Reform, Japanese society, civilization, Islam
23 دسمبر 2020 (11:32) 2020-12-23

گزشتہ ہفتے کے کالم پر تبصرہ کرتے ہوئے واپڈا ٹاؤن سے ایک دیرینہ قاری شفیق الرحمٰن کہتے ہیں‘ اُن کی ملاقات جاپان میں ایک دوست سے ہوئی ، جاپانی معاشرے کی معاشرتی اقدار سے بہت متاثر تھے ۔اُن کا کہنا ہے کہ جاپان میں پیغمبر اِس لیے مبعوث نہیں ہوئے کہ جاپانی معاشرہ پہلے ہی سے بہت مہذب اور اعلیٰ اقدار کا حامل ہے، اُن کی دانست میں یہاں گویا اصلاح کی گنجائش ہی نہ تھی۔ یہاں آکر کوئی اسلام کی آخر کیا تبلیغ کرے گا؟ جاپانی معاشرے کی تعریف میں رطب اللّساں ایک مولوی صاحب کا وڈیو کلپ بھی آج کل وائرل ہو رہا ہے، وہ بڑے وثوق سے بتا رہے ہیں کہ ایک جاپانی ٹیکسی ڈرائیور نے کس طرح اپنی غلطی پر راستہ لمبا ہونے کی صورت میں ٹیکسی کا میٹر بند کردیا تاکہ مہمان کو زیادہ کرایہ ادا نہ کرنا پڑے۔ایک فکری طبقے کی طرف سے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ بھی بڑی تیزی سے گردش کر رہی ہے‘ جس میں بتایا جا رہا ہے کہ جاپانی لوگ کوئی چلہ بھی نہیں لگاتے، نمازیں پڑھتے ہیں‘ نہ تہجدگزار ہیں، اور نہ وہ رمضان کے روزے ہی رکھتے ہیں، ہر سال  حج عمرے بھی نہیں کرتے ‘ لیکن اُن کے ہاں گزشتہ دس سال سے کوئی قتل نہیں ہوا، گزشتہ پانچ برس سے کوئی چوری نہیں ہوئی ، اور ڈاکے کی واردات تو ان کی پولیس درج کرنا ہی بھول چکی ہے۔ اُس مضمون کی پوسٹ ترتیب دینے والا بین السطور غالباً یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ دین، کلمے اور پھر عبادات کی آخر کیا ضرورت ہے‘ جب اس کے بغیر بھی لوگ ایک فلاحی اور پرامن معاشرہ قائم کر لیتے ہیں۔

 یہ تو سُنی سنائی باتیں ہیں‘ میں یہاں جگ بیتی بیاں کروں گا‘ لیکن اِس بیان کا مقصد کسی قوم پر تنقید اور ان کی معاشرتی اقدار کی تنقیص ہرگزنہیں۔ مراد صرف یہ ہے کہ حقائق سامنے آجائیں۔ ہمارے بابا جی واصف علی واصفؒ کے بھانجے ملک امین دس برس جاپان بسر کرکے آئے، الیکٹرونکس کی تعلیم کیلئے اُن کے ماموں ہی نے انہیں جاپان جانے کی ترغیب دی تھی۔ وہ کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں، اِسے کہانی بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ اُن کی ہڈ بیتی ہے۔ گزشتہ دنوں وہ اپنی کمپنی کی طرف سے جاپان کے دورے پر گئے، اِس بار اُن کے ساتھ عجیب واقعہ ہوا۔ ٹوکیو ایئر پورٹ سے نکل کر انہیں جس عمارت میں جانا تھا‘ وہاں جانے کے لیے ٹیکسی لی ۔ ٹیکسی ڈرائیور سے انگریزی میں مکالمہ کیا اور اپنامطلوبہ ایڈریس بتا کر بیٹھ گئے۔ سیدھا راستہ لینے کی بجائے ڈرائیور نے ایک طویل راستہ اختیار کر لیا، ملک امین راستے بھی جانتے تھے اور جاپانی زبان بھی۔ کہنے لگے ‘ میں نے جاپانی ڈرائیور سے پھر جاپانی زبان میں کہا کہ تم نے کرایہ بڑھانے کیلئے لمبا راستہ لیا ہے ‘ میں ابھی پولیس کو فون کرتا ہوں۔ منزل پر پہنچ کر ڈرائیورلگا منت سماجت کرنے‘ خدا کے لیے پولیس کو فون نہ کرو، وہ جانتا تھا کہ پولیس کو فون کرنے کا مطلب یک قلم اس کے لائسنس کی منسوخی ہے۔ بقول اُن کے اخلاقی جرائم تو وہاں بہت ہیں، فرق یہ ہے کہ لاء اینڈ آرڈر کا ڈنڈا سخت ہے، لوگ قانون کے ڈر سے قانون کی پاسداری کرنے پر مجبور 

