اداروں کی ایسی کارروائیوں کے بے نقاب نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ سب اچھا ہے ،عین ممکن ہے کہ اگر یہ معاملہ سڑک کی بجائے کسی گھر میں ہوتا تو ہم سی ٹی ڈی اور آئی جی پنجاب کے دفتر سے جاری ہونے والی پریس ریلیز پر ہی دھمالیں ڈال رہے ہوتے کہ شیر جوانوں نے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے داعش کے خطرناک ترین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ وزیراعظم معائنہ کمیشن کے سابق سربراہ کرنل ریٹائرڈ سیف قریشی کہتے ہیں کہ یہ کوئی سڑک کنارے ہونے والے اتفاقی حادثہ نہیں کہ انٹیلی جنس شئیرنگ پر ہونے والی ہر کارروائی کا باقاعدہ ریکارڈ ہوتاہے۔ یہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ٹھنڈے دل و دماغ سے کئے گئے قتل ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے قتل کرنے کے بعد مقتولین کے زیور ، نقدی اور موبائل فون بھی لوٹ لئے اور ایسی کارروائیوں میں خواتین کی عزتیں بھی لوٹ لی جاتی ہیں۔ اس ایک کارروائی نے نہ صرف نو برسوں میں ہونے والی تمام کارروائیوں کو مشکوک کر دیا ہے بلکہ بلوچستان کے دوستوں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں ایک واقعہ ہوا ہے تو شور مچ گیا ہے، وہاں یہ معمول کی بات ہے کہ لوگوں کو مار کے دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے۔

سوالات اتنے زیادہ، طاقت ور اور خوفناک ہیں کہ دماغ کی نسیں پھاڑ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔پہلا، سی ٹی ڈی نے اس آپریشن کا فیصلہ کیوں کیا،کیا اس کے پاس ٹھوس معلومات تھیں، ظاہر یہ ہو رہا ہے کہ نہیں تھیں۔ محض ایک گاڑی کے مشکوک ہونے پر اس پر فائر کھول دینے کا حکم کسی طور جواز نہیں رکھتا جب یہ امکان بھی موجود ہوکہ گاڑی کرائے کی ہو سکتی ہے۔ سی ٹی ڈی کے پاس معلومات اور جواز کی عدم موجودگی کا ثبو ت اس کے لمحہ بہ لمحہ بدلتے ہوئے موقف بھی ہیں،پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا کہ اغوا ہونے والے تین بچوں کو گاڑی کی ڈگی سے برآمد کیا گیا جبکہ حقیقت یہ کھلی کہ ماں باپ کو گولیاں مارنے والے اہلکاروں نے ان کے بچوں کو اغوا کیا او رایک پٹرول پمپ پر چھوڑ دیا۔دوسرا، گاڑی میں سوار تمام لوگوں کو دہشت گرد قرار دینے کے بعداعلیٰ ترین حکومتی پالیسی کے مطابق یوٹرن لیا گیااور کہا گیا کہ صرف ذیشان دہشت گرد تھا مگر کیا ایک بھی ایسی ایف آئی آر بھی پروڈیوس کی جا سکی جو اسے مشکوک یا مطلوب ظاہر کرتی ہو ۔تیسرا، کہا گیا کہ گاڑی سے خود کش جیکٹیں اور بارودی مواد برآمد ہوا مگر سوال یہ ہے کہ جب سی ٹی ڈی اہلکارآلٹو کار کی چھوٹی سی ڈگی سے بیگ نکالتے اور سڑک پر گھسیٹتے ہوئے لے جا رہے تھے تو کیا اس وقت بم ڈسپوزل سکواڈ کو طلب کیا گیا، وہاں ایسی کوئی صورتحال نظر نہیں آتی، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اہلکاروں کو باردوی مواد کی موجودگی اور پھٹنے کا کوئی خدشہ نہیںتھا بلکہ اگر ایسا ہوتا تو تین درجن کے قریب چلنے والی گولیاں باردوی مواد کو ویسے ہی پھاڑ دیتیں۔ چوتھا،کارروائی کی بنیاد یہ بنائی جا رہی ہے کہ گاڑی سے ایک فائر ہوا جس کے بعد گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی مگر موقعے پر بنی ہوئی ویڈیوز اور تصاویر دکھا رہی ہیں کہ ڈرائیور ذیشان نے سیٹ بیلٹ باندھ رکھی تھی اوراس کے ہاتھ سٹئیرنگ اور گود میں تھے ، عینی شاہدین کے مطابق ڈالے نے بے دردی سے گاڑی کو ٹکر مارتے ہوئے سڑک کی اوپر کی جانب لے جا کر روکا جوظاہر کر رہا ہے کہ تحقیق اور تفتیش کا کوئی ارادہ ہی نہیں تھا، سوال یہ ہے کہ انہیں زندہ گرفتارکیوںنہیں کیا گیا۔ پانچواں، دلیل دی جا رہی ہے کہ سی ٹی ڈی اہلکاروں کی ان لوگوں سے کیا دشمنی ہو سکتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اہلکاروں نے باقاعدہ احکامات کے تحت یہ کارروائی کی، یقینی طور پر جب ان ہی کی معلومات کے مطابق گاڑی مانگا منڈی کے پاس ٹریس ہوئی اور اس کا تعاقب شروع کر دیا گیاتو اسے اوپر سے مانیٹر کیا جا رہا ہوگا،وہ کون لوگ تھے جو اس آپریشن کو مانیٹر کر رہے تھے۔ چھٹا، واضح ہوا کہ ہمارے تفتیشی ادارے ہرآپریشن کی اسی طرح جھوٹی کہانی بناتے ہیں جس طرح موٹرسائیکل سے فائرنگ اور فرار والی جھوٹی کہانی بنائی گئی اور آئی جی آفس سے جاری پریس ریلیز میں قرار دیا گیا کہ دہشت گردوں کی اپنی

