خصوصی عدالت کا فیصلہ
23 دسمبر 2019 2019-12-23

نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر جنرل مشرف نے اقتدار میں آٹھ سال گزارنے پر اکتفا نہیں کیا وہ وردی میں ہی رہ کر مزید عرصہ حکومت کرنا چاہتے تھے۔لہٰذا انہوں نے تین نومبر 2007 کو ملک میں ایک بار پھر ایمرجنسی نافذ کردی۔ تین نومبر سے پندرہ دسمبرتک، بیالیس روز آئین معطل رہا کئی جج بشمول چیف جسٹس نظربند کر دیئے گئے۔ میڈیا پر پابندی لاگو کردی گئی۔ ملک کو عبوری آئینی حکم نامے کے تحت چلایا جانے لگا۔ اس غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام سے ملک میں بحران پیدا ہو گیا۔ جس نے مشرف کو پہلے اقتدار سے اور بعد میں ملک سے ہی باہر نکال دیا۔

مشرف نے بڑھتی ہوئی دہشتگردی اورعدلیہ کی انتظامی امور میں مداخلت کو ایمرجنسی کے نفاذ کے لئے بطورجواز بتایا۔ لیکن اس پر کوئی بات نہیں کی جارہی کہ یہ جواز کتنا جائز تھا۔

پرویز مشرف نواز شریف کو ہٹانے کے بعد ابتدائی طور وہ چیف ایگزیکیٹو بنے۔ پہلی مرتبہ صدر رفیق احمد تارڑ کو ہٹاکر خود کو صدر مقرر کیا۔ د دوسری مرتبہ تیس اپریل 2002 کو ریفرینڈم کے ذریعے خود کو صدر منتخب کرالیا، حالانکہ ریفرینڈم کے ذریعے صدر منتخب کرنے کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ریفرینڈم کا سوال نامہ ضیا ء الحق کے سوالنامے جیسا تھا، جس میں کوئی متبادل جواب کی گنجائش نہیںتھی۔ ریفرینڈم میں بھی وہ سوال نہیں تھا جس کا بعد میں مشرف نے جواز بنا کر ایمرجنسی نافذ کی۔

تیسری دفعہ صدر بن رہے تھے تو عدالت آڑے آگئی۔ مارچ 2007 میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو مبہم الزامات کے تحت ہٹایا تو وکلاء نے اس اقدام کوعدلیہ کی آزادی پر حملہ قراردیا اور اس کے خلاف ملک بھر میں تحریک چلائی ۔ جولائی 2007 میں سپریم کورٹ کی تیرہ رکنی بنچ نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کردیا۔ پہلی مرتبہ ججز نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

2007 کے صدارتی انتخاب کے موقع پر جنرل مشرف کے مخالف امیدوار ریٹائرڈ جسٹس وجیہ الدین احمد کی درخواست پر سوال کھڑا ہوا کہ کیا مسلح افواج کا رکن آئینی طور پر صدارتی انتخاب لڑسکتا ہے؟ سپریم کورٹ نے اگرچہ مشرف کوراستہ تو دیا لیکن الیکشن کمیشن کو پابند کیا کہ وہ عدالت سے حتمی فیصلے تک کامیاب صدارتی امیدوار کا سرکاری طور پر اعلان نہ کیاجائے۔ صدارتی انتخاب جنرل مشرف جیت گئے۔ اس سے پہلے کہ عدالت کسی نتیجے پر پہنچتی، 3 نومبر کی شام جنرل مشرف

نے بطور آرمی چیف ایمرجنسی کا نفاذ کردیا۔ ملک کے آئین کو معطل کر کے عبوری آئینی حکم جاری کردیا۔

