جان کی امان پاﺅں تو عرض کروں !
23 دسمبر 2019 2019-12-23

اللہ جانے کیوں ہمارے کچھ جرنیل یہ سمجھتے ہیں کسی ریٹائرڈ جرنیل کے خلاف ایک آدھ فیصلہ آنے سے اُس کے اثرات کا شکار پورا ادارہ ہوگا، افواج پاکستان اِس ملک کا ایک باوقار ادارہ ہے، اِس ادارے کی عزت آبرو ہرمحب وطن پاکستانی کو اُتنی ہی عزیز ہے جتنی اِس ادارے کے سپاہی سے لے کر جرنیل کو ہے، لہٰذا اِس کے خلاف ہونے والی کسی بھی قسم کی سازش کو سراہنے کا یا اُس کا حصہ بننے کا کوئی سچا پاکستانی تصور بھی نہیں کرسکتا، فوج میں کوئی فردواحد اگر غلط کام کرتا ہے، آئین توڑتا ہے، یا کرپشن وغیرہ کرتا ہے تو نفرت اُس فردواحد کے خلاف پیدا ہوتی ہے، پر اللہ جانے کچھ لوگ کیوں یہ سمجھتے ہیں یہ نفرت پورے ادارے کے لیے پیدا ہورہی ہے، اور پھر غیر ضروری طورپر ایسے ”حفاظتی اقدامات“ شروع کردیتے ہیں جن سے واقعی نفرت پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے، پاکستان میں عوام سب سے زیادہ عزت کس ادارے کی کرتے ہیں وہ افواج پاکستان ہے۔ اِس کی قربانیاں بے مثال اور لازوال ہیں، دہشت گردی کا جن کیسے بے قابو ہوا، یا پاکستان میں داخل کیسے ہوا؟؟ ہم اِس کی تفصیل میں جائے بغیر یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے دہشت گردی یا دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنانے میں سب سے اہم اور بڑا کردار افواج پاکستان کا ہے، عوام اپنی فوج سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، پاکستان میں اب بھی دل سے کسی ادارے کا احترام کیا جاتا ہے وہ فوج ہے، سو جس طرح عوام فوج سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اُس طرح عوام بھی چاہتے ہیں فوج اُن سے دل سے محبت کرے، اور اُسی طرح آئین اور قانون کا احترام کرے جس طرح ایک عام آدمی سے آئین اور قانون کے احترام کی توقع کی جاتی ہے،....سب سے بڑا اور پائیداد خوف محبت کا ہوتا ہے، کمزورلوگوں کے سامنے طاقت کا مظاہرہ کرکے دل نہیں جیتے جاسکتے، بندوق دکھا کر کسی سے نہیں کہا جاسکتا ”تم مجھ سے محبت کرو، یا میرا احترام کرو“، اِس طرح معاملات ہمیشہ بگڑتے ہوئے ہی دیکھے ہیں، جو اپنوں پر بندوق اُٹھاتے ہیں وہ دشمنوں پر بندوق اُٹھانے کے قابل ہی نہیں رہتے، ....ہم اپنے گھر کی بات کرتے ہیں، جِس گھر میں خوف کی فضا ہوگی، کسی کو کُھل کر بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، کسی کو بولنے کے حق سے محروم رکھا جائے گا، کسی پر اپنی رائے ٹھونسنے کی کوشش کی جائے گی، اُس کی جائز بات تسلیم کرنے سے انکار کردیا جائے گا، اِس سے اُس گھر میں صرف خرابیاں ہی جنم لیں گی، کسی کی زبان بند کروائی جاسکتی ہے، اُس کی سوچوں پر پہرے نہیں بٹھائے جاسکتے ، سوچ کی قوت بڑھتی ہے ہونٹوں پر پہرہ لگنے سے ....قومی ادارے ہمارے ماں باپ کی طرح ہوتے ہیں، ان اداروں کے حوالے سے یا ان اداروں سے وابستہ کچھ شخصیات کے حوالے سے عام لوگوں کو اُسی طرح گلے شکوے پیدا ہوتے رہتے ہیں جس طرح بعض اوقات اولاد کو والدین سے ہوتے رہتے ہیں، ....حدِادب میں رہ کہ لوگوں کو ان شکوﺅں کے اظہار کا پورا موقع ملنا چاہیے، جائز شکوے شکایات کو دُورکرنے کا بندوبست بھی کیا جانا چاہیے۔ جیسے والدین چونکہ اپنی اولاد سے سچی محبت کرتے ہیں وہ اُن کے جائز شکوے شکایتوں کو دورکرنے کی ہرممکن کوشش کرتے ہیں، ....