فیصلہ آپ کے ہاتھ میں
23 فروری 2021 (11:48) 2021-02-23

سارے بیٹے آس پاس بیٹھ گئے۔ بوڑھے باپ نے تلاوت ختم کی ، قرآن کو بند کر دیا ، آنکھوں سے لگایا ، چوما اور احترام سے سرہانے رکھ دیا۔ ایک نظر سب پر ڈالی اور کہنے لگا: ’’میں اپنی زندگی گزار چکا ہوں ، اس سے پہلے کہ آنکھیں بند ہو جائیں اپنی جائیداد تم میں تقسیم کر کے جائوں گا، سب کو اچھا خاصہ حصہ ملے گا مگر یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ تم اپنی بہنوں کو مجبور کرو کہ وہ اپنے حق سے دست بردار ہو جائیں ورنہ…،ورنہ کیا ہو گا ابا جان؟‘‘ سب سے چھوٹا بیٹا پوچھ بیٹھا۔ بوڑھے باپ کے چہرے پر کئی تلخ لہریں آئیں اور گزر گئیں ، خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر بولا ’’ورنہ تمہارے باپ کی زمین غیروں میں چلی جائے گی‘‘۔ چھوٹا ذرا خود سر سا تھا۔۔ پوچھنے لگا :’’ابا جان! بیٹی کو جائیداد سے حق دینے کا حکم تو خدا کا ہے ، کیا خدا کو یہ علم نہ تھا کہ بیٹی کو حصہ دینے سے زمین غیروں میں چلی جائے گی ؟ کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ کسی کے کچھ بولنے سے پہلے وہ پھر بول اٹھا ’’بیٹی کو زمین دیتے ہوئے آپ کو لگا کہ زمین غیروں میں چلی جائے گی مگر داماد کو بیٹی دیتے ہوئے آپ نے کیوں نہ سوچا کہ بیٹی غیروں میں چلی جائے گی۔

ایک مرید نے مولانا رُوم سے 5 سوال پوچھے۔ مولانا روم کے جوابات غور طلب ہیں۔ زہر کسے کہتے ہیں؟…جواب: ہر وہ چیز جو ہماری ضرورت سے زیادہ ہو ’’ زہر‘‘ بن جاتی ہے خواہ وہ قوت یا اقتدار ہو، انانیت ہو، دولت ہو، بھوک ہو، 

لالچ ہو،سستی یا کاہلی ہو،عزم و ہمت ہو، نفرت ہو یا کچھ بھی ہو۔ خوف کس شئے کا نام ہے ؟… غیرمتوقع صورتِ حال کو قبول نہ کرنے کا نام خوف ہے۔ اگر ہم غیر متوقع کو قبول کر لیں تو وہ ایک مہم جوئی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔حسد کسے کہتے ہیں ؟… دوسروں میں خیر وخوبی تسلیم نہ کرنے کا نام حسد ہے۔ اگر اِس خوبی کو تسلیم کر لیں تو یہ رَشک اور کشَف یعنی حوصلہ افزائی بن کر ہمارے اندر آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔غصہ کس بلا کا نام ہے ؟… جو امر ہمارے قابو سے باہر ہو جائے۔ اسے تسلیم نہ کرنے کا نام غصہ ہے۔ اگر کوئی تسلیم کر لے کہ یہ امر اس کے قابو سے باہر ہے تو غصہ کی جگہ عَفو، درگذر اور تحمل لے لیتے ہیں۔ نفرت کسے کہتے ہیں ؟…کسی شخص کو جیسا وہ ہے تسلیم نہ کرنے کا نام نفرت ہے۔ اگر ہم غیر مشروط طور پر اسے تسلیم کر لیں تو یہ محبت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

لوہے کی ایک بار کی قیمت120 روپے ہے۔ اس سے اگر آپ گھوڑوں کے لئے نعل بنا دیں تو اس کی قیمت 1000روپے ہو گی۔اس سے سوئیاں بنا دیں تو اس کی قیمت30000روپے ہو گی اور اگر اس سے آپ گھڑیوں کے لئے بیلنس سپرنگ بنا دیں تو اس کی قیمت 3لاکھ روپے ہو گی۔آپ نے اپنے آپ کو کیا بنایا ہے یہ امر آپ کی قیمت طے کرتا ہے۔ 

مٹی کو بازار میں بیچیں تو قیمت بہت کم ہوگی لیکن اینٹیں بنا کر بیچیں تو کچھ زیادہ قیمت ہوگی۔اسی مٹی سے برتن بنا کر بیچیں تو دس گنا قیمت ہوگی۔اگر مٹی کو خوبصورت مورتی یا مجسمہ بنا کر بیچیں تو وہ لاکھوں میں بکے گی۔آپ خود کو دنیا میں کیا بنا کر پیش کرتے ہیں؟

ایک عام،روایتی اور منفی سوچ سے بھر پور انسان یا پھرایک بہترین،مثبت اور پر امن محبت پھیلانے والا فائدہ مند قیمتی ترین انسان ؟فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔

عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ’رسول اللہﷺ نے ایک مربع خط (یعنی چوکور) زمین پر کھینچا اور ایک خط اس چوکور کے بیچ میں کھینچا جو چوکور سے باہر نکلا ہوا تھا اور چند چھوٹے چھوٹے خطوط اس بیچ والے خط کی طرف کھینچے جو چوکور کے بیچ میں ہی تھے پھر آپﷺ نے فرمایا: ’’یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اور یہ جو باہر نکالا ہوا ہے یہ اس کی امید ہے اور یہ جو چھوٹے چھوٹے خطوط ہیں یہ آفات ہیں، اگر انسان اس آفت سے بچا تو اس نے ڈس لیا اور اگر اس سے بچا تو اس نے کاٹ لیا۔ (کتاب الرقاق،صحیح بخاری)

بقول رضا اللہ حیدر:

مجھے خطاؤں کا اقرار، مغفرت کر دے

خدایا عرض ہے ہر بار، مغفرت کر دے

ہمارا نامہ ہے اعمال بھی ہمارے ہیں

نہ کوئی بحث نہ تکرار، مغفرت کر دے

سوائے خار نہیں کچھ بھی میرے دامن میں

اے مالکِ گل و گلزار، مغفرت کر دے

تری عطا کا سخا کا نہیں شمار کوئی

بحقِ سیدِ ابرابر، مغفرت کر دے

خدایا! فتنوں کی بارش میں ہے رضا ڈوبا

ہوئی ہے زندگی دشوار، مغفرت کر دے


ای پیپر