Conversation, Sea, Turkey, Greece, Dr Zahid Munir Amir
23 دسمبر 2020 (11:55) 2020-12-23

 ہم ایجین سمندر کی وسعتوں کے کنارے بیٹھے تھے ۔ایجین سمندر) ترکی اور یونان کے درمیان ہی نہیں خودیونان میں بھی دوردورتک پھیلا ہوا ہے۔ ہم خلقیدہ میںایجین کے کنارے محوِخرام رہے تھے وہاں سے چل کر شام کو ایتھنز کے جس پنج ستارہ ہوٹل میںپہنچے وہ بھی ایجین ہی کے کنارے واقع تھا۔ penarrubia نامی اس ہوٹل کے عقبی دیار میں ٹھاٹھیں مارتا ایجین پھیلاہواتھا۔یہاںپاکستان اوورسیز الائنس فورم کی جانب سے ہمارے لیے استقبالیہ ترتیب دیاگیاتھا ۔یہاں ہمارے میزبانوں میں فورم کے صدرمحمد شبیردھامہ سرپرست چودھری محمد خان کرنانہ ،نائب صدر مہدی خان بانسریان، چیف ایگزیکٹوعلی شیر راجپوت، چیرمین نیزمدثرخادم سیول جنرل سیکریٹری، چیرمین کشمیر ویلفیرکمیٹی میاں وقار لادی، سینیرصحافی اور سیکریٹری اطلاعات و نشریات اوردیگرشامل تھے۔استقبال کے مراحل طے پانے کے بعد سب سے پہلی فکر نمازکی تھی۔ معلوم ہواکہ یہاں تو نمازکے لیے کوئی جگہ ہی نہیں ہے ۔اس جواب سے مجھے مارکیٹنگ کی و ہ مثال یادآگئی جس میں جوتے بنانے والی کمپنی نے اپنے نمائندے کو ایک گائوں کا مارکیٹ سائزلینے کے لیے بھیجا تھا تو اس نے آ کر رپورٹ دی تھی کہ وہاں کا مارکیٹ سائز تو صفرہے اس لیے کہ وہاں تو لوگ جوتے پہنتے ہی نہیں۔کمپنی کے دانائوں نے اسے بتایاکہ جہاں کوئی بھی جوتے نہیں پہنتا وہی گائوں تو ہماری سب سے بڑی مارکیٹ ہو سکتا ہے۔ جب وہاںپیروں اور قدموں کی حفاظت کا شعور بیدار کر دیاجائے گا تو ہماری پروڈکٹ کاسب سے بڑا خریدار وہی ہوگا۔

جہاں نمازکے لیے کوئی بھی جگہ مخصوص نہ ہووہاں سب جگہیں نمازکے لیے ہوتی ہیں۔ویسے بھی امت مسلمہ کا ایک امتیازیہ بھی تو ہے کہ اس کی عبادت کے لیے عبادت خانے کی قیدنہیں،تمام روئے زمین کو اس کے لیے مسجد بنا دیا گیا ہے۔ ہم نے حضرت ابوسعیدخضریؓ سے مروی روایت کی جانب توجہ مبذول کی کہ الارض کلّھا مسجد الاالمقبرۃ والحمام ۔تمام روئے زمین مسجد ہے سوائے مقابر اور حمام کے ۔ایک دوسری روایت میں ہے کہ مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں پہلے ہر نبی صرف خاص اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور میں ہر سرخ اور سیاہ کی طرف بھیجا گیا ہوں، پہلے کسی نبی کے لیے مال غنیمت حلال نہیں ہوتا تھا ۔وہ میرے لیے حلال کر دیا گیا ہے اور صرف میرے لیے تمام روئے زمین پاک اورمسجد بنا دی گئی ہے لہٰذا جو آدمی جس جگہ بھی نماز کا وقت پا لے وہاں نماز پڑھ لے اور میری ایسے رعب سے مدد کی گئی جو (لوگوں پر) ایک ماہ کی مسافت سے طاری ہوجاتا ہے اور مجھ کو شفاعت عطا کی گئی۔مسلم کی ایک روایت 

میں چھ امتیازات کا ذکر ہے چھٹا امتیاز یہ ہے کہ أُعطیتُ جوامعَ الکلِمِ   یعنی مجھے جوامع الکلم عطا کیے گئے ’’یعنی آپ کی گفتگو کے الفاظ مختصر ہوتے ہیں لیکن ان میں معنی کا بحربے کراں موجزن ہوتا ہے‘‘۔

ہم نے امت محمدؐیہ کو دی گئی اس وسعت و سہولت سے فائدہ اٹھایااور صورتِ حال سے ذرابھی گھبرائے بغیرنمازکے لیے سمندر کا کنارہ تجویز کیا۔ چنانچہ پسروپدر نے ایجین کے ایتھنز کنارے پر جماعت کروا لی۔ نمازکے بعد چائے اور لوازمات کا دورشروع ہونے سے پہلے مجھ سے کچھ کہنے کا مطالبہ کیاگیا۔ اس استقبالیہ کے لیے ظاہرہے کوئی خاص موضوع طے نہیں تھا۔ یونانی احباب کی جانب سے ان کی محبت کا اظہارتھااوربس۔سفیرصاحب ان سب احباب سے یوں گھل مل گئے تھے جیسے بے تکلف دوستوں سے ملاجاتاہے ۔ میںنے اس محفل میں سمندر کو دیکھ کر دل پر اترنے والے خیالات کا اظہار کیا ۔

