Naibaat Magazine Report
23 فروری 2021 (22:38) 2021-02-23

جبران علی:

میرا نام ضمیر ہے۔ ویسے تو میں بہت خوبصورت ہوں مگر کچھ لوگوں نے مجھے بد صورت بنا دیا ہے۔ میں جہاں اچھے محلوں میں رہتا ہوں وہاں میں بدنام محلے کا بھی باسی ہوں۔ یا یوں کہہ لوں کہ میں اچھے اور برے دونوں کا ساتھی ہوں۔ اچھا مجھے اچھے طریقے سے کام میں لاتا ہے اور برا مجھے برے طریقے سے استعمال کرتا ہے۔ لیکن اگر کوئی حقیقت پوچھے تو یہ سچ ہے کہ میں ہر انسان کے دل میں رہتا ہوں۔ میری آواز اتنی خوبصورت ہے جو اچھے انسانوں کے دل کی گہرائیوں سے قلبی کیفیات کے زور پر اٹھتی ہے اور ہر اس عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہے جو انسان اپنے نفس کے بے قابو گھوڑے پر انسانیت کی حدود پھلانگنے کی کوشش کرتا ہے۔اخلاقیات کے بندھن توڑتا ہے۔ اپنی معاشرتی بداعمالیوں سے معاشرے کے امن اورچین میں خلل پیدا کرتا ہے۔اس کے جھٹکے اس وقت تک لگتے رہتے ہیں جب تک انسان اپنی نفسانی خواہش سے باز نہیں آتا۔

کبھی میں اسے اخلاقی پابندیوں کا واسطہ دیکر سمجھاتا ہوں اور کبھی گناہ کے فلسفے کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں، کبھی خاندانی شہرت پر داغ لگنے کی دھمکی دیتا ہوں ، کبھی ذاتی بے راہ روی کے طعنے دیتا ہوں، کبھی آخرت کے عذاب کا خوف دلاتا ہوں، کبھی معاشرتی تنقید کا ڈر ذہن میں بٹھاتا ہوں، کبھی قانونی حجاب کے پردے ہٹانے کی کوشش کرتا ہوں اورکبھی احتساب کا خوف رکاوٹ بننے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن جب کوئی طریقہ کامیاب نہ ہو ، بے عملی اور بے راہ روی غالب رہے تو جرم گناہ کے ساتھ یہی ندامت کا روپ سامنے لاتا ہے۔

اچھا شخص تو میری آواز پر چونک پڑتا ہے اور مجھے سننے اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن برا آدمی مجھے سننے کی بجائے یا مجھے سمجھنے کی بجائے مجھے بزدلی کے طعنے دیتا ہے اور الٹا مجھے قصور وار ٹھہرا کر نئی نئی دلیلیں پیش کرتا ہے، بلکہ نئی نئی تاولیں پیش کرتا ہے۔ 

بحرحال بات ہو رہی تھی ضمیر کی کہ یہ وہ خیر کا عنصر ہے جو شر پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے۔ندامت کے جھٹکے اور غلطیوں سے توبہ، اس کے روپ ہیں، جو جرم گناہ کو مسخ کر دیتے ہیں۔یہ منبع ہے جو انسان کے اندر سے پھوٹتا ہے۔ یہ دل و دماغ کی وہ کیفیتیں ہیں جو خواہشات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔چونکہ انسان دنیاوی طلب میں اس قدر حریص اور بے پرواہ ہوتا ہے۔ لذت کے شوق اور منعفت میں سبقت لے جانے کے جذبے سے اخلاقی بندھن سے بے پرواہ ، رزقِ حلال اور حرام میں تمیز کئے بغیر آگے بڑھنے میں سبقت ، آسائشات اور خواہشات کے دھارے میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔اس طرح انسانی شخصیت میں ضمیر کی طاقت کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔جب یہ کیفیت زیادہ طاقتور اور با اثر ہو جائے تو اندر کا انسان مردہ ہو جاتا ہے جو اخلاقی کیفیات کو محسوس نہیں کرتا۔اچھائی اور برائی کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔حلال اور حرام کی پہچان رک جاتی ہے۔لوگوں کی محسوسات کی رسائی کانوں تک پہنچنا بند ہو جاتی ہے۔ یہی معاشرتی اکائی کی بد ترین مثال ہے۔اگر انسان رزق حلال اور حرام میں تمیز کر سکے ، بچوں کی پرورش میں رزقِ حلال کی خواہش کرے، جدوجہد کو شعار بنائے، محنت کی عظمت کو پہچانے تو ضمیر کی بقاء  اس کی بداعمالی میں رکاوٹ بنتی ہے۔اس سے انسانیت کی بقا ء  اور معاشرتی پھیلاو میں خرابیاں کم ہوتی ہیں۔تسکین ہوتی ہے۔اطمینان قلب ہوتا ہے۔ہر عمل میں انصاف کا عنصر نظر آتا ہے۔شرم و حیاء  کا حجاب، اچھے برے کی تمیز، اچھائی اور برائی کا پیمانہ ، نیکی اور بدی کا احساس ، ٹھیک اور غلط کی سوچ، حق اور نا حق کی پہچان، یہ زندگی کو پرکھنے کے آلے ہیں جو ضمیر کی زندگی سے اپنا وجود قائم رکھتے ہیں۔اندر کے انسان کا باہر کے انسان پر حاوی ہونا، معاشرتی خرابیوں اوربرائیوں کی راہ میں رکاوٹ کا بہترین آلہ ہیں ، اس کی بناوٹ میں بہترین کردار جہاں ماں کی گود، معاشرتی ماحول ہیں وہاں یہ کام مدرسوں اور دینی تعلیمات کا تھا۔نہ جانے اب یہ اثرات کیوں مٹتے جا رہے ہیں۔

اگر دیکھا جائے  تواس کرہ ارض پر ضمیر کی آواز سے بڑھ کر کوئی آواز نہیں ہے۔یہ ضمیر کی آواز ہی تھی کہ جب آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالا گیاتو اْنھوں نے ضمیر کی آواز بجالاتے ہوئے خداباری تعالٰی سے معافی کی طلب کی اور اللّہ تعالٰی نے قبول بھی کی۔مگر یہاں بات کسی عام شخص کی نہیں ہورہی بلکہ اس دنیا میں اْتارے گئے سب سے پہلے شخص کی ہو رہی ہے۔مگر ہم سب تو عام انسان ہیں غلطیوں کی پتلے چلتے پھرتے گناہ و غلطیاں کر بیٹھتے ہیں اور کبھی غلطی سے ہمارا ضمیر ملامت کر بھی بیٹھے تو ہم اللّہ تعالٰی سے معافی مانگ لیتے ہیں مگر اْس کی مخلوق سے پھر بھی معافی نہیں مانگتے حالانکہ حقوق اللّہ کے ساتھ حقوق العباد بھی اہم ہے۔مگر اپنی انا کے خاطر معافی نہیں مانگتے کیوں کے ہم اگر معافی مانگ لینگے تو ہمارا سر جْھک جائے گا ہماری انا مجروح ہوجائے گی۔

کیا ہم سے کوئی یہ سوچتا ہے کے ہمارے معاشرے میں بدحالی کا سبب کیا ہے کوئی بھی اس بات کے طرف دھیان نہیں دیتا سوچنا سمجھنا ہر انسان کا ذاتی حق ہے مگر ہم نے اپنے ارد گرد دیوار کھڑی کر رکھی ہے،جس میں سے ہم نکلنا ہی نہیں چاہتے ہر چیز کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھیرانا دوسروں پے کیچڑ اْچھالنا ہمارا معمول بن گیا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ ایک سیاست دان دوسرے سیاست دان کو بْرا کہتا ہے اور پھر خود بھی وہ ہی کام کرتا ہے جو دوسرے نے کیا۔یہ عام بن گیا ہے۔اْس پے ستم یہ کہ حالات کو بہتر بنایا جائے یہ کہہ کے کچھ نہیں کرتے ہم سے پہلے والوں نے اتنا بگاڑ دیا ہے کے اْس کو صحیح کرتے کرتے وقت لگے گامگر حقیقت اس کے برعکس ہے اصل بات تو یہ غور طلب ہے کے ہمارا مْلک جو اب تک تیسری دنیا میں شمار کیا جاتا ہے اْس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کوئی اپنی وجہ شہرت میں لگ گیا ہے،ملک جہاں تھا وہی کھڑا ہے اگر تھوڑی بہت ترقی ہونے بھی لگتی ہے تو نیا آنے والا پْرانے والے کا کام بْرا بھلا کہہ کر روک دیتا ہے لہذا ترقی پھر ادھوری رہ جاتی ہے۔آخر ہم کب تک صرف دوسرے کے طرف دیکھ کر بْرائیاں نکالتے رہیں گے،اپنے گریبان میں کب جھانکیں گے۔

غلطی صرف حکمران کی نہیں۔ ہماری بھی ہیں جس کی وجہ سے ہم آج تک وہیں قدم جمائے ہوئے ہیں جہاں دوسرے نشان چھوڑ گئے تھے۔نوجوان نسل بے روزگاری سے تنگ آکر دوسرے ممالک جارہے ہیں،اور پھر وہ بھی وہیں کے گْن گارہے ہیں۔صرف حکومت کے بدل جانے سے ہمارے حالات نہیں بدلیں گے ،ہمیں خود کو بھی بدلنا ہوگا اوراپنی سوچ کو بھی،اپنے ضمیر کی آواز کو سنْناہوگا۔نئے آنے والے معماروں کے لئے خودکچھ کرنا ہوگا ورنہ شیطان کے چیلے ہمارے بازو کاٹتے چلے جائیں گے اور ہم پہلے والوں کی طرح کچھ نہیں کرپائیں گے۔ملک میں غربت ختم کرنے کے لئے ہمیں غریب کا دل رکھ کر سوچنا ہوگا تب ہیں جاکر مْلک سے غربت افلاس کا خاتمہ ہوگا۔کب تک ہم دوسروں کی کشتیاں جلا کر خوش ہوتے رہے گے،مْلک کی خوشحالی کے لئے ہمیں اپنے اندر سے تعصب کی بیماری کا خاتمہ کرنا ہوگا۔دوسروں کے گھر پے کچڑا پھنکنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا کیوں کہ اسی کچرے کی مہک ہمارے گھر تک بھی آئے گی،اس لیے سوچنے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔


ای پیپر