daska election,na 75,awais ghauri columns,urdu columns,epaper
23 فروری 2021 (11:53) 2021-02-23

 اگر ہم انسانی تاریخ کی بدترین انتخابی مثالیں ڈھونڈنے کی کوشش کریں تو لائبیریا کے 1927 میں ہونیوالی صدارتی انتخابات شاید سب پر سبقت لے جائیں۔ لائبیریا کے بادشاہ نے ’’دا وہگ پارٹی‘‘ کے نام سے اپنی سیاسی جماعت میدان میں اتاری۔ اس کے مقابلے میں پیپلز پارٹی تھی جس کے صدارتی امیدوار تھامس فالکنر تھے۔ کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تقریبا پندرہ ہزار تھی لیکن جب نتیجہ آیا تو پیپلز پارٹی کو 9 ہزار ووٹ ملے۔ یعنی باقی 6 ہزار ووٹ بادشاہ کی پارٹی کو ملے مگر جب ووٹوں کی گنتی مکمل ہوئی تو بادشاہ کی پارٹی کو 2 لاکھ 43 ہزار ووٹ ملے تھے۔ 

ہم پاکستانیوں کو فخر کرنا چاہیے کہ ہم نے دنیا میں انتخابی دھاندلی کی سب سے بڑی مثال کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ دنیا  جہان کے بے وقوف ا نتخابات میں اپنے من پسند لوگوں کو جتانے کیلئے ووٹوں کی  چوری کرتے ہیں مگر پاکستان میں تو ووٹوں کے تھیلوں کے ساتھ ساتھ اس بار الیکشن کمیشن کا عملہ بھی چوری کر لیا گیا۔ اگر آپ پاکستان کے درست سیاسی منظر نامے کو سمجھنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے این اے 75 ڈسکہ ایک ٹیسٹ کیس بن سکتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی دیگ میں کس قسم کے مصالحہ جات کا اضافہ ہو چکا ہے ٗ یہ کتنی بھدی اور بدذائقہ ہو چکی ہے اس کا اندازہ ’’درد ڈسکہ‘‘ کے صرف ایک دانے کو چکھ کر ہی لگایا جا سکتا ہے۔ پولنگ کا عملہ رات بھر غائب رہا ٗ تاویل یہ پیش کی گئی کہ وہ دھند میں گم ہو گئے تھے۔اس کہرے نے موبائل سگنل بھی جام کر دئیے۔ٗچیف سیکرٹری ٗ آئی جی پنجاب ٗ ڈپٹی کمشنر سمیت تمام لوگوں کو چپ لگا دی۔اس صورتحال نے سب کچھ واضح کردیا مگر صرف ان کیلئے جو غور و فکر کرنے کی سعی کر سکتے ہیں۔ 

اگر ہم وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی طرح سائنسدان بننے کی کوشش کریں تو جو ابتدائی تحقیق سامنے آئیگی اس کے مطابق پاکستان میں کوئی ’’گردشی برمودا ٹرائی اینگل‘‘ آگیا ہے جو کسی بھی وقت ٗ کسی بھی مقام پر ٗ کسی کوبھی صفحہ ہستی سے غائب کر سکتا ہے۔ ڈسکہ کے حلقہ این اے 75 سے مسلم لیگ(ن) کے سید افتخار الحسن شاہ المعروف ظاہرے شاہ 2018 کے عام انتخابات میںتقریبا ایک لاکھ ایک ہزار ووٹ لیکر کامیاب ہوئے تھے۔ انہوں نے تحریک انصاف کے علی اسجد ملہی کو شکست دی۔ظاہرے شاہ کی وفات کے بعد یہ نشست خالی ہو گئی اور اس پر ضمنی الیکشن ہونا تھا۔مسلم لیگ(ن) کی طرف سے افتخار شاہ کی صاحبزادی نوشین افتخار کو ٹکٹ دیا گیا اور یہ کہانی پھر کسی وقت بیان کریں گے کہ  ظاہرے شاہ کے بیٹے کے ساتھ بیرون ملک میں کیا واقعہ ہوا جس میں مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے ذاتی طور پر دلچسپی ظاہر کر کے اسے چھٹکارا دلایا اور پھر اسی وجہ سے انہیں ٹکٹ بھی نہیں دیا گیا اور نوشین افتخار کو یہ موقع مل گیا۔