ہیں۔ملک صاحب کہتے ہیں‘ کوبے میں زلزلے کے دوران میں ساری عمارتیں تباہ ہو گئیں لیکن ایک قدیم مسجد قائم رہی۔ یہ وہاں کیلئے نادر عجوبہ بات تھی۔ اسلام وہاں تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے۔ پچھلے دنوں سونامی سے ایٹمی پلانٹ کی تباہ کاری و تابکاری سے متاثرہ جزیرے میں پاکستانیوں کی طرف سے فلاحی کاموں پر جاپانی قوم بڑی متاثر ہے۔آج کل وہاں پاکستانی بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ملک صاحب جاپان میں قیام کے دوران میں مختلف کمپنیوں میں کام کر چکے ہیں۔سناتے ہیں کہ کسی پہاڑی پر تعمیراتی کام کے دوران میں ایک مزدور کھائی میں گر گیا، ٹھیکیدار نے سیکیورٹی والے کو رشوت دے کر اس کا منہ بند کروا دیا۔ اگر وہ اس کی نعش کو نکالے گا تو اُس کاوقت ضائع ہوگا اور تجہیز و تکفین اورکریا کرم کے اخراجات اس رشوت سے کہیں زیادہ بڑی رقم بنتی ہے۔ بقول ان کے یہ قوم اس قدر بزدل ہے کہ قدم قدم پر " آبنائے آبنائے" ( خطرہ ہے ، خطرہ ہے) پکارتی رہتی ہے۔ گوگل سرچ میں ٹوکیو کا سالانہ کرائم ریٹ چیک کیا تو قتل ، چوری اور ڈاکے کے اعداد شمار اس دعوے کی تردید کر رہے ہیں کہ وہاں ایک عرصے سے جرم کا وجود ہی نہیں۔ زمینی حقائق کے برعکس اگر کسی مقالے کی بنیاد رکھی جائے تو وہ کوئی موضوع اور کلیہ نہیں بنے گا۔

آمدم برسر موضوع‘ اخلاقیات دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک معاشرتی اخلاقیات اور ایک دینی اخلاقیات! معاشرتی اخلاقیات کسی اِلہامی ہدایت کے بغیر بھی قومیں سیکھ لیتی ہیں کیونکہ اُن کے اچھے یا بُرے اثرات اِسی دنیا میں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں۔ سائنس کی طرح اسے بھی آزما لیا جاتا ہے کہ سچ بولنے والے ، صحیح تولنے اور وعدہ پورا کرنے والے اپنے کاروبارِ زندگی میں ترقی کرتے ہیں ،اور یہ لوگ جھوٹ بولنے والوں ، ملاوٹ کرنے والوں اور وعدہ خلافی کرنے والوں کی نسبت زیادہ خوش حال ہوتے ہیں۔ سب لوگ جانتے ہیں کہ مسکراہٹ دل کے دروازے کھولتی ہے، زیادہ گاہک گھیرتی ہے۔ اس لیے ہر قبیل کے موٹیویشنل اسپیکریہ معاشرتی کلیہ جات کسی حکیم کے کشتہ جات کے طرح قوم کو صبح شام گھوٹا لگا کر پلائے جا رہے ہیں۔ ہر ٹام ڈک اینڈ ہیری جانتا ہے کہ صفائی اور ستھرائی سے جراثیم دھل جاتے ہیں اور بیماری سے بچاؤ ممکن ہو جاتا ہے۔ اس میں انہیں کسی دین کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ دینی اخلاقیات کا تعلق گناہ ، ثواب اور اللہ اور رسولؐ کی خوشنودی سے ہے۔ اس میں عبادات بھی شامل ہے اور اخلاقیات بھی۔ شراب نوشی سے بچنا شاید کسی معاشرتی اخلاقیات کی خلاف ورزی نہ ہو ‘ لیکن دینی اخلاقیات کی خلاف ورزی ضرور ہے۔ممکن ہے ‘ کسی کیسینو کا رخ کرنا‘ کسی ملک کی معاشرت کے فریم ورک میں کوئی دراڑ نہ ڈالے لیکن اس سے دینی اخلاقیات کا تارو پود بکھر کر رہ جاتا ہے۔ کسی معاشرے میں بغیرشادی کیے مرد و عورت کا ایک ساتھ رہنا‘ ممکن ہے‘ قابلِ قبول ہو لیکن دینی اخلاقیات اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتی۔ آج کل تو بعض ملکوں میں ہم جنس پرستی کو قانونی اور معاشرتی تحفظ بھی حاصل ہے‘ لیکن ایسی قبیح حرکت دین کے حوالے سے ایک گناہِ کبیرہ کے زمرے میں آئے گی۔ دینی اخلاقیات کی پابندی نہ کرنے کی صورت میں لازم نہیں کہ وبال و عذاب اسی دنیا میں ہمارے سامنے نازل ہو، اس کا وبال اور سزا جس دنیا میں دیکھی  جائے گی‘ اسے عقبیٰ کہتے ہیں۔ عقبیٰ کی خبر دینے کے لیے پیغمبر مبعوث کیے گئے۔ پیغمبر مخلوق کو خالق سے متعلق کرتے ہیں، خالق اور مخلوق کا تعلق واضح کرتے ہیں اور ایک ایسے عالمِ غیب کی خبر دیتے ہیں جس کا مشاہدہ ہم اپنی فہم و دانش اور حواسِ خمسہ سے نہیں کر سکتے۔ جو انہیں مانتا ہے‘ وہ اُن کی بتائی ہوئی باتیں جانتا ہے۔ 