ایمرجنسی کے نفاذ کے وقت جنرل مشرف کے پاس صدر اورآرمی چیف دونوں عہدے تھے۔جنرل مشرف کے ان دو اقدامات کے خلاف ملک بھر میں شدید ردعمل ہوا۔ عالمی قوتوں نے بھی اس اقدام کی مخالفت کی۔ دبائو کے جواب میں مشرف نے کہا کہ اگر انہیں صدارتی انتخاب لڑنے دیا جائے تو وہ آرمی کا عہدہ چھوڑنے کے لئے تیار ہیں۔اس اعتراف کے بعد کوئی کیسے مشرف کا دفاع کر سکتا ہے وہ اداروں کو اپنے عہدے کے لئے استعمال کر رہا تھا۔ ایمرجنسی کے پچیس روز بعد انہوں نے آرمی چیف کا عہدہ جنرل کیانی کے حوالے کیا اورصدر کے عہدے کا حلف اٹھا کر کل وقتی سیاستدان بن بیٹھے۔ صدر کے عہدے کا حلف لینے کے اٹھارہ روز بعد انہوں نے عبوری آئینی حکمنامہ واپس لیا۔ 2008 کے انتخابات کے بعدنواز لیگ اور پیپلزپارٹی کی جانب سے مواخذہ سے ڈر کرانہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ گیارہ ماہ بعد سپریم کورٹ نے ایمرجنسی مع عبوری آئینی حکمنامے کو غیرآئینی قرار دیا۔ عدالت نے مشرف کو اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے بلایا، لیکن وہ لندن روانہ ہو گئے۔

2013کے الیکشن سے قبل سینیٹ میں متفقہ قرارداد منظور کر کے مطالبہ کیا گیا کہ پرویز مشرف کے خلاف آئین کی دفعہ چھ کے تحت غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔آج ایم کیو ایم سندھ میں ریلی نکال رہی ہے چوہدری برادران بھی سزا کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس قرارداد کے وقت مسلم لیگ (ق) اورایم کیو ایم خاموش تھی۔ الیکشن کے بعد نواز شریف وزیراعظم بنے تو عمران خان طعنے دیتے رہے مشرف کے خلاف آئین سے غداری کا مقدمہ کیوں نہیں چلایا جارہا۔

جب حکومت نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر مقدمہ چلانے کا اعلان کیا تو رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر عارف علوی نے مشرف کے خلاف مقدمے کا خیر مقدم کیا۔2014میں مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔ اُس وقت کے سیکرٹری دفاع آصف یاسین ملک نے ایک بیان میں کہا کہ فوج کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم جنرل راحیل شریف فوج کے سربراہ بنے تو اُنہوں نے مشرف کو بچانے کی کوشش کی جس کا اعتراف مشرف ایک ٹی وی انٹرویو میں بھی کرچکے ہیں۔تب چوہدری برادران کہہ رہے تھے کہ اکیلے پرویز مشرف پر مقدمہ نہ چلایا جائے بلکہ اُن کے ساتھ کچھ شریک ملزمان پر بھی مقدمہ چلایا جائے۔دراصل سیاسی جماعتیں مشرف کو آئین شکن سمجھ رہی تھی اور سیاسی طور پر ان کی حمایت موجود نہ تھی۔اب اگر کوئی سیاسی جماعت یو ٹرن لے رہی ہے تو یہ سیاسی مصلحت پسندی ہے۔

17دسمبر 2019کو خصوصی عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے وہ 31جولائی 2009کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا تسلسل ہے جس میں کہا گیا تھا کہ مشرف نے صرف اپنا عہدہ بچانے کے لئے آئین معطل کیا۔ مشرف کے خلاف فیصلہ میں جب کوئی سقم نہیں ملا تو تین رکنی خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ کے پیرا 66کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس پیرا میں لکھا ہے کہ اگر مشرف کی سزائے موت پر عملدرآمد نہیں ہوتا تو بعد از مرگ اُنہیں ڈی چوک اسلام آباد میں لایا جائے اور یہاں اُن کی لاش تین دن تک لٹکائی جائے۔

چلو پیرا 66کی وجہ سے مشرف کے حامیوں کو انسانی حقوق اور آئین تو یاد آیا۔ پرویز مشرف آئین پاکستان کو کاغذ کا ٹکڑا سمجھ کر ڈسٹ بن میں پھینکنے کی بات کرتے تھے،آج انہیں اسی کاغذ کے ٹکڑے کی طاقت کا اندازہ ہوگیا ہوگا،پارلیمنٹ سپریم ہے،عدلیہ سمیت دیگر ادارے آئین و قانون کے تابع اور اپنے متعین کردہ دائرہ اختیار میں رہنے کے پابند ہیں۔


ای پیپر