عدالتی تاریخ میں ایک اور فیصلے کا اضافہ
23 دسمبر 2019 2019-12-23

جنرل پرویز مشرف کو غداری کے الزام میں سزائے موت دیئے جانے کے فیصلے پر آرمی کی طرف سے اس کی مخالفت میں آنے والے ردعمل کو دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ فیصلہ غصے انتقام اور ذہنی اختراعات اور ذاتی خواہشوں کا مرقع ہے۔ یہ مختصر فیصلے کا ردعمل تھا۔ اس وقت تک کسی نے تفصیلی فیصلے کے مندرجات نہیں دیکھے تھے۔ تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد صورت حال مزید گھمبیر ہو گئی کیونکہ فیصلے کی جزئیات میں جو زبان اور طریق کار استعمال ہوا اس سے ایسے لگ رہا تھا کہ یہ فیصلہ مظفر گڑھ کے گاؤں کی اُسی پنچائیت کے سربراہ نے کیا ہے جس نے آج سے تقریباً 16 سال پہلے مختاراں مائی کو پنچائیت کے حکم پر اجتماعی زیادتی کا فیصلہ سنایا تھا جس کی بنیاد ریپ کے بدلے ریپ کے اصول پر رکھی گئی تھی جس طرح کا مختاراں مائی کیس میں پنچائتی فیصلے نے پوری دنیا میں پاکستان کا مذاق اڑایا گیا حالیہ فیصلہ اس سے کافی حد تک مماثل ہے۔ انگریزی کا محاورہ ہے کہ "Revenge is a wild Justice" یعنی انتقام در حقیقت جنگلی انصاف ہوتا ہے۔ اس فیصلے کے پس پردہ محرکات اور ہیں لیکن اس پر جتنا شدید عوامی ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عدلیہ پر عوام کا اعتماد 73 سالہ تاریخ کی نچلی ترین سطح پر آ گیا ہے اس فیصلے سے معاشرے کے اندر طبقاتی کشمکش اور ٹکراؤ کا خدشہ پیدا ہونے لگا ہے۔

حالیہ فیصلے کو سمجھنے کے لیے ہمیں انگلینڈ کے 17 ویں صدی کے ایک واقعہ کی تفصیل میں جانا ہو گا جب 1661ء میں بپھرے ہوئے بے قابو ہجوم نے oliver cromwell کو قبر سے نکال کر اس کے ڈھانچے کو پارلیمنٹ بلڈنگ کے باہر لٹکا دیا تھا یاد رہے کہ یہ کام کسی عدالتی فیصلے کے تحت نہیں بلکہ بادشاہ چارلس دوم کو خوشنودی کی خاطر کیا گیا تھا۔ کروم ویل (1599-1660) ایک فوجی جرنیل اور سیاستدان تھا۔ اس وقت پارلیمنٹ اور بادشاہ چارلس اول کے درمیان اختیارات کی جنگ عروج پر تھی کروم ویل نے بادشاہ کی حمایت کرنے کی بجائے پارلیمنٹ کی حمایت کی۔ 1649ء میں کروم ویل نے ایک طویل جنگ کے بعد چارلس اول کی بادشاہت کا خاتمہ کر دیا اور بادشاہ کو عوام سے غداری کی پاداش میں سزائے موت دے دی گئی۔ عوام نے کروم ویل کو چارلس اول کی جگہ پر بادشاہ بنانے کی پیشکش کی مگر اس نے انکار کر دیا اور لارڈ پروٹیکسٹر کا عہدہ سنبھالا اور 1658ء میں اپنی طبعی موت تک وہ انگلینڈ کا سربراہ رہا۔ اس کی موت دو سال بعد چارلس اول کے بیٹے چارلس دوم نے انگلینڈ پر دوبارہ قبضہ کر کے اپنی خاندانی بادشاہت بحال کر دی چارلس دوم کروم ویل کو اپنے باپ کا قاتل سمجھتا تھا اس لیے عوام کا ایک طبقہ بادشاہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لییی کروم ویل

کا بعد از مرگ دشمن بن گیا تا کہ بادشاہ سے فوائد حاصل کیے جا سکیں ایک طویل پراپیگنڈے کے بعد 1661ء میں ایک ایسے ہجوم نے کروم ویل کی لاش قبر سے نکال کر اُسے پھانسی پر لٹکا دیا۔ یہ نہ تو کسی عدالت کا فیصلہ تھا اور نہ ہی ایسا کرنے کا حکم بادشاہ نے دیا تھا لہٰذا اسے کسی طرح بھی بطور مثال پیش نہیں کیا جا سکتا یہ ویسے بھی قرون وسطیٰ کے دور کا واقعہ ہے جس دور میں کوئی آئین وجود میں نہیں آیا تھا یاد رہے کہ دنیا کا سب سے پرانا تحریری آئین امریکہ کا ہے جو اس واقعہ کے 100 سال سے زیادہ عرصے کے بعد فریم کیا گیا تھا۔

کروم ویل پارلیمنٹ کی بالادستی کا حامی تھا اس لیے اس نے بادشاہت کا خاتمہ کیا تھا جو اس کی موت کے بعد بحال ہو گئی۔ وہ چاہتا تو خود بادشاہ بن سکتا تھا مگر پیش کش کے باوجود اس نے انکار کر دیا۔

یہ تو تھا وہ پس منظر جس کے بعد اس کے پاکستانی سیاق و سباق کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ پاکستان میں جنرل مشرف کو کروم ویل کی طرح پھانسی دینے کی بات سب سے پہلے جسٹس سعید الزماں صدیقی نے کی تھی جسٹس صدیقی کو میاں نواز شریف نے اپنے دوسرے دور میں چیف جسٹس مقرر کیا تھا وہ میاں صاحب کے قریبی تھے جس کی وجہ سے انہوں نے PCO کے تحت حلف اتھانے سے انکار کر دیا تھا انہیں اندازہ تھا کہ میاں صاحب ایک نہ ایک دن واپس اقتدا رمیں آئیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا میاں نواز شریف تیسری دفعہ وزیراعظم بنے تو وہ سعید الزماں صدیقی کی خدمات کو نہیں بھولے لہٰذا عشرت العباد کے بعد انہوں نے سعید الزماں صدیقی کو گورنر سندھ مقرر کیا اس وقت وہ بستر مرگ پر تھے انہیں ہسپتال سے لا کر حلف دلایا گیا وہ گورنر کا حلف اتھانے کے باوجود اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل نہیں تھے اور اسی حالت میں وفات پا گئے ۔

ہمارے ہاں فوج کے جرنیلوں پر ہمیشہ یہ الزام لگتا ہے کہ وہ سیاست کرتے ہیں مگر یہ ایک متوازی حقیقت ہے کہ ہماری عدلیہ کے جج صاحبان ہر دور میں کسی نہ کسی پارٹی کے ساتھ سیاسی وفاداری استوار کیے رہے ہیں مگر ان پر اعتراض نہیں کیا جاتا کہ کہیں توہین عدالت نہ لگ جائے حالانکہ پاکستان میں ایس ایم ظفر جیسے ماہرین آئین و قانون یہ کہتے رہے ہیں کہ توہین عدالت قانون کو جدید خطوط پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جج کے خلاف کی گئی ہر بات توہین عدالت نہیں ہوتی۔

ہماری جوڈیشری میں ایک طبقہ جو افتخار چوہدری کے دور سے اب تک پرویز مشرف کے خلاف ایک فریق بنا رہا وہ جسٹس سعید الزماں صدیقی کے نقطہ نظر کا قائل رہا ہے کہ جنرل مشرف کو مقام عبرت بنا دیا جائے اور سب کو پتہ ہے کہ اس مکتبہ فکر کی سیاسی وفاداریاں کس کے ساتھ ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ساڑھے تین سو سال پرانے ایک واقعہ کو بنیاد بنا کر ملک کے عدالتی نظام کو جو پہلے ہی نہایت کمزور ہے اسے پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا جائے۔ یہ اداروں کو کمزور اور ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہو گا۔

اس فیصلے سے فوج کے اندر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور فیصلے کے منفی اثرات پاکستان کی مجموعی سیاست پر خوشگوار نہیں ہوں گے اس وقت عوامی سطح پر عدلیہ کی تنظیم نو اور جج صاحبان کی تقرری کے طریق کار کو شفاف بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

اسی اثناء میں حکومت نے فیصلہ کرنے والے جج صاحب کے خلاف جوڈیشل کمیشن میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایک عدالتی فیصلے کی خاطر اور محض انا کی تسکین کے لیے پورے سسٹم کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ فیصلہ آنے کے بعد پہلے دن جو لوگ حکومت اور جنرل مشرف کی مخالفت میں اس فیصلے کی حمایت کر رہے تھے۔ تفصیلی فیصلہ پڑھنے کے بعد انہوں نے اس سے اظہار لا تعلقی کر دیا ہے کہ الفاظ قانون اور انصاف سے کوسوں دور ہیں۔ تنازعات سے لبریز یہ فیصلہ عدلیہ کی ساکھ کو اپنے ساتھ بہا کر لے جائے گا۔


ای پیپر