گیند اب سیاست دانوں کی کورٹ میں ہے
23 دسمبر 2019 2019-12-23

دس مہینے قبل الیکشن کمیشن کے دو ارکان اپنے عہدوں سے فارغ الخدمت ہو چکے ہیں۔دستور کے مطابق ان اہم عہدوں پر تعیناتی وزیراعظم کی ذمہ داری ہے۔ آئینی طریقہ کار کے مطابق وزیر اعظم ،قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سے مشاورت اور دونوں کے درمیان باہمی اتفاق سے الیکشن کمیشن کے ارکان کے تقرر کا پابند ہے ۔دس مہینوں سے دو ارکان کے عہدے اس اہم آئینی ادارے میں خالی پڑے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان کی ذمہ داری تھی کہ وہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے ملاقات کرکے اس اہم تعیناتیوں پر اتفاق رائے پیدا کرکے ارکان کا تقرر کرتے مگر افسوس کہ وہ اس آئینی ذمہ داری کو ابھی تک پوری کرنے میں ناکام ہیں۔جس طریقہ کار کے مطابق انھوں نے الیکشن کمیشن کے ارکان کے تقرر کے لئے قائد حزب اختلاف سے رابطہ کیا وہ ہر گز آئین میں درج طریقہ کار نہیں تھا۔پھر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سے مشاورت کے بغیر جس انداز میں دو ارکان کی نامزدگی منظوری کے لئے صدر مملکت کو بھیجی وہ بھی دستوری طریقہ کار کے مطابق نہیں تھی۔ایوان صدر اور وزیر اعظم ہائوس دونوں نے الیکشن کمیشن کے دوارکان کے تقرر پر جو طرز عمل اپنا یا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وفاقی وزارت قانون ،اٹارنی جنرل اور دوسرے سرکاری قانونی ماہرین نے دونوں معزز ایوانوں کو بے وقوف بنایا۔چیف الیکشن کمیشنر سردار رضا نے دونوں حکومتی نامزد ارکان سے حلف لینے سے انکار کیا۔معاملہ اسلام آباد کورٹ گیا۔عدالت عالیہ نے سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کو حکم دیا کہ اس اہم معاملے کو دستور کے مطابق حل کرکے تفصیل عدالت میں جمع کرادیں۔وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے مزید دس دن کی مہلت طلب کی ہے۔اس دوران چیف الیکشن کمیشنر سردار رضا بھی سبکدوش ہو گئے اور عملی طورپر اب یہ اہم آئینی ادارہ غیر فعال ہی ہے۔اس میں شک نہیں کہ شریف خاندان کے ساتھ وزیر اعظم عمران خان کا ذاتی عناد بھی مو جود ہے لیکن ضرورت اس امر کی تھی کہ وزیر اعظم عمران خان ذاتی تعصب اور عصبیت کو ایک طرف رکھ کر قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے مشاورت کرتے اور اس اہم آئینی ادارے کو غیر فعالیت سے بچانے کی کوشش کرتے اس لئے کہ حزب اختلاف سے زیادہ ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ آئینی اداروں میں بروقت تقرریوں اور تعیناتیوں کو یقینی بنائے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ جب یہ معاملات عدالتوں میں زیر سماعت آتے ہیں اور وہ فیصلے دیتی ہے تو پھر حکومت اعتراض کرتی ہے کہ عدالتیں ہمیں کام کرنے نہیں دے رہی ہیں اور ہمارے معاملات میں مداخلت کرتی ہیں،جس سے پارلیمان کی بالادستی مجروح ہو رہی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف جوسیاست دانوں پر مشتمل ہوتی ہے خود دیگر اداروں کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ ان کے معاملات میں مداخلت پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اب اگر ایک اہم آئینی ادارہ غیر فعال ہے ۔ سیاست دان اس کا حل نکالنے میں ناکام ہے تو لازمی طور پر عدالت فیصلہ کرنے پر مجبور ہو گی۔حالانکہ عدالت نے حکومتی اور حزب اختلاف دونوں طرف کے سیاست دانوں کو

