اپوزیشن اتحاد ۔۔۔قومی سیاست کا بدلتا چہرہ
23 جنوری 2019 (00:02) 2019-01-23

کل کے دشمن آج کے سجن بن گئے، مگر” سیاست “ میں سب چلتا ہے۔۔۔

خصوصی تجزیہ ۔۔۔ہمایوں سلیم 

حکومت کے خلاف اپوزیشن کا اتحاد بنانا، حکومتی پالیسوں پر تنقید کرنا اور اپنے جائز حقوق کے حصول یا جائز مطالبات منوانے کے لئے احتجاج اور جلسے، جلوسوں کا سہارا لینا جمہوریت کی خوبصورتی ہے، کیونکہ جب کسی بھی ملک میں آمریت کے سائے پھیلے ہوں تو یہ ساری باتیں کسی اور ہی دنیا کی محسوس ہوتی ہیں، اس لئے یہ سب جمہوری دور ہی میں ہو سکتا ہے۔

یہ سب جمہوریت کا حُسن تو ہے لیکن کس حد تک اور کن حدودوقیود میں رہ کر؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر جمہوریت پسند ذہن میں پیدا ہوتا ہے اور وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ موجودہ حالات میں اپوزیشن کی اتحاد کی باتیں کس کام کے لئے ہیں، کیا ملک میں کوئی فوجی حکومت ہے جس سے خلاصی کے لئے میثاق جمہوریت پر عمل کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔

گزشتہ دنوں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف جس اتحاد کا عزم کیا، اس کا مقصد ایک جمہوری حکومت کو چلنے سے روکنا ہے یا جمہوریت مضبوط کرنا؟15جنوری کو سابق صدر آصف علی زرداری نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کی نوید سنائی اور حزب اختلاف نے حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ۔ میڈیا سے گفتگو میں آصف زرداری نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ہوگیا ہے، تمام اپوزیشن کی نمائندگی کے لیے کمیٹی بنادی گئی ہے۔ اس اتحاد کیلئے اجلاس اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے چیمبر میں ہوا، جس میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف، سابق صدر آصف زرداری، بلاول بھٹو زرداری،نوید قمر،مولانا سعد الرحمن،امیر حیدر خان ہوتی ، شاہدخاقان عباسی، احسن اقبال اور رانا تنویر نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کی معاشی صورت حال پر سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ حکومت کو فری ہینڈ دینے سے ملک خطرے سے دو چار ہوسکتا ہے۔جہاں معاشی امور پر حکومت کو پارلیمنٹ میں ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا گیا وہیں دیگر معاملات پر بھی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا اعلان کیا گیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ فوجی عدالتوں کے معاملے پر حکومت کے باضابطہ رابطے کے بعد پالیسی واضح کی جائے گی اور اس حوالے سے بھی اپوزیشن متفقہ پالیسی اختیار کرے گی۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں صحافی نے آصف علی زرداری نے سوال کیا کہ کیا اتحاد ہوسکتا ہے؟ جس پر سابق صدر نے کہا کہ اتحاد ہوگیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے اور تمام مسائل کے حل کےلئے مشترکہ جدوجہد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہمند ڈیم سنگل بڈ پر دیا گیا،معاشی حکمت عملی ہو یا میڈیا کی آزادی مشترکہ لائحہ عمل بنے گا، آج طے پایا کہ مشترکہ کمیٹی حکومت سے تمام امور پر بات کرے گی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ معاشی بحران حکومت کی بدترین نااہلی کا ثبوت ہے، معاشی، انسانی اور جمہوری حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، میثاق جمہوریت کو آگے بڑھا یا جائے گا۔

اپوزیشن کی موجودہ حکمت عملی دیکھ کر فارسی کی ضرب المثل یاد آگئی۔ جو یوں ہے ”کبوتر با کبوتر ، باز با باز“ یعنی چوروں کے یار بھی چور اور اُن کے یار بھی چور.... یہ میں قطعاََ اپوزیشن کی بات نہیں کر رہا ! اور کروں بھی کیوں؟ جنہوں نے عوام کی دولت کو سالہا سال لوٹا اور پھر بجائے ندامت کے یہ کہیں کہ” آپ کو حکومت نہیں چلانا آتی تو چھوڑ دیں“میں اُن سے محض یہ پوچھتا ہوں کہ جن لوگوں کو ملک چلانا آتا تھا جنہوں نے اس ملک پر حکمرانی کی انہوں نے ملک کو جس حالت میں چھوڑا ہے، اُس کی ذمہ داری کون لے گا؟ آج تو حالت یہ ہورہی ہے:

