نوشہرہ کے بعد پختونخواہ سینیٹ انتخابات میں بھی اپ سیٹ کی تیاری
23 فروری 2021 2021-02-23

نوشہرہ کی صوبائی اسمبلی نشست پر تحریک انصاف کی شکست اور مسلم لیگ ن کی فتح نے خیبر پختونخواہ کی سیاست میں تبدیلی کی نوید دے دی ہے۔ پرویز خٹک اور لیاقت خٹک کی لڑائی نے پارٹی میں ایک اور گروپ کو جنم دے دیا ہے۔ اس نئی گروپ بندی کے بعد سینیٹ کے انتخابات بھی انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ پختونخواہ اسمبلی کی 145 نشستوں پر تحریک انصاف کی 93 نشستیں ہیں اور اپوزیشن جماعتوں کے پاس نوشہرہ میں کامیابی کے بعد 43 نشستیں ہیں۔ بلوچستان عوامی پارٹی کی 4 ، پی ایم ایل کیو ایک اور آزاد اراکین کی تعداد چار ہے۔ اگر ان اعدادو شمار کو سامنے رکھا جائے تو سینیٹ کی 12 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں 10 پی ٹی آئی اور محض 2 اپوزیشن کے حصے میں آتی ہیں لیکن 19 فروی کے ضمنی انتخاب کے بعد سیاسی صورت حال بہت دلچسپ ہو چکی ہے۔ 

ٹیکنوکریٹ کی نشست کے لیے 49 ووٹ درکار ہیں اپوزیشن کے پاس 43 ووٹ ہیں۔ تحریک انصاف یا اس کی اتحادیوں سے 7 ووٹ موجودہ صورت حال میں لینا بظاہر مشکل دیکھائی نہیں دیتا۔ مسلم لیگ ن نے بھاری بھرکم سیاسی قدآور شخصیت عباس خان آفریدی کو جنرل نشست پر امیدوار نامزد کیا ہے۔ بدلتی صورت حال میں سات ووٹ رکھنے والی جماعت کے امیدوار عباس آفریدی اپنا اثرو رسوخ استعمال کر کے مطلوبہ تعداد 19 ووٹ حاصل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ عباس آفریدی، سینیٹر شمیم آفریدی کے فرزند ہیں ان کے بھائی امجد آفریدی پختونخواہ اسمبلی کے رکن ہیں۔ 

عباس آفریدی اپنی کامیابی کے لیے بہت زیادہ پرامید ہیں۔ گو کہ مسلم لیگ ن کی اسمبلی میں نشستیں کم ہیں لیکن وہ کہتے ہیں پی ڈی ایم کے اراکین ان کی حمایت کریں گے۔ نوشہرہ میں تحریک انصاف کی گروپ بندی اور فارورڈ بلاک بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ناممکن کو ممکن بنانے کو سیاست کہتے ہیں اس پر عباس آفریدی نے کہاوت بیان کی کہ کامیاب سیاستدان وہ ہوتے ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھے عقاب کے نیچے سے اس کا انڈا نکال لے جائے اور اسے محسوس تک نہ ہو، بس ایسا ہی کچھ سینیٹ کے انتخابات میں ہو سکتا ہے۔ اسی طرح بلوچستان عوامی پارٹی کے پی اسمبلی میں چار نشستیں رکھتی ہے۔ باپ کی جانب سے تاج محمد آفریدی بااثر اور امیرترین امیدوار ہیں۔ الحاج شاہ جی گل کے بھائی ہونے کی وجہ سے ویسے ہی ان کا قد مزید بڑھ جاتا ہے۔ ساتھ ہی چار اراکین اسمبلی تاج محمد آفریدی کے بھتیجے ہیں۔ بلاول آفریدی کے پی اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ہیں۔ 

یہی نہیں بلکہ ہدایت اللہ خان، فیصل سلیم، خان زادہ خان کے فرزند زیشان خان زادہ، محسن عزیز اور جے یو آئی کے زبیر علی جیسے سینیٹ کے ارب پتی امیدوار ہیں۔ پختونخواہ سے سامنے آنے والے سینیٹرز فیصل سلیم ، ذیشان خان زادہ ، لیاقت تراکئی اور شبلی فراز آپس میں رشتہ دار بھی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سوا تمام جماعتوں کی طرف سے چند سیٹوں پر ایسے صاحب ثروت افراد کو ٹکٹ دیے گئے ہیں جو مال کی طاقت کے ذریعے میچ کا پانسہ اپنے حق میں کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن اس کے برخلاف سب کی نظریں اسلام آباد اور خیبر پختونخواہ اسمبلی کے نتائج پر ہوں گی سینیٹ انتخابات 2021 کے نتائج ملکی سیاست اور متوقع تبدیلی کی سمت کا تعین کریں گے۔ یہاں تحریک انصاف کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ ن لیگ کے ہیوی ویٹ امیدواروں کا مقابلہ کیسے کرتی ہے۔ 

تحریک انصاف پہلے ہی دھڑے بندی کا شکار ہے۔ اگر عمران خان خیبرپختونخوا اسمبلی میں اینی پوزیشن کے مطابق نشستیں لینے میں ناکام ہوتے ہیں تو یہ تحریک انصاف کے لیے بہت بڑا سیٹ بیک ہوگا۔ خیبرپختونخوا اسمبلی نہ صرف سینیٹ انتخابات میں تحریک انصاف کی پوزیشن واضح کرے گی بلکہ پی ٹی آئی کے سیاسی مستقبل کا تعین بھی ہوجائے گا۔پرویز خٹک نے اپنے گاو¿ں میں ضمنی ایکشن سے پہلے کہا تھا کہ میں چاہوں تو ایک دن میں عمران خان کی حکومت گرا سکتا ہوں۔ نوشہرہ کی شکست سے لگتا کچھ ایسا ہی ہے کہ قبولیت کی گھڑی کا وقت آن پہنچا ہے۔


ای پیپر