Hafiz Zohaib Tayyab columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
23 فروری 2021 (11:46) 2021-02-23

تقریباََ دو سال پہلے ایک دوست کے توسط سے غریب، لاچار اور ضعیف و حافظ قرآن خاتون کا مسئلہ مجھ تک پہنچا۔ جو لاہور کے ایک مضافاتی علاقے میں کرایہ کے گھر میں بچوں کو قرآن کی تعلیم دیتی تھیں اور لوگوں کے گھروں میں کام کاج کر کے گذر بسرکیا کرتی تھیں، ان کی کسمپرسی اور غربت کو دیکھتے ہوئے ایک مخیر صاحب نے انہیں گوجرانوالہ میں ایک گھر لے کر دیا جنہوں نے اس نیت کے ساتھ وہ کرائے پر دے دیا کہ اس سے آنے والی آمدنی سے وہ بخوبی گھریلو اخراجات پورے کرسکیں گی۔ کچھ مہینے تو باقاعدگی کے ساتھ کرایہ وصول ہوتا رہا لیکن کچھ ہی مہینوں بعد کرایہ دار بد معاشی پر اتر آئے اور عدالتوں سے جعلی اسٹے بنو اکر اس غریب خاتوں کے گھر پر قابض ہو گئے ۔ وہ خاتون جس کی اپنے کوئی نہیں سنتے تھے وہ اپنے حق کے لئے کبھی اس دفتر تو کبھی پولیس افسران کے دفاتر کے چکر لگاتی لگاتی ہار مان گئی اور یوں پچھلے آٹھ سالوں سے وہ اپنے حق سے محروم کسی معجزے کے انتظار میں تھی ۔جب یہ معاملہ مجھ تک پہنچا تو سینئر کالم نگار اور جن پر ہمیں مان ہے پروفیسر توفیق بٹ سے اس خاتون کی داد رسی کی درخواست کی جس پر انہوںنے متعلقہ ڈی۔ایس۔پی کو کہا اور یوں معاملہ حل کی جانب چل نکلا۔ اس وقت آر۔پی۔او گجرات اور میرے بڑے بھائی جان    طارق عباس قریشی نے بھی خوب زور لگایا اور یوں آٹھ سالوں سے اپنے حق سے محروم اس بوڑھی خاتون کو اپنا حق ملا اور جو جعلی وکیل، بدمعاش اور غلیظ لوگ قابض تھے ، ان کے مقدر میں بالآخر ذلالت ٹھہری۔ 

قارئین ! جب اس خاتون کو اس کے گھر کا قبضہ دیا جا رہا تھا تو اس کی خوشی دیدنی تھی، اس کے 

چہرے کے تاثرات اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ اس کے جسم کا ہر ایک ایک انگ ہم سب کے لئے دعا کر رہا ہے ۔ اور ایسے لوگوں کی دعائیں رب کی بارگاہ میں فوری شرف قبولیت حاصل کرتی ہیں ۔ مجھے دو سالوں بعد یہ واقعہ حالیہ دنوں میں لاہور کے سی۔سی۔پی۔او غلام محمود ڈوگر کی دبنگ انٹری کی وجہ سے دوبارہ یاد آگیا۔ انہوں نے لاہور کے غنڈہ عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے نہ صرف انہیں بلکہ ان کے ساتھیوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا بلکہ اس بوڑھی اماں کی طرح کئی ایسے لوگوں کے گھروں کے قبضے قابضین سے خالی کروائے ۔ لاہور کے بد نام زمانہ علاقے مصری شاہ میں بدمعاشوں کو للکارنا بلا شبہ کسی بہادر پولیس افسرکا ہی کام ہے جو غلام محمود ڈوگر نے کر دکھایاہے ۔روزانہ ان کے پی۔آر۔او کی جانب سے درجنوں پیغامات موصول ہوتے ہیں کہ آج اتنے بد معاشوں کے خلاف کاروائی ہوئی، آج اتنا اسلحہ بر آمد کر لیا گیا ، آج اتنے قبضہ گروپوں کو حراست میں لیا گیا، شہر کی خوبصورتی کو داغ دار بنانے والے اور اپنی بدمعاشی کو قائم رکھنے والے ہوائی فائرنگ کے شوقین لونڈوں کی بھی خوب ذلت افزائی کی جا رہی ہے ۔ 

قارئین محترم ! غلام محمود ڈوگر جیسے پولیس افسران کی وجہ سے ہی پولیس کا روشن چہرہ اجاگر ہوتا ہے ۔ ان کے ساتھ بھی کئی ایسے بے سہاروں، لاچاروں اور ناداروں کی دعائیں ہیں جو کئی کئی سالوں سے اپنے حق کی خاطر لڑتے لڑتے تھک گئے تھے لیکن ڈوگر صاحب کی کاوشوں کی وجہ سے انہیں اپنا حق میسر آگیا۔ ان دعائوں کے ثمرات غلام محمود ڈوگر کے چہرے سے بھی نمایاں ہوتے ہیں کہ ایسے چمک، دمک اور نرم دل رکھنے والے لوگ محکمہ پولیس میں کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ لاہور پولیس کے کمانڈر نے ایک اور اچھی کاوش کا سلسہ شروع کیا ہے کہ جس کی تعریف نہ کی جائے تو زیادتی ہوگی اور وہ سلسلہ مختلف تھانوں کی حدور میں کھلی کچہریوں کا انعقاد اور فوری طور پر سائلین کو انصاف فراہم کر نا ہے ۔ 

قارئین محترم ! غلام محمود ڈوگر کے ساتھ لاہور کے ڈی۔آئی۔جی آپریشنز ،ساجد کیانی کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ کالم مکمل نہ ہو سکے گا ۔ پھر ایس۔ایس۔پی انوسٹی گیشن عبد الغفار قیصرانی جیسے درد دل رکھنے والے افسران ، اپنے کمانڈر کے عزم کو تقویت دینے میں پیش ہیش ہیں ۔ ساجد کیانی ، جہاں بھی رہے ، کامیا بی و کامرانی کی داستان رقم کر کے آئے ۔ ان کے بارے مشہور ہے یہ جہاں بھی جاتے ہیں ان کے خوف سے جرائم پیشہ افراد غائب ہوجاتے ہیں اور جو کچھ بچ جاتے ہیں تو پھر ان کا وہ حشر کیا جاتا ہے کہ آنے والی نسلوں تک یہ جرائم سے توبہ کر لیتے ہیں ۔ بلا شبہ آج لاہور میں قبضہ گروپوں ، بدمعاشوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف جس آپریشن ’’ضرب ڈوگر‘‘ کا آغاز کیا گیا ہے ان میں ان تمام افسران کی آپسی کو آرڈینشن شامل ہے اورمیں امید کرتا ہوں کہ اگر ان تمام افسران کو کچھ عرصے یونہی کام کر نے دیا گیا تو اس کے بہت جلد مثبت ثمرات بر آمد ہونگے اور جس کا ثبوت غلام محمود ڈوگر، ساجد کیانی اور اور عبدالغفار قیصرانی کے دوران سروس کئے جانے والے بہترین اقدامات ہیں ۔ یقینی طور پر  داتا کی نگری اور پھولوں کے شہر کا امن جس طرح بحال ہو رہا ہے اس پر تو دل سے لاہور پولیس کا شکریہ اداء کر نے کو دل چاہتا ہے ۔ شاباش! لاہور پولیس


ای پیپر