ایسے ہی ہمارے کچھ اداروں کو بھی چاہیے عوام کے جائز شکوے شکایات دور کرنے کی کوشش کریں، نہ کہ کسی جائز شکوے پر اُسے غائب کردیا جائے، .... ملک میں ایسے حالات پیدا کئے جائیں جن سے باہمی عزت، محبت اور احترام کے رشتے نہ صرف برقرار رہیں، مضبوط بھی ہوں، .... میرے نزدیک دل توڑنا آئین توڑنے کے مترادف ہے، .... پاکستان کے جو حالات اس وقت بنے ہوئے ہیں پاکستان کو ٹوٹ کر چاہنے والے ہرشخص کا دل ٹوٹ کر بکھرا پڑا ہے، محب وطن لوگ اس احساس میں مبتلا ہیں پاکستان کے قومی اداروں سے وابستہ کسی شخصیت کے کسی گندے یا مکروہ فعل پر وہ بات کریں گے تو اسے پورے ادارے کی توہین تصور کیا جائے گا، اور بات کرنے والے شخص کو غدار یا ملک دشمن قرار دے کر اُس کے خلاف بدترین انتقامی کارروائی کی جائے گی، .... عام آدمی کوئی جرم کرے ادارے اسے سزادیتے ہیں، اور اداروں سے وابستہ شخص کوئی جرم کرے، اور اس سے بات کرنے کی اجازت بھی نہ ہو، اس سے ملک میں صرف نفرتیں ہی جنم لیں گی، جو، اب اس حدتک لے چکی ہیں ہر شخص دوسرے کی بات سنے اور سمجھے بغیر اُسے کھانے کو دوڑتا ہے، عدم برداشت معاشرے میں بڑھتی جارہی ہے، ہمارے نام نہاد قومی رہنما اور قومی ادارے معاشرے کی اصلاح کا باعث بننے کے بجائے معاشرے کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں، اس طرح کا ماحول پیدا کرنا ملک دشمنی ہی کی ایک قسم ہے .... ہمارے نام نہاد قومی رہنما اور مختلف اداروں سے وابستہ اہم شخصیات اکثر یہ راگ الاپتی ہیں ”ہم دشمن کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دیں گے“ ....دوسری طرف اُن کے بے شمار اعمال ایسے ہیں دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا، .... پاکستان میں کسی ”مقدس ادارے“ پر کوئی اُنگلی اُٹھائے اُسے فوراً ملک دشمن قرار دے دیا جاتا ہے، لیکن کچھ اداروں کے آپس میں تصادم سے جو حالات پیدا ہوتے ہیں، عالمی سطح پر ملک کی جو بدنامی ہوتی ہے، یہ پاکستان کے ساتھ کہاں کی دوستی ہے ؟۔بدقسمتی سے اس وقت اداروں کے تصادم سے ایسا ماحول پیدا ہوگیا ہے سوائے تباہی کے کچھ دکھائی نہیں دے رہا، بچے تھوڑی دیر کے لیے آپس میں لڑ کر صُلح کرلیتے ہیں، اِس ملک کے بڑوں کا حال یہ ہے اُن کی لڑائیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ ہر ادارہ یہ ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے اس ملک پر اصل حکمرانی اُسی کی ہے۔ اصل حکمرانی قانون کی ہونی چاہیے جس کا کہیں نام ونشان دکھائی نہیں دے رہا، اس سنگین صورت حال کا احساس ہمارے کچھ جرنیلوں کو ہے نہ ججوں کو ہے،....جنرل ریٹائرڈ مشرف کی سزا کے خلاف آنے والے غیرضروری ردعمل نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے یہاں ہر کوئی ذاتی مفادات کی لڑائی میں پاکستان کو تباہی کے آخری مقام پر لے جانے کی کوششوں میں ہے۔ سب سے بڑے اور بُرے دشمن اپنے ہم خود ہیں، ہمیں باہر کے کسی دشمن کی بھلا ضرورت ہی کیا ہے؟ ، اس ملک کو ہرکوئی اپنے باپ دادا کی جاگیر سمجھ کر یہ کوشش کررہا ہے ملک مکمل طورپر اُس کے قبضے میں آجائے، ہماری عدلیہ اپنی بے شمار خرابیاں دُور نہ کرنے کے باوجود یہ سمجھتی ہے ملک پر عدلیہ کی حکمرانی ہونی چاہیے، ....اِسی طرح ہمارے کچھ جرنیل اپنی روایتی خرابیوں کو مکمل طورپر نظرانداز کرکے ملک پر مختلف صورتوں میں مسلسل اپنا قبضہ جمائے رکھنے کی ضد میں مبتلا ہیں، اُن کے دیکھا دیکھی صحافی اور وکلاءبھی کسی سے پیچھے نہیں رہے، ہم سب آپس میں لڑکر جو کچھ اِس ملک کے ساتھ کررہے ہیں، اِس ملک کے بدترین دشمن بھی اس ملک کے ساتھ وہ کچھ نہیں کرسکتے !!


ای پیپر