Image Source : Twitter

پلوامہ حملہ مودی کو مہنگا پڑ گیا
23 فروری 2019 (17:27) 2019-02-23

اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ یہ پاکستان نہیں بلکہ بھارت ہے جو اپنے جنگی جنون کے ذریعے خطے میں کشیدگی بڑھا رہا ہے ، پاکستان دیرینہ مسائل کے حل کیلئے تعاون اور مذاکرات کا خواہاں ہے، بھارت کو مودی حکومت کی بیان بازی کے خلاف بھارت کے اندر سے اٹھنے والی آوازوں پر بھی ذمہ داری سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پلوامہ واقعے کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کررہی ہے، خودکش حملہ آور حملے میں استعمال کی گئی گاڑی اور گولہ بارود مقامی ساختہ تھا، پلوامہ حملے کے بعد مودی سرکار کو ملک کے اندر اور باہر کڑی تنقید کا نشانہ بنا یا جا رہا ہے ،بھارتی جنتا پارٹی کی ساخت اس حملے کے بعد غیر مستحکم ہو گئی ہے اور لوگوں میں مودی کیخلاف نفرت بڑھتی جا رہی ہے ،کشمیر میں ہونے والے مظالم کے بعد بھی بھارتی عوام میں مودی کیخلاف مہم تیز ہو گئی ہے جس سے لگتا ہے کہ مودی سرکار کو آئندہ الیکشن میں پلوامہ حملہ ہی لے ڈوبے گا ۔

مقبوضہ کشمیر کے بے گناہ اور نہتے عوام کی قربانیوں کی بدولت مسئلہ کشمیر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ہفتہ کو ریڈیوپاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ یہ پاکستان نہیں بلکہ بھارت ہے جو اپنے جنگی جنون کے ذریعے خطے میں کشیدگی بڑھا رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان دیرینہ مسائل کے حل کیلئے تعاون اور مذاکرات کا خواہاں ہے ۔تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیاکہ بھارت جنگی جنون کو ہوا دے رہا ہے ۔وزیرخارجہ نے کہاکہ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ایک خط لکھا ہے کہ وہ موجودہ کشیدگی ختم کرانے میں اپنا کردارادا کریں۔

شاہ محمود قریشی نے کہاکہ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو بھی ایک خط لکھا ہے جس میں ان کی توجہ پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی اور مقبوضہ کشمیر میں سلامتی کونسل کی قراردادوں پرعملدرآمد کی طرف مبذول کرائی گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے عالمی ادارے کے سامنے اپنا موقف جامع انداز میں پیش کردیا ہے اور امیدظاہر کی کہ سلامتی کونسل اپنا کردارادا کرے گی ۔انہوں نے کہاکہ بھارت کو مودی حکومت کی بیان بازی کے خلاف بھارت کے اندر سے اٹھنے والی آوازوں پر بھی ذمہ داری سے توجہ دینے کی ضرورت ہے جو پلوامہ واقعے کو بھارت داخلی سیکورٹی میں ناکامی قراردے رہے ہیں۔

وزیرخارجہ نے کہاکہ بھارت کی حزب اختلاف کی بڑی جماعت کانگریس نے مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پلوامہ واقعے کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کررہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ خودکش حملہ آور حملے میں استعمال کی گئی گاڑی اور گولہ بارود مقامی ساختہ تھا ۔شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ ان کی ترکی کے ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فون پربات ہوئی ہے جنہوں نے پلوامہ واقعہ کے بارے میں بھارتی الزامات مسترد کئے ہیں انہوں نے کہاکہ متحدہ عرب امارات کے ان کے ہم منصب نے بھی خطے میں حالیہ کشیدگی کے خاتمے کیلئے کردارادا کرنے کا یقین دلایا ہے ۔

امریکی صدر کے حالیہ بیان کاحوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ صدر ٹرمپ نے خود کہا ہے کہ حالیہ عرصے میں ان کے ملک کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے ۔ایک سوال پر وزیرخارجہ نے کہاکہ عالمی برادری بھی یہ اعتراف کررہی ہے کہ بھارت کی جابرانہ پالیسیوں کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر میں صورتحال بگڑ رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ یورپی پارلیمنٹ نے حال ہی میں ایک کھلی بحث کے دوران بھارت پر زوردیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرے۔انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کے ادارے اور دارالعوام کے رپورٹوں میں بھی ایک تحقیقاتی کمیشن مقبوضہ وادی میں بھیجنے کا مطالبہ کیاجارہا ہے۔وزیرخارجہ نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے بے گناہ اور نہتے عوام کی قربانیوں کی بدولت مسئلہ کشمیر توجہ کا مرکز بن گیا ہے ۔شاہ محمود قریشی نے کشمیری عوام کے عزم وحوصلے کو سراہتے ہوئے کہاکہ ذرائع ابلاغ پر قدغن سمیت بدترین جبر اور ہرطرح کی پابندیوں کے باوجود ان کا عزم غیرمتزلزل ہے اور وہ اپنے حق خودارادیت کے حصول کیلئے ثابت قدم ہیں۔


ای پیپر