یہ استدلال درست نہیں کہ کسی خطے میں کوئی پیغمبر نازل نہیں ہوا۔ ماننے والے جانتے ہیں کہ کوئی قوم ایسی نہیں جس کی طرف کسی زمانے میں نبی و مرسل نہیں بھیجا گیا۔ قرآن کہتا ہے’’ہر قوم کے لیے ایک ہادی ہے‘‘ اور’’ ہر ُامت کے لیے رسول بھیجے گئے‘‘۔قرآن کریم میں صرف اُن انبیا کا ذکر ہے ‘ جنہیں اس دور کے عرب اُن کے ناموں اور اُن کی قوموں سے جانتے تھے۔بنی اسرائیل کے بے شمار انبیا کاذکر قرآن کریم میںدرج نہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے ‘ چین، جاپان اور قدیم یونان میں انبیا مبعوث نہ کیے گئے ہوں۔ قبل اَز اسلام‘ چین میں کنفیوشس ،برصغیر میں بدھ اور یونان میں سقراط کے بارے میں فیصلہ محققین کا کام ہے۔ ہر قوم نے حسب ِ دستور اپنے ہادیانِ کرام کی اصل تعلیمات سے بتدریج انحراف کیا، کسی نے اپنے ہادی کو صرف ایک مفکر اور فلسفی کا درجہ دیا، کسی نے مصلح کا اور کسی قوم نے اپنے رسول کو درجۂ اُلوہیت پر فائز کردیا اور وہ اُن کے بت بنا کر اُ ن ہی کی عبادت کے آسن بیٹھ گئی۔

مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا قول ہے کہ کسی ایسے شخص کی تعریف مت کرو جس کی عاقبت تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے۔کسی بے دین معاشرے کوخوش حال اور مالا مال دیکھ کر ان لوگوں کو حیرت توہو سکتی ہے جو دین کو صرف ایک نظام کے طور پر مانتے ہیں، لیکن روحِ دین کے عارفوں کو اس اشکال پر قطعاً حیرت نہیں ہوتی۔ وہ جانتے ہیں کہ معاشرتی اخلاقیات اگر زیادہ دیر تک دینی اخلاقیات سے جدا رہے تو قوموں کاصفحۂ ہستی سے مٹ جانے کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔وہ جانتے ہیں ‘ کہ دین کا بنیادی مقصد بندے کا اپنے رب سے تعلق استوار کرنے کا اہتمام کرناہے ‘ جس کا ذریعہ عبادات بھی ہے اور اخلاقیات بھی۔ بیرونِ خانہ نظام کی بہتری دین کا ایک اضافی پہلو ہے۔ گلیوں بازاروں میں نظام کی بہتری کے باوجود ایک شخص اپنے انفرادی عمل کی تاریکی سے اپنی قبر کو تاریک کر سکتا ہے… اور نظام کے لاکھ بگاڑ کے باوجود ایک کلمہ گو اپنی روح کو جِلادینے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

کُل عالمین کے لیے رحمت اور باعث ِ رحمت ختم النّبییّین رحمت اللّعالمینؐ کے پیغام ِ رشد و ہدایت میں کلّیت بدیہی طور پر موجود ہے۔ اِس پیغام کو ماننے اور پھراِس کی روح یعنی (letter and spirit ) کے مطابق عمل کر نے سے زندگی کے انفرادی اور اجتماعی  دونوں پہلو روشن ہوجاتے ہیں۔ ہم اپنے دل کا چراغ روشن تو کریں، چراغ سے چراغ جلے گا تو چراغاں ہو گا۔ اپنا چراغ جلائے بغیر دل جلانے کا کچھ فایدہ نہیں!! 


ای پیپر