کئی مواقع دئیے کہ اس طرح کے معاملات پارلیمان میں حل کیا کریں ،پھر بھی وہ فیصلہ نہیں کر پاتے تو عدالت کے پاس اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں کہ اس اہم معاملے پر فیصلہ دیں جو کہ عدالت کی نہیں بلکہ سیاست دانوں کی آئینی ذمہ داری ہے۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں تو سیع کے مقدمہ میں سپریم کورٹ نے اسلام آباد کی عدالت عالیہ کی طرح ایک مرتبہ پھر گیند سیاست دانوں کی کورٹ میں پھینک دی ہے۔الیکشن کمیشن کے معاملے پروفاقی حکومت ،حزب اختلاف کے ساتھ صلا ح ومشورے میں سنجیدہ نہیں تھی جبکہ اس مرتبہ حزب اختلاف ذاتی مفاد کی وجہ سے اس اہم عہدے کے لئے قانون سازی کرنے پر حکومت کے ساتھ تعائون کر نے پر تیار نہیں۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف لندن جاکر بیٹھ گئے ہیں۔حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی کو بھی زیادہ دلچسپی نہیں۔مولانافضل الرحمان کسی بھی صورتحال میں وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ تعائون کے لئے تیار نہیں،جبکہ وفاقی وزراء کی ایک غیر سنجیدہ فوج ظفر موج کو اس معاملے کی حساسیت اور سنگینی کا ادراک ہی نہیں۔جس وفاقی وزیر کی زبان پر جو بھی آئے وہ بول لیتا ہے ، حالانکہ ان کا اس معاملے سے کچھ لینا دینا بھی نہیں ہوتا۔وفاقی وزارت قانون روایتی تساہل سے کام لے رہی ہے۔اٹارنی جنرل جس نے وفاقی حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میںجواب جمع کرکے اس کا دفاع کرنا ہے وہ بھی اسی طرح مستعد دکھائی نہیں دے رہا ہے کہ جس طرح ان کو ہونا چاہئے تھا۔لیکن اس سب کے باوجود سب سے زیادہ ذمہ داری وزیر اعظم عمران خان پر ہے کہ وہ اس اہم معاملے پر قانون سازی کرنے سے قبل حزب اختلاف سے رابطہ کریں ۔ان سے بھی تجاویز لیں تاکہ متفقہ طور پر قانون سازی ہو۔

اور بھی کئی معاملات ہیں کہ جس پر سیاست دان صرف سیاست کرنے میں مصروف ہیں۔پارلیمان کے اندر وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کرتے ۔پھر جب معاملات عدالت میں چلے جاتے ہیں اور عدالت دوبارہ ان کو موقع دیتی ہے کہ اپنے معاملات پارلیمان ہی میں حل کریں لیکن وہ ذاتی تعصب یا مفادات کی وجہ سے ایسا نہیں کرتے تو پھر عدالت کو مجبورا فیصلے دینے پڑتے ہیں،مگر افسوس کہ پھر یہی سیاست دان عدالتوں پر اعتراضات کرتے ہیں کہ وہ پارلیمان کے اختیارات میں مداخلت کر رہی ہے۔

انتخابی اصلاحات کا معاملہ بھی اسی طرح کا ایک معمہ ہے۔ہر انتخاب سے قبل سیاست دانوں کا مطالبہ ہوتا ہے کہ انتخابات فوج کی نگرانی میں ہونے چاہئے لیکن جب نتائج آجاتے ہیں تو پھر ہر ہارنے والا فوج پر دھاندلی کا لزام لگا دیتا ہے۔اگر فوج ہر انتخاب میں دھاندلی کی ذمہ دار ہے تو پھر کیوں سیاست دان قانون سازی نہیں کرتے کہ فوج کا انتخابات سے کوئی سروکار نہیں۔کیوں الیکشن کمیشن اور دوسرے اداروں کو مضبوط نہیں کرتے کہ جو ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کا نہ صرف ضامن ہو بلکہ اس پر ان سیاست دانوں کا اعتماد بھی ہو۔ اب بھی کچھ کم چار سال باقی ہیں ۔حکومت اور حزب اختلاف دونوں سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کو چاہئے کہ انتخابات میں دھاندلی اور آئینی معاملات کو پارلیمان میں حل کرنے کے لئے اقدامات کریں ورنہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اسی طرح ایک دوسرے کے ساتھ دست وگریباں ہو نگے۔کوئی آج وزیر اعظم ہائوس کا مکین جبکہ کل نیب کا مہمان ہوگا۔کوئی آج عدالت کے فیصلوں کے احترام کا داعی ہوگا جبکہ کل اس کا ناقد ،کسی کو آج ملکی اداروں پر اعتماد ہو گا جبکہ کل عدم اعتماد کا اظہار کریگا،کوئی آج ملک کا کرتا دھرتا ہوگا جبکہ کل اس کو اس ملک میں کوئی جائے پناہ بھی نہیں ملے گی۔لہذا ضروری ہے کہ تمام تر ذاتی مفادات سے بالاہو کر آئینی معاملات کو پارلیمان میں حل کرنے کی روایت کو زندہ کیا جائے تاکہ کسی اور کی مداخلت اور پارلیمان کی بالادستی کو تسلیم نہ کرنے کے الزامات کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو۔


ای پیپر