کیا یہ لوگ اس بات کو بھول گئے کہ کس طرح انہوں نے ریاستی اداروں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا، اگر انہیں ملک چلانا آتا تھا تو یہ لوگ سسٹم ہی ٹھیک کر دیتے ۔ حال ہی میں سپریم کورٹ میں جمع کرائی جانے والی ایک فہرست کے مطابق نیب نے اب تک 65 سیاسی رہنماﺅں اور سرکاری افسروں کے خلاف تحقیقات کی ہیں ان میں سے 19 کا تعلق سندھ سے 19 کا خیبر پختونخوا سے 18 کا پنجاب سے اور 9 کا بلوچستان سے ہے۔ ان میں سے پیپلز پارٹی کے 16 مسلم لیگ ن کے 10 مسلم لیگ ق کے 5 ایم کیو ایم کے 4 تحریک انصاف مسلم لیگ فنکشنل، جے یو آئی، اے این پی، بی این بی کا ایک ایک عہدیدار اور ایک آزاد رکن اسمبلی ہے ان میں سے بعض پر غیر قانونی بھرتیوں، بعض پر آمدنی سے زیادہ اثاثے رکھنے، فنڈز کی خورد برد، کرپشن، پلاٹوں کی ناجائز الاٹمنٹ، اختیارات سے تجاوز یا آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے الزامات ہیں۔ پارلیمنٹ اور سینیٹ میں تقریباً ہر روز نیب کے قوانین اور ان کے تحت کارروائی پر تنقید کی جا رہی ہے۔ یہ جو شور بپا ہے یہ حقیقت میں اور کچھ نہیں یہ اُن لوگوں کی چیخیں ہیں جنہوں نے غریبوں کا مال کھایا ہے۔

