ضمنیاں!
23 فروری 2021 2021-02-23

ضمنی انتخابات کا مرحلہ بھی اپنے انجام کو پہنچا، یوں محسوس ہورہا تھا یہ ضمنی انتخابات نہیں ہورہے ہندوستان اور پاکستان کی جنگ ہورہی ہے، ایسا طوفانِ بدتمیزی برپا تھایوں محسوس ہورہا تھا ہماری سیاسی جماعتوں نے اپنے کردار اور رویوں سے عوام کی بداخلاقی کی جتنی تربیت کرلی ہے وہ اُسے کافی نہیں سمجھتیں۔ چنانچہ رہی سہی کسر وہ ضمنی انتخابات میں نکالنا چاہتی ہیں، ہرطرف جھوٹ ہی جھوٹ بولے جارہے تھے، اور اِس انداز میں بولے جارہے تھے جیسے جھوٹ بولنا بہت بڑا ”کارثواب“ ہو،.... شرم اِن کو مگر نہیں آتی، جھوٹ بول بول کر ہمارے اکثر سیاسی رہنماﺅں ہی کے نہیں اُن کے آقاﺅں کے چہروں پر بھی باقاعدہ لعنت پڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ آپ نے جھوٹ کو بُرائیوں اور خرابیوں کی ماں قرار دیا ہے، جھوٹ بولتے ہوئے ایک لمحے کے لئے بھی ہم یہ نہیں سوچتے روز حشر اپنے اللہ اور جِن کے ہم اُمتی ہیں کس مکروہ چہرے کے ساتھ اُن کے حضور ہم پیش ہوں گے؟، جھوٹ کا سب سے بڑا دنیاوی نقصان یہ ہے یہ یاد نہیں رہتا، ایک لمحے میں آپ جو جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں اگلے لمحے وہ آپ کو بھول جاتا ہے اور پکڑا بھی جاتا ہے۔ سچ مگر سوسال بعد بھی نہیں بُھولتا، حالیہ ضمنی انتخابات کے حوالے سے ہماری سیاسی جماعتوں کے کچھ مکروہ رہنماﺅں نے اتنے جھوٹ بولے جیسے وہ پیدا ہی صرف اِسی کام کے لیے ہوئے ہیں، میرے خیال میں دنیا بھر میں جھوٹ بولنے والوں کا کوئی مقابلہ ہوپاکستان کے بے شمار سیاستدان ہی نہیں اُن کے آقا بھی اِس میں فسٹ ڈویژن میں پاس ہوں، بلکہ ٹاپ پوزیشنیں حاصل کریں، .... میرا پنجابی کا ایک شعر ہے ”ویکھ کے چور وی توبہ توبہ کرن توفیق ....راکھیاں ہتھوں جو گزری گھر میرے تے....میں صرف ”سیاسی رکھوالوں“ کی بات کررہا ہوں، کیونکہ میرا بس صرف ”سیاسی رکھوالوں“ پر ہی چلتا ہے، دیگر رکھوالوں کے بارے میں حقائق بیان کرکے میں اپنا نام گمشدہ افراد کی فہرست میں نہیں ڈلوانا چاہتا، .... ہمارے ہاں عمومی تا¿ثر یہ ہے ضمنی انتخابات ہمیشہ حکمران جماعتیں ہی جیتتی ہیں، پر 2018ءکے ضمنی انتخابات میں بھی حکمران جماعت کو وہ کامیابی نصیب نہیں ہوسکی تھی جس کی توقع پی ٹی آئی کو اِس لیے بھی تھی کہ وہ ابھی نئی نئی اقتدار میں آئی تھی، اور اِس یقین میں مبتلا تھی کہ سابقہ ”چوروڈاکوحکمرانوں“ سے عوام کو مستقل طورپر اب نفرت ہوگئی ہے لہٰذا حکمران جماعت کوئی کارکردگی دیکھائے نہ دیکھائے اِن چورڈاکو سابقہ حکمرانوں کو کسی صورت میں بھی اب ووٹ نہیں پڑیں گے، .... افسوس حکمرانوں کا یہ خواب 2018ءکے ضمنی انتخابات میں بھی اُسی طرح پورا نہیں ہوسکا جس طرح اب پورا نہیں ہوسکا، ....اب حکمران جماعت کے پاس آئندہ ضمنی انتخابات بھاری اکثریت سے جیتنے کا صرف ایک ہی راستہ بچا ہے، اگرچہ پارلیمنٹ میں اُس کی اتنی اکثریت نہیں کہ وہ یہ بِل پاس کرواتے ضمنی انتخابات صرف حکمران جماعت ہی جیتے گی، بلکہ اِس کے لیے انتخابات کی بھی ضرورت نہیں، بس جو جو رُکن اسمبلی فوت ہوتا جائے یا کسی حوالے سے نااہل ہوتا جائے اُس کی سیٹ حکمران جماعت کو ہی ملنی چاہیے،.... ویسے یہ بِل منظور کروانے کے لیے حکمران جماعت کو پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت ہونے یا نہ ہونے سے بھی کوئی فرق بھی نہیں پڑتا، وہ اِس ضمن میں اپنے ”ممنون حسین“ یعنی اپنے صدر عارف علوی سے اُسی طرح کا ایک آرڈیننس بھی جاری کرواسکتی ہے جیسے سینیٹ میں اوپن ووٹنگ کا اُنہوں نے کروالیا ہے .... حالیہ ضمنی انتخابات میں ناکامی کے بعد حکمران جماعت کی سینیٹ میں بھاری کامیابی بھی مشکوک ہوگئی ہے .... اگر پورے دھونس اور ضمنی انتخابات میں سابقہ حکمرانوں کی تمام تر غلیظ روایات اپنانے کے باوجود حکمران جماعت ضمنی انتخابات نہیں جیت سکی تو سینیٹ کا انتخاب بھی اپنی توقعات کے مطابق شاید نہ جیت سکے،.... میں حیران ہوں حالیہ ضمنی انتخابات میں بھاری کامیابی حاصل نہ کرنے پر یا کسی حدتک اپنی شکست پر حکمران جماعت نے یہ مو¿قف ابھی تک کیوں نہیں اپنایا کہ ”ہم نے ضمنی انتخابات میں سابقہ حکمران جماعت نون لیگ کی غلیظ روایت کے مطابق سرکاری مشینری کا استعمال کرنے کے بجائے اپنی شکست کو ترجیح دی“....ممکن ہے یہ جھوٹ محض یہ سوچ کر نہ بولا گیا ہو کہ سرکاری مشینری کے استعمال کے واضح ثبوت موجود تھے، گو کہ جس طرح نون لیگ ماضی میں ضمنی انتخابات میں سرکاری مشینری کا ناجائز استعمال کرتی رہی ہے ویسا استعمال کرنے کی پی ٹی آئی میں صلاحیت نہیں ہے مگر اِس کے لیے کوشش بہرحال ضرور کی گئی، .... اگلے روز حکمران جماعت کے ایک ایم این اے سے گوجرانوالہ کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے ناکامی کی میں نے وجہ پوچھی، اُنہوں نے فرمایا ”پولیس وانتظامیہ نے ہمارے ساتھ ویسا تعاون نہیں کیا جیسا وہ سابقہ حکمرانوں سے کرتے تھے“، میں نے عرض کیا سابقہ حکمران بھی اُن کے ساتھ بہت تعاون کرتے تھے، اُن کے دور میں ایسے نہیں ہوتا تھا ہردوتین ماہ کے بعد تبادلوں کی باقاعدہ ایک منڈی کُھل جائے، .... دوسرے میں نے اُن کی خدمت میں یہ عرض کیا ”پولیس یا دیگر اداروں کو اپنی ناکامی کا باعث قرار دینے کے بجائے تھوڑا بہت اپنے گریبان میں بھی جھانک لیں، وہاں سے اُنہیں نااہلی کی صرف بوہی بو آئے گی۔ اُنہیں سوچنا چاہیے گزشتہ پونے تین برسوں میں اہلیت اور کارکردگی کا کون سا تیر اُنہوں نے چلا لیا لوگ اُنہیں جوق درجوق ووٹ دینے کے لیے گھروں سے باہر نکلتے ؟میں یہ آج نہیں کہہ رہا ، میں بہت دیر سے عرض کررہا ہوں چوروڈاکو سابقہ حکمران لوگوں کو دوبارہ اچھے اگر لگنے لگے اِس کا کریڈٹ کسی اور کو نہیں صرف اور صرف موجودہ حکمرانوں کی نااہلیوں اور ناقص پالیسیوں کو جائے گا۔ اگلے عام انتخابات میں ووٹ دینے کے لیے کچھ لوگ گھروں سے نکلتے ہوئے یہ ضرور سوچیں گے اِس ملک کو کرپشن ولُوٹ ماروغیرہ نے زیادہ نقصان پہنچایا یانااہلیوں نے پہنچایا ؟....میرے خیال میں اب بھی وقت ہے اگر وزیراعظم خان صاحب نے یہ طے نہیں کرلیا کہ جس مقام پر اُنہیں پہنچنا تھا پہنچ گئے ہیں لہٰذا کارکردگی، اہلیت وغیرہ اب بھاڑ میں جائے تو پھر اپنی حکومت کی اڑھائی برسوں کی ناقص پالیسیوں پر ازسرِ نو وہ غور فرمائیں، اور ہوسکے تو اپنی ٹیم سے کچھ گندے انڈے خصوصاً برائلر مرغیوں کے کچھ ایسے غیر منتخب گندے انڈے نکال کر واپس باہر پھینک دیںجن کی بدتمیزیوں، بدکلامیوں سے لوگ اُن سے مزید متنفر ہوتے جارہے ہیں !!


ای پیپر