ڈسکہ میں جمعہ کو سارا دن فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا ٗ ووٹرز کو ڈرایا جاتا رہا ٗ پولنگ کا عمل بار بار روکا گیا۔ ووٹرز کو ووٹ ڈالنے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور صرف وہی ووٹرز ووٹ کاسٹ کر سکے جو گھر سے عزم کر کے نکلے تھے کہ اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا ہے۔ دوسرے لوگ خطرناک صورتحال دیکھ کر ووٹ ڈالے بغیر ہی واپس چلے گئے۔فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعہ میں دو افراد جاں بحق ہو گئے جس کے بارے میں حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ یہ مسلم لیگ(ن) کا کارنامہ ہے جبکہ اپوزیشن جماعتیں اسے پی ٹی آئی کے کھاتے میں ڈال رہی ہیں۔ سارا دن یہ خونی الیکشن جاری رہا  مگر جب رات کے سائے بڑھنے لگے تو ڈسکہ کو کہرے اور دھند نے بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ 23  پولنگ سٹیشنز کے پریذائیدنگ آفیسر ایک ساتھ ہی غائب ہو گئے ٗ ان کے موبائل فون بند ہوگئے اور ووٹوں کے تھیلے بھی انہی کے پاس تھے۔ جب اپوزیشن کی طرف سے ووٹوں کے تھیلے غائب ہونے پر احتجاج شروع ہوا تو میڈیا پر یہ خبریں آنا شروع ہوئیں اور اس بار حیران کن طور پر الیکشن کمیشن نے اپنا کام ٹھیک کرنے کی کوشش کی اورچیف الیکشن کمشنر سلطان سکندر  نے چیف سیکرٹری ٗ آئی جی پنجاب ٗ ڈپٹی کمشنر اور دیگر حکام سے رابطہ کرنے کی کوششیں شروع کیں ٗ لیکن حیران کن طور پر دبیز دھند کی تہہ ان تک بھی پہنچ چکی تھی اور ان سے رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔رات تین بجے چیف الیکشن کمشنر کا چیف سیکرٹری سے رابطہ ہوا جن سے استفسار کیا گیا کہ ووٹوں کے تھیلے اور پریذائیڈنگ افسرکہاں ہیں تو انہیں نے کہا کہ وہ خود اسی سوال کا جواب ڈھونڈ رہے ہیں مگر پھر وہ بھی منظر نامے سے غائب ہوگئے۔صبح چھ بجے یہ گمشدہ پریذائیڈنگ افسر ووٹوں کے تھیلوں سمیت منظر عام پر آئے۔اور انہوں نے استدلال دیا کہ دھند کی وجہ سے وہ رات کو ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر کے دفتر میں نہیں پہنچ سکے۔

پیٹی بھائی طرح طرح کے تبصروں میں مصروف ہیں۔ نت نئی سازشی تھیوریاں گھڑی جا رہی ہیں۔ لیکن میرے خیال میں سارا قصور مسلم لیگ(ن) کی سابقہ حکومت کا تھا جنہوں نے سڑکیں ٗ اورنج ٹرینیں بنانے پر زور لگائے رکھا اوردرخت نہیں لگائے۔ نہ بلین ٹری سونامی شروع کیا اور نہ ہی یہ کوشش کی کہ ملک سے آلودگی کو ختم کیا  جا سکے۔ اس کے شدید نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں فوگ اور سموگ آپس میں مل جل کر لوگوں کو کنفیوژ کرتی رہیں۔ لیکن اب شاید انہوں نے مل کر کوئی نیا بائونڈ بنا لیا ہے  جسے ابھی سائنسدانوںکی طرف سے کوئی نام نہیں دیا جا سکتا مگر یہ دھند اس وقت اتنی مہلک بن چکی ہے کہ ایک ساتھ کئی لوگوں کو غائب کر سکتی ہے  ٗ اس دوران موبائل کے سگنلز غائب ہو  جاتے ہیں اور وہ دنیاوی لوگوں کو نظر آنا بند ہو جاتے ہیں۔ دھند کی اس نئی قسم کے بعد پاکستانیوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ آنیوالے جنرل الیکشن میں یہاں پر بلیک ہولز لوگوں کو کئی سالوں کیلئے قید کرنا شروع کر سکتے ہیں یا برمودا ٹرائی اینگل کی کوئی نئی قسم بھی یہاں پر نمودار ہو سکتی ہے۔

آپ ضمنی انتخابات میں غلطیوں کا بوجھ اناڑیوں پر ڈال دیں ٗ نااہلی کی نالی میں بہا دیں یا اسے دھندکے اندر چھپانے کی کوشش کریں مگر تمام واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو یہ کریڈٹ بھی حاصل ہو چکا ہے کہ د نیا کی تاریخ کے بدترین انتخابات بھی انہیں کے کھاتے میں پڑ چکے ہیں۔ ووٹ چوری ہوا کرتے تھے ٗ پہلی بار پولنگ بیگز ٗ درجنوں پریذائیڈنگ افسران سمیت غائب ہو گئے۔ امید تو نہیں لیکن اس بدترین الیکشن کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا ملے اس لئے آنیوالے انتخابات میں مزید کرتبوں کیلئے خود کو تیار کر لینا چاہیے۔ 


ای پیپر