PML-N, 23 polling stations, Daska by-election, PTI leaders, PM Imran Khan
23 فروری 2021 (12:28) 2021-02-23

اسلام آباد: تحریک انصاف کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو ڈسکہ انتخاب میں 23 پولنگ اسٹیشنز پر اعتراض ہے تو وہاں پولنگ دوبارہ کرالے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے این اے 75 سے تحریک انصاف کے امیدوار علی اسجد ملہی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان نے یہ سیٹ جیتی ہے ، مسلم لیگ (ن) کو معلوم ہوا وہ ہار رہے ہیں تو مسئلہ کھڑا کر دیا ، مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے حلقے کا امن و امان برباد کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ قانونی طور پر وہی ریلیف مانگ سکتے ہیں جس کیلئے درخواست دی ، ہماری سماعت بہت بہتر رہی ، آر او نے بیانات دیئے ہیں۔ آر او کے بیانات سے ہم نے اتفاق کیا ، کوئی اعتراض نہیں۔

عثمان ڈار نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ کی طرح اپنا بیانیہ تبدیل کیا ہے ، سلمان اکرم راجہ نے کہا وہ پورے حلقے میں پولنگ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈسکہ کے الیکشن کو متنازعہ بنانا چاہتے ہیں۔

رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ 337 پولنگ اسٹیشن تک الیکشن بالکل ٹھیک چل رہا تھا ، 337 پولنگ اسٹیشن تک تمام نتائج کو مسلم لیگ ن نے قبول کیا۔ آج مسلم لیگ ن نے یوٹرن لیا اور الیکشن پر سوال اٹھائے۔

وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا کہ وزیراعظم نے علی اسجد کو اپنی درخواست واپس لینے کیلئے کہا ہے۔ علی اسجد نے اپنی درخواست واپس لینے کیلئے عدالت سے کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم الیکشن کمیشن کو غیر جانبدار اور شفاف بنانا چاہتے ہیں ، الیکشن کمیشن آزاد ادارہ ہے۔

فواد چودھری نے کہا کہ قانونی طور پر الیکشن کمیشن رزلٹ روکنے کا مجاز نہیں ، ہمیں الیکشن میں اصلاحات کی طرف بڑھنا ہے ، ہم الیکشن میں الیکٹرانک ووٹنگ لا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنا مؤقف تبدیل کرلیا ہے ، اب الیکشن کمیشن جانے اور مسلم لیگ (ن) والے جانیں ، مسلم لیگ (ن) کو 23 پولنگ اسٹیشنز پر اعتراض ہے تو وہاں پولنگ دوبارہ کرالے۔


ای پیپر