فائرنگ سے خواتین ساتھی ہلاک ہوئیں، اطلاعات کا یہ گمراہ کن نظام کن مقاصد کے لئے چلایا جا رہا ہے۔ ساتواں، کسی بھی بڑے اورمطلوب دہشت گرد کی گرفتاری کے لئے نیشنل ایکشن پلان میں ایک باقاعدہ نظام موجود ہے جس میںمتعلقہ صوبے کے وزیراعلیٰ کی سربراہی میں اہم فیصلے کئے جاتے ہیں، اس آپریشن کا فیصلہ کس سطح پر ہوا۔ آٹھواں، صوبائی وزیر قانون راجا بشارت نے اسے آئی ایس آئی کی معاونت سے ہونے والا آپریشن کیوں قرار دیا جس نے آئی ایس آئی کی کارکردگی پر بھی سوالات پیدا کر دئیے ہیں۔ نوواں، وزیر قانون نے دیگر وزراءکے ساتھ مل کر ذیشان کے گھر سے فرار ہونے اور گوجرانوالہ میں جا کے پھٹ جانے والے دہشت گردوں کی کہانی کیوں سنائی، کیا یہ ایک جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے جھوٹ کا تسلسل تھا، وہ دونوں کون تھے، ان کی ٹریکنگ کیسے ہوئی اور جب ذیشان دہشت گرد تھا تو اس کے گھر سے یا اتنی بڑی کارروائی کے بعد فرار ہوتے ہوئے انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔ دسواں، اگریہ ایک قانونی کارروائی تھی تو اہلکار لاشوں کو چھوڑ کے بھاگ کیوں نکلے۔ گیارہواں، جے آئی ٹی پیٹی بھراوں پر کیوں مشتمل ہے کیونکہ جب میں نے جتنے بھی اعلیٰ پولیس افسران سے بات کی تو انہوں نے اسے عام واقعہ قرار دیا اور کہا کہ میڈیا خوا مخواہ کی ہائپ پیدا کر رہا ہے۔کیا اس مائنڈ سیٹ کے ساتھ آپ انصاف کر سکتے ہیں۔ بارہواں، کیا صوبائی وزیر قانون اور دیگر رہنماو¿ں کو کولیٹرل ڈیمج کی تعریف معلوم ہے یاسوچی سمجھی سکیم کے تحت امریکی اصطلاحات سے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کولیٹرل ڈیمج ہمیشہ مقابلے میں ہوتا ہے اور ایسی کارروائیا ں بند عمارتوں ، سرنگوں یا غاروں میں ہونے کی وجہ سے نقصان کرتی ہیں سڑکوں پر نہیں۔تیرہواں، اگر یہ دہشت گردوں کے خلاف ہی کارروائی تھی تو حکومت پنجاب نے جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے سے پہلے ہی دو کروڑ روپے امداد کا اعلان کیو ں کر دیا، سچ ہے جھوٹ کے پاو¿ں نہیں ہوتے۔ چودہواں، جب آپریشن کرنے اور اس کا حکم دینے والے ادارے کا سب کو علم ہے تو پھر ایف آئی آر نامعلوم لوگوں کے خلاف کیوں کاٹی گئی ہے یعنی بے انصافی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔پندرہواں، جب بشریٰ بی بی کی بیٹی کو روکنے پر ڈی پی او اور ایک وزیر کے فارم پر گائے داخل ہونے پر ایک آئی جی معطل ہو سکتا ہے تو اب کارروائی کے لئے جے آئی ٹی کا کیوں انتظار کیا جا رہا ہے۔کیا حکومت مظلوموں کے خلاف فریق بن گئی ہے اور کیا یہاں دونوں اداروں کے بااثر افسران اثراندازنہیں ہو رہے۔ سولہواں،اگرسیکورٹی اداروں کی طرف سے ایک دہشت گرد کے خلاف دن کی روشنی میں کارروائی اتنی مشکوک ہے تو اب تک کی کارروائیوں اور فوجی عدالتوں میں ملنے والی سزاو¿ں کا عدالتی اور قانونی سٹیٹس کیا ہے ۔آخری سترہواں سوال یہ ہے کہ حکمران تو دعوی کرتے تھے کہ پاکستان میں داعش کا وجود ہی نہیںتو پھر اتنا بڑا نیٹ ورک کہاں سے آ گیا جس میں عام کریانہ سٹور مالکان بھی شامل ہیں؟


ای پیپر