جسٹس سیٹھ بھی ہمیشہ یاد رہیں گے
23 دسمبر 2019 2019-12-23

وطن عزیز جس دور سے گزر رہا ہے یہ نازک نہیں نزع کا دور ہے حالیہ عدالتی فیصلے نے کمال رنگ جمایا ملکی تاریخ لمحوں میں دہرا دی گئی۔ ایک تو خبر ہاتھی کی پہلی بار شیر سے مڈ بھیڑ ہوئی جس نے شیر کو اُٹھا کر پھٹک دیا ۔ شیر نے ادھر ادھر دیکھا اور بولا کہ پتہ نہ ہو تو کسی سے پوچھ لیا کرتے ہیں۔ 12 اکتوبر 1999 ء کو پردہ اٹھتا ہے تو مارشل لاء کی فلم شرطیہ نئے پرنٹ کے ساتھ عزیز ہم وطنوں کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔ پرویزمشرف اقتدار کے سنگھاسن پہ بیٹھتے ہیں ۔ منتخب وزیراعظم کو اس کے خاندان اور ساتھیوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ پھر وہی ہوتا ہے جو منظور مارشل لاء ہوتا ہے۔ عدالت عظمیٰ پرویز مشرف کے اقدام کو صحیح قرار دیتی ہے بلکہ ڈکٹیٹر کو اختیار دیتی ہے کہ اگر ضرورت محسوس ہو تو آئین میں ترمیم سیاسی اور معاشی اصلاحات بھی کر سکتے ہیں بن مانگے مدت اور اختیارات دیئے جاتے ہیں۔ اس بنچ میں افتخار محمد چوہدری سمیت دیگر جج صاحبان ڈھیر ہو گئے ۔

2002ء میں مسلم لیگ (ن) میں سے ق کشیدکی گئی جس میں قدرت نے کمال برکت ڈالی۔ امریکن پالیسی، دہشت گردی ’طالبان‘ پاکستانی طالبان اور پاکستان دشمن طالبان ایک ایسا کھیل شروع ہوا کہ وطن عزیز کے چوکوں، چوراہوں، امام بارگاہوں، مزاروں، مدرسوں، سجدوں میں بم پھٹنے لگے اور لوگ کٹنے لگے۔جرائم اور کرپشن کو ضیاء الحق کی طرح بطور پالیسی اپنایا گیا۔دیگر اقدامات کے ساتھ لال مسجد کا دل خراش واقعہ لوگوں کو دکھی کر گیا۔ پاکستان آرمی ادارے کی ساکھ کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے لہٰذا قدرت نے فیصلہ کر لیا کہ جنرل مشرف کے بوجھ سے جان چھڑائی جائے۔ سکرپٹ تیار کیا گیا۔ لہٰذا جو سکرپٹ تیار کیا گیا اس میں افتخار محمد چوہدری کو چنا گیا۔جنرل مشرف افتخار محمد چودھری جو وردی میں انتخابات میں حصہ لینے کے خلاف کسی اشارے پر عندیہ دے چکے تھے کے ساتھ ملنا نہیں چاہتا تھا مگر کچھ خفیہ ہاتھوں نے جن کو میں قدرت کا نام دیتا ہوں نے ملاقات طے کروا دی جمعہ مبارک کا دن دن تھا۔ ملاقات میں جسٹس چودھری نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف بات کی تو جنرل مشرف بولے کہ تمہارے تو خود خلاف یہ فائل ہے۔ جسٹس چودھری نے کہا کہ نہیں یہ غلط ہے۔ جنرل مشرف

جس کے پاس جسٹس چودھری ضیاء الحق سے بھی زیادہ عاجزی کی اداکاری سے پیش آتے تھے۔ جنرل مشرف نے کوئی زیادہ بات نہ کی اور اس وقت کے ایک طاقتور ادارے کے سربراہ سے کہا اس (گالی دے کر) کو سمجھائیں۔ مشرف اُٹھ کر چلے گئے۔ سربراہ جو آج کل آسٹریلیا سدھار گئے ہیں۔ آ گے بڑھ کر جسٹس چودھری سے ملتے ہی دھیمی آواز ے سے بولے Bravo اور ساتھ ہی پوچھا کہ استعفیٰ تو نہیں دے رہے۔ جسٹس نے کہا نہیں تو پھر فوری انتظام کرنا پڑا۔ 2007ء کی اس ایمرجنسی میں ججز کو گرفتار کیا گیا اس میں PCO نافذ کر دیا گیا اب کی بار جسٹس کھوسہ، جسٹس عظمت سعید، جسٹس عمر عطا بندیال ، جسٹس ثابت نثار نے PCO کے تحت حلف اٹھایا۔ تحریک چلی جس کو کسی نے نہ روکا۔ وکلاء کو خود علم نہ تھا کہ وہ سیاسی طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ عدلیہ بحالی بینظیر بھٹو صاحبہ کی خواہش بھی تھی مگر ان کی شہادت کے بعد ان کے کفن کو ملنے والے ووٹوں سے پیپلزپارٹی نے وفاق میں حکومت بنا لی مشرف جو وردی کو اپنی کھال کہتے تھے۔ کھال اتروا دی گئی اور زرداری کی حکمت عملی سے مشرف فارغ ہوئے۔ زرداری کو علم تھا کہ جسٹس چودھری کی بحالی عدالت میں اپنے مخالف مورچہ فٹ کرنے کے بعد مترادف ہے۔ ایک سیکریٹڈ تحریک چلی نواز شریف گھر سے نکلے ۔ پروگرام تو لاہور تک ہی تھا مگر گوجرانوالہ تک کا سفر کرنا پڑ گیا قدرت نے اعتزاز احسن کو نواز شریف کے اس جلوس میں شامل کروا دیا۔ پھر Bravo کہنے والے کا وعدہ پورا کرنے کا لمحہ آ گیا۔ یوسف رضا گیلانی نے عدلیہ بحال کی مگر اس شرط کے ساتھ کے ڈوگر کی ریٹائرمٹ کے بعد جسٹس چودھری آئیں گے ۔ یہ وہ وعدہ تھا جو قدرت نے جسٹس چودھری سے کر رکھا تھا۔ اب جسٹس چودھری نے آتے ہی ایک کلہاڑا چلایا جو کہ خود PCO جج تھا اس بنچ میں شامل تھا جس نے مشرف کو تین سال اور آئین میں ترمیم کا اختیار دیا 106 سے زائد اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کو فارغ کر دیا جو PCO کے تحت نہیں تھے صرف اس دشمنی میں کہ ان کے Consulty جسٹس ڈوگر تھے۔ لہٰذا عدلیہ آزادی کی بجائے تاریخی قتل عام کیا گیا۔ جینوئن ججز PCO جج کے ہاتھوں تحقیر آمیز طریقے سے ختم کر دیئے گئے۔ اب آتے ہیں موجودہ اور حالیہ فیصلہ کی طرف آرٹیکل 6 کہ تحت جو سزا سنائی گئی اس میں ترمیم بھی ڈال گئی جس کا Retrospectiveکیا گیا جس کے تحت مشرف کا اقدام بھی آئین شکنی ہے جو غداری کے زمرے میں آتا ہے جس کی سزا موت ہے۔ پرویز مشرف کو یہ اقدام کرنے کا حق حاصل نہ تھا۔ اس فیصلے میں جسٹس سیٹھ اگر علامتی پیرا 66 کا ذکر نہ بھی لکھتے تو کچھ فرق نہیں تھا۔ بگٹی کی لاش قد سے چھوٹے صندوق میں ہیں۔ اگر مفتی محمود کے یحییٰ اور جنرل نیازی کی لاشوں کے بارے بیانات ہوں یا اصغر خان کا جناب بھٹو صاحب کے متعلق بیان ہو کہ کوہالہ کے پل پر لٹکا دیں گے ۔ خاندانی دشمنیوں میں لاشوں پر بھنگڑوں کی خبریں تو ہم متعدد بار پڑھ چکے مگر جج کا رویہ اپنے فیصلے میں ان جیسا نہیں ہوتا۔ مشرف کی لاش کا ذکر کر کے مدد کی گئی البتہ علامتی فیصلے میں بھی یہ پھانسی مشرف ہی نہیں ضیاء، یحییٰ ، ایوب کے لیے بھی ہے اور نہ جانے کیوں جناب بھٹو کو دی جانے والی پھانسی کی آواز لوٹ کر آئی ہے۔ قاتل تو ہر شہر پر قریہ میں مل جائے جو الزام بھٹو صاحب پر تھا وہ قتل کا تھا جس کے بارے میں سزا دینے والے بھی اقرار کر چکے کہ ہم پر دباؤ تھا تاہم فیصلہ کو کسی نے نہ مانا جناب بھٹو کی بے گناہی آج تک سرچڑھ کر بول رہی ہے لیکن افسوس کہ 40 سال یونیفارم میں رہنے والے آرمی چیف پر مقدمہ غداری بنا سزائے موت غداری پر ہو ئی۔ جس طرح بھٹو صاحب نے سپریم کورٹ میں کہا کہ مولوی مشتاق نے میرے لیے لکھا ہے کہ میں نام کا مسلمان ہوں ۔ یہ بات کافی ہے ثابت کرنے کے لیے کہ وہ Biasedہیں تو سپریم کورٹ کہاں کہ الفاظ حذف کر دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ بھی پیرا 66 حذف کر دے گی۔ مگر نہیں یہ علامتی پھانسی ہے اور یہ فیصلہ عدلیہ کی کسی دوسرے ادارے نہیں آپس کی لڑائی کا نتیجہ ہے نہ جانے کیوں جناب بھٹو مخالف عناصر اس پھانسی کو بھٹو کی پھانسی کا بدلہ اور نواز شریف مخالف اس نواز شریف مقدمات کے فیصلوں کا بدلہ اور حکومتی ارکان اس کو اپنی شکست کا پیشہ خیمہ کہتے ہیں۔بقول جناب آصف غفور فوج ادارہ ہی نہیں خاندان ہے۔ اس طرح سیاست میں بھی خاندان ہی حاکم ہیں اور بیورو کریسی بھی خاندان ہے۔ یہ سب منظم اور طاقتور خاندان ہیں صرف عوام کا خاندان ہے جو منقسