Asif Inayat columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
23 فروری 2021 (11:56) 2021-02-23

ہمارے ہاں اکثر بولاجاتا ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے حالانکہ عروج کو نہیں ہمیشہ تکبر کو زوال ہے۔ اگر عروج کو زوال ہوتا تو دنیا میں جن لوگوں نے انسانیت کے لیے خدمات انجام دیں آج ان کا نام دنیا کی سو بڑی شخصیات، دنیا کے بڑے آدمی و دیگر عنوانات سے کتابوں کی زینت نہ بنتے مگر تکبر کرنے والے ممکن نہیں کہ زوال دیکھے بغیر دنیا سے رخصت ہوئے ہوں۔ 1400 سال پہلے آقا کریمﷺ کے دست شفقت ،رہنمائی اور صحبت میں تربیت پانے والی صحابہ کرامؓ کی جماعت کو آج تک زوال نہ آیا۔ حضرت عمرؓ کا نام دنیا کی بڑی شخصیات میں 52 ویں نمبر پر آج بھی موجود ہے اور حضرت علی علیہ السلام کی بصیرت و تدبر کا آج بھی زمانہ معترف ہے۔ اگر شخصیات گنوانی شروع کی جائیں تو شاید کتابیں لکھی جائیں۔ عروج انسانیت کے اصولوں اور خدمات میں ہے وہ چاہے حاتم طائی ہو یا میو برادران۔ مورخین ہوں یا حکماء، علماء ہوں یا سائنس دان۔ عاجزی سے عروج کی عظمت دو آتشہ ہو جایا کرتی ہے۔ انسانی خدمات انجام دینے کے لیے کسی خاص شعبے کی ضرورت نہیں کسی بھی شعبے میں انسانیت کی خدمت کی جا سکتی ہے مگر تکبر تو عبادت کا بھی ذلیل کروا کے رکھ دیتا ہے۔ شیطان سے لے کر آج تک کے شیاطین دیکھ لیں۔ دنیا کی تہذیبوں کو عروج آیا سینکڑوں سال تہذیبوں نے دنیا پر راج کیا مگر جب وہ تکبر و رعونت میں مبتلا ہوئیں تو پھر ایسے مٹ گئیں کہ کسی کو بھی یاد نہ رہا۔ مصری، یونانی، امریکی، یورپی، آریائی، سامی، بابل، سندھ وغیرہ کی تہذیب کا بھی دنیا میں راج رہا۔ پوری پوری تہذیب اور زمانوں کو زوال دیکھنا پڑا، شخصیات کی اوقات ہی کیاہے۔ وطن عزیز میں کیا کیا اور کون کون سی شخصیات آئیں اور آج خیال و خواب ہوئیں۔ کچھ تو جیتے جی زیر زمین ہو گئے اور کچھ زیر زمین ہیں مگر دلوں کے مکین ہیں۔ زیادہ پرانی بات نہیں ایوب خان ، ضیاء الحق (یاد رہے کہ منافق متکبر سے بھی برا ہوتا ہے) پرویز مشرف، جسٹس منیر ، مولوی مشتاق کو کیسے یاد کیا جاتا ہے؟ جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس کھوسہ، جسٹس ثاقب کا قصہ کیا ہوا؟ عدالت سے پھانسی پانے والے شہید کہلائے ۔ صادق اور امین قرار پانے والے قوم میں نا اہل قرار پائے۔ عدالت سے نااہل مقبول ترین قرار دیئے گئے۔ یہ کیا ماجرا ہے؟ دراصل سچ اور حقیقت بہت بے باک اور بے لحاظ ہوتی ہے۔ یہ آنکھیں پھاڑ کر سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ موجودہ چیف جسٹس اور عدالت عظمیٰ کے ہاتھ میں آج اُن قلم ہے دراصل وہ فیصلے نہیں اپنی تاریخ لکھ رہے ہیں آج قلم ان کے ہاتھ میں ہے کل مؤرخین کے ہاتھ میں ہو گا۔ میں ہمیشہ سول بیوروکریسی کو نائلون کی جراب کہتا کہ یہ ہر پاؤں میں فٹ آتی ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ بیورو کریسی سے آئے ہوئے جسٹس رستم خان کیانی ہوں یا موجودہ چیف الیکشن کمشنر نے تاریخ رقم کی ہے۔ میں بیسیوں بیورو کریٹ گنوا سکتا ہوں جو حق پر کھڑے ہو گئے مگر افسوس کہ (چند استثنیٰ کے علاوہ) جب بھی قوم نے 

عدلیہ کی طرف دیکھا تومایوس ہوئی۔ جسٹس کارنیلیئس نے جسٹس منیر احمد کے فیصلے میں اختلافی نوٹ لکھا تھا جن کے بعد جسٹس وقار سیٹھ کے فیصلے اور آج جسٹس فائز عیسیٰ کا اختلافی نوٹ لگتا ہے فائز عیسیٰ نہیں ’’فائز موسیٰ ‘‘ کا نوٹ ہے جو عدالتی تاریخ میں یاد رہیں گے۔ 

چیف جسٹس صاحب بہت ہی حساس واقعہ ہوئے ہیں جنہیں انتہائی افسوس ہے کہ PPP اور ن لیگ سینیٹ انتخابات کے معاملہ پر میثاق جمہوریت پر قائم نہ رہے۔ می لارڈ کی نظر سے میثاق جمہوریت پورا گزرا ہو گا جس کو عمران خان مک مکا کہتے رہے۔ اگر اتنے ہی متفق ہیں تو پھر اس پر دستخط کر کے فریق کیوں نہیں بن جاتے مگر یہ میثاق جمہوریت بہت خطرناک ہے جو پی سی او ججز کو دوبارہ جج نہیں لیتا جو ججز اور جنرلز کو اثاثے ڈکلیئر کرنے کا کہتا ہے جو دفاعی بجٹ پارلیمنٹ سے منظور کرواتا ہے لہٰذا اس کے صرف سینیٹ والے معاملے پر افسوس نہیں پورے کے پورے میثاق پر ہونا چاہیے۔ کرپشن میں بڑھاوا اور تحریک انصاف کی بجائے تحریک عدم انصاف بنانے،وزیراعظم کی کہہ مکرنیاں، وعدہ خلافیاں، دعوے، وعدے، انگلینڈ، امریکہ ، سنگاپور، چائنہ، ریاست مدینہ نہ جانے کون کون سے نظام گنوا دیئے۔ پارلیمانی نظام میں صدارتی انداز بلکہ بادشاہت سے بدتر مطلق العنانیت، 50 لاکھ گھر، کروڑ نوکریاں ، 90 دن میں کرپشن ختم کرنے کے دعوے سے عملی یوٹرن ، نیب کی کارگزاریوں، عدلیہ کے نظام اور وکلاء کی روایات معاشرت ،تمدن اور اخلاقیات کے انہدام پر بھی افسوس ہونا چاہیے۔ 

عدالت نے تو صادق اور امین قرار دیا تھا مگر وطن عزیز میں تو کاذبین اور منافقین کا راج ہے۔ سیاست دانوں کے بارے میں بہت پروپیگنڈا سنا اور کیا گیا حالانکہ بھٹو صاحب اور محترمہ شہید بی بی کے علاوہ ہم نے نواب زادہ نصر اللہ خان ، جناب پرویز صالح اور ان گنت ضرب المثل سیاستدان بھی دیکھے، عام خیال تھا کہ موجودہ وزیراعظم روایتی سیاست دان نہیں ہے مگر اللہ پناہ جھوٹ کو موصوف حق سمجھ کر بولتے ہی نہیں جھوٹ کو پسند بھی فرماتے ہیں۔ سیاست میں آنے سے پہلے ایک ویڈیو کلپ ہے انتہائی تضحیک ،رعونت اور تکبر کے انداز میں فرما رہے ہیں کہ مجھے اگر کوئی کہے کہ سیاست کو کیریئر کے طور پر اپناؤ اپنی (کن پٹی) کی طرف ہاتھ سے پسٹل کا اشارہ کر کے کہ ’’میں خود کشی کر لوں گا مگر سیاست کو کیریئر نہیں بناؤں گا، میرے جیسا آدمی جس کے پاس سب کچھ ہے لوگوں سے ووٹ مانگتا پھرے‘‘اسی آسمان نے دیکھا کہ جنرل حمید گل سے کر آج تک ووٹ وقت اور اقتدار ہی مانگ رہے ہیں۔ ضمنی انتخابات میں ڈسکہ کی ایک سیٹ پر سارے اصول قربان کر دیئے گئے پہلا انتخاب ہے جس کو الیکشن کمیشن نے دھاندلی کہا اور پوری حکومتی مشینری کی مجرمانہ اعانت پر مبنی پریس ریلیز جاری کر کے نتیجہ روک دیا۔ پوری دنیا کو پتہ ہے موصوف جس طرح مسلط کیے گئے اور پھر آنے کے بعد ثابت بھی کیا کہ میرا کچھ لینا دینا نہیں میری صرف آنیاں جانیاں دیکھیں۔ نواز شریف وہ سیاستدان ہیں جو دولت کے بل بوتے پر سیاست میں آئے لیکن لوگوں سے تعلقات میل ملاقات کی بدولت محترمہ بے نظیر شہید کے بعد مقبول ترین رہنما بن گئے۔ وزیراعظم ان کو گوالمنڈی کے طعنے دیتے ہیں گوگل کھولیں اور جنرل یحییٰ کا اتفاق فونڈری کا دورہ اور تفصیل پڑھ لیں۔ جناب بھٹو صاحب سے پہلے سائیکل ہی سواری ہوا کرتی تھی میں اسحق ڈار یا نواز شریف کا سپورٹر نہیں لیکن وزارت عظمیٰ پر فائز شخص اگر ایسی باتیں کرے اور کبھی نقلیں اتارے، جگتیں مارے تو قومی اخلاقیات کی حالت کیا ہو گی۔ ایک نہیں لاکھوں لوگ ہیں اور ہزاروں لوگ ہیں جو سڑک چھاپ تھے آج ارب پتی ہیں نام لینا مناسب نہیں۔ وزیراعظم نے جو قومی اخلاقیات کا کھلواڑ کیا ہے، شاید دہائیاں لگ جائیں اور قوم پرانا پاکستان کبھی دیکھ نہ پائے۔ جب یہ ہر مخالف کو چور کہتے اور گالیاں دیتے تھے تو میں سوچتا تھا کہ عمران خان کو زوال کیسے آئے گا مگر تکبر نے اڑا کر رکھ دیا۔ کرپشن ، مہنگائی، جھوٹ، ڈھٹائی، فسطائیت کے ایسے ریکارڈ قائم کیے گئے کہ موصوف پی ڈی ایم کی آہٹ سے بھی ڈرنے لگے۔ اللہ نے عروج دیا مگر تکبر نے ایسا زوال دکھایا کہ مرزا غالب سے معذرت کے ساتھ (ہر سٹیک ہولڈرکیلئے) عوام پریشان ہیں 

کام اس پہ آ پڑا ہے کہ جس کا جہاں میں 

 لیوے نہ کوئی نام ’’متکبر و کاذب‘‘ ستمگر کہے بغیر


ای پیپر