اس خطاب کے بعد ہم پاکستان ہائوس کے لیے روانہ ہوگئے۔ دن بھر کی مصروفیات کے بعد چندے توقف کیاگیا ۔’’چندے‘‘اس لیے کہ ابھی اس روزکی مصروفیات کا سلسلہ جاری تھا۔ اس روز سفیرصاحب نے ہمارے اعزازمیں اپنی رہائش گاہ پرخصوصی ڈنرکااہتمام بھی کررکھاتھا۔پاکستانی کمیونٹی کے سربرآوردہ اصحاب بھی مدعوتھے۔ وقت مقرر پر میں نیچے اتراتو دیکھاکہ ایتھنزکے پاکستان ہائوس میںیونان کے سربرآوردہ پاکستانیوں کی پوری کہکشاں موجودتھی۔پاکستان جرنلسٹ کلب یونان کے صدر احسان اللہ خان، چودھری شاہدنواوڑائچ صدرپاکستان کمیونٹی یونان،مرزاجاویداقبال نائب صدر پاکستان جرنلسٹس کلب ،صحافی اور سماجی کارکن عرفان تیمور ،چودھری قاسم دین نائب صدر پاکستان کمیونٹی،اینکرپرسن چودھری اعجازاحمد،سماجی کارکن اور صحافی خالدمغل،صحافی ناصرجسوکی،صحافی اور قلم کارریاض سکندر،چودھری محمداسلم صدرادارہ منہاج القرآن یونان، خرم شہزاد صدر پاکستان کرسچین کمیونٹی یونان، صحافی ارشاد بٹ، صحافی بلال قمر، شاعر اور صحافی بشیراحمدشاد،رفاقت حسین مغل،ساحل جعفری،عاشر حیدر، بزنس مین محمدصغیر، صحافی اور نمائندہ دنیا نیوز ظفرساہی،چودھری محمداسلم،چودھری محمد اشتیاق، محمد ارشد بٹ، بزنس مین آصف کیانی، بزنس مین چودھری خان ۔

خوش مزہ پاکستانی کھانوں کی موجودگی میں لطف ِصحبت دوبالاہوگیاتھا۔ باتوں کے جھرنے بہتے رہے اوراکل و شرب کا سلسلہ جاری رہا۔اب تک کی محفلوں میں تو بہ حیثیت مقرر میں ہی خطاب کرتارہاتھا سفیرصاحب کی بپاکردہ اس محفل میں یونان میں مقیم پاکستانیوں کو سننے کا موقع بھی ملا اور سوچ کے مختلف زاویے اور عمل کی مختلف جہتیں آشکاراہوئیں۔تارکین وطن، وطن کے بارے میں کیسے سوچتے ہیں ان کی زندگی کے مسائل کیا ہیں ان کے خواب کیاہیں اگرانھیں دوبارہ موقع ملے تو کیاوہ دوبارہ ترک وطن کرکے دیارغیر میں آناپسندکریں گے یا ان کی حکمت عملی کچھ اورہوگی یہ سب کچھ اس شب کی محفل سے عیاں تھا۔رات گئے تک محفل گرم رہی۔ میںنے کھانوں کی تعریف کی ان کی پیش کش مقداراور معیارکو سراہاتو سفیرصاحب نے یہ بتاکر حیران کردیا کہ ان تمام کھانوں کی تیاری تن تنہا ہماری بھابی صاحبہ کے ہنرمندہاتھوں کا نتیجہ ہے اور بیس پچیس مہمان ہوں توانھیں کھانا تیارکرنے کے لیے کسی ملازمہ کی احتیاج نہیں ہوتی ۔یہ سن کر کھانوں کی اہمیت مزیدبڑھ گئی۔ کھانے کے بعد احسان اللہ خان اور مرزاجاویداقبال نے کیمرے تیز کرلیے۔ وہ سفر یونان کے حوالے سے میرا انٹرویو کرناچاہتے تھے چنانچہ سفیرصاحب کی رہائش گاہ کے ڈرائنگ روم میں ٹی وی کا سیٹ سج گیااور انٹرویو کی ریکارڈنگ شروع ہوگئی ۔تفصیلی انٹرویو اور پیغام ریکارڈ کیے گئے نیم شب کے قریب ۔یہ سرگرمی ختم ہوئی۔ مہمان پہلے ہی جانا شروع ہوگئے تھے انٹرویو کے بعد ٹی وی کے اسباب اور آخری مہمان بھی رخصت ہوئے اور میںنے اوپرکی راہ لی ۔


ای پیپر