حد تو یہ ہے کہ جن کو حکومت چلانی آتی ہے ان کے ایسے ایسے کرپشن کے کیس نکل رہے ہیں کہ ملت کے ہر فرد کے پاس سوائے رونے کے کچھ نہیں بچتا۔ سندھ میں ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کے الزام میں ایم کیو ایم کے 726 رہنماﺅں اور کارکنوں کو طلبی کے نوٹس اور 4کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں۔ سپریم کورٹ کی قائم کردہ جے آئی ٹی نے سندھ کے تمام ترقیاتی منصوبوں کا 5 سالہ ریکارڈ طلب کر لیا ہے اور ترقیاتی اسکیموں کے پروجیکٹ چارٹر، مخصوص بجٹ جاری رقوم اور اخراجات کی تفصیلات کے لئے چیف سیکرٹری کو خط لکھا ہے۔ الغرض پورے ملک میں احتساب کا عمل جاری ہے،کرپٹ افراد اور اداروں کا احتساب پوری قوم کی خواہش ہے ۔ کیوں کہ گزشتہ تین دہائیوں سے قوم احتساب کے لئے پکار رہی ہے کیونکہ اس سے قبل کبھی اس قدر لوٹ مار کا غدر بپا نہیں ہوا جس قدر گزشتہ تیس برس میں دیکھا گیا ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق لوٹ مار، خزانہ چوری اور کرپشن کا شور بپا کرنے اور عوام کے ذہنوں میں اس تاثر کو راسخ کرنے میں خود سیاسی پارٹیوں اور سیاست دانوں نے اہم ترین کردار سر انجام دیا۔ غلام اسحاق خان، فاروق لغاری اور جنرل ضیاءالحق نے کئی بار حکومتیں ڈسمس کیں اور ہر بار ایک ہی الزام دہرایا کہ کرپشن نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ ان تیس برسوں میں باری باری دو پارٹیاں اور دو خاندان برسر اقتدار آتے رہے اور دونوں ایک دوسرے پر نہ صرف ہمالیہ برابر کرپشن کا الزام لگاتے رہے بلکہ احتساب کا ڈرامہ بھی رچاتے رہے۔ ” احتساب الرحمان“ کا احتساب اس سلسلے کی اہم ترین اور آخری کڑی تھی۔ تین دہائیوں پر محیط اس مہم نے دیہات سے لے کر شہروں تک عوام کو یقین دلا دیا کہ ہمارے حکمران کرپشن سے لت پت ہیں اور انہی کی لوٹ مار دراصل قوم کی غربت کا سبب ہے۔ اخبارات، بیانات اور سیاسی مہمات کے ساتھ ساتھ افواہوں کی مہم بھی جاری رہی جس نے خاص طور پر زرداری کی حصول زر کی ایسی ایسی داستانوں کو جنم دیا جو سننے میں افسانوی لگتی تھیں لیکن جب سرے محل، نیویارک کے مہنگے ترین علاقے مین ہیٹن میں مہنگے ترین اپارٹمنٹ، سندھ میں نامی و بے نامی شوگر ملوں، فرانس اور یو اے ای میں محلات اور سوئٹزر لینڈ میں ایس جی ایس اور کوٹیکنا کمپنی سے وصول کردہ چھ کروڑ ڈالر کی داستانیں حقیقت بن کر سامنے آئیں تو افسانوں نے سچ کا روپ دھار لیا۔ اسی طرح میاں فیملی کی لندن کی جائیدادوں نے بھی کرپشن کے تاثر کو ہوا دی، تین دہائیوں کی کرپشن کی کہانیاں ہر شہری تک پہنچیں تو احتساب قوم کے دل کی آرزو بن گیا۔ دیکھنے والی نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ 2018ءکے انتخابات میں کرپشن سب سے بڑا ایشو ہو گا، لوٹی ہوئی دولت باہر سے واپس لانا رائے دہندگان کی سب سے بڑی آرزو ہو گی، لوٹ مار کرنے والوں کو سزا لوگوں کی دُعا ہو گی۔ لیکن اس سارے معاملے میں پانامہ لیکس کے حوالے سے جو شور مچا جسے آپ عمران خان کے لیے قدرت کا انمول تحفہ کہہ دیں یا شریف خاندان کے لیے پھندا کے باقی افراد پر کیوں ہاتھ نہیں ڈالا جا رہا ۔ اس حوالے سے اسد عمر نے پانامہ لیکس میں شامل پاکستانیوں کے خلاف کارروائی کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کیں ہیں جن کے مطابق پانامہ لیکس میں 444 پاکستانیوں کے نام شامل ہیں جن میں سے دو سو چورانوے افراد کو نوٹس جاری کئے جا چکے ہیں۔ جبکہ ایک سو پچاس افراد کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ پانامہ لیکس میں شامل 12 افراد وفات پا چکے جب کہ چار پاکستانی شہریت چھوڑ چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان چار سے زائد افراد جن کا نام پانامہ لیکس میں آیا ان میں شریف خاندان بھی شامل ہے۔ ان لوگوں سے ابھی تک محض 4 ارب روپے ہی وصول کیے جا سکے ہیں۔ حالانکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق ان پانامہ کمپنیوں میں پاکستان سے 2500 ارب روپے چوری کر کے لگائے گئے ہیں۔ اتنی بڑی رقم میں سے محض 4 ارب روپے کا اکٹھا ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ ملک کو اس وقت پائی پائی کی ضرورت ہے جب کہ یہ 400 افراد ملک میں آسانی سے گھوم پھر رہے ہیں۔ کیس عدالتوں میں ہیں جب کہ رقم واپس لینے میں کوئی سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہا۔ لہٰذا پانامہ لیکس کے ذمہ داران خواہ وہ حکومت میں ہی کیوں نہ ہوں اُن کی پکڑ ہونی چاہیے۔ کیوں کہ اگر موجودہ حکومت احتساب کرنے میں ناکام ہوگئی تو پھر یہ لوگ بھی اپنی جگہ تلاش کرنے کے لیے کام کریں۔ لہٰذاموجودہ صورتحال میں ناکام ہونا خودکشی کرنے کے مترادف ہے۔ لہٰذابقول اپوزیشن کہ ان لوگوں کو حکومت کرنا نہیں آتی، خدارا انہیں حکومت کرنے دیں تاکہ ملک ”باریوں“ سے باہر نکلے اور سکھ کا سانس لے اور یہ بات تو طے ہے کہ گزشتہ حکومتوں نے احتساب کے نام پر قوم سے فراڈ کیا ہے۔ اب قوم تشویش میں مبتلا ہے کہ کہیں اس بار بھی احتساب کی آرزو فریب ہی ثابت نہ ہو۔

بہرکیف احتساب شفاف منصفانہ اور غیر جانبدارانہ ہونا چاہئے تا کہ کسی سے زیادتی نہ ہو یہ تاثر ہر گز نہیں پیدا ہونا چاہئے کہ کچھ لوگوں کو اس لئے پکڑا جا رہا ہے کہ وہ حکومت کے مخالف ہیں اور کچھ سے اس لئے چشم پوشی کی جا رہی ہے کہ وہ اس کے اپنے ہیں۔ احتساب کے عمل میں پسند و ناپسند کا کوئی دخل نہیں ہونا چاہئے، یہی نئے پاکستان کا تقاضا ہے۔ اور قوم کوعلم ہے کہ جن کو ملک چلانا آتا ہے انہوں نے اس ملک کا کس قدر بیڑہ غرق کیا ہے لہٰذاوہ کبھی ان کی باتوں میں نہیں آئیں گے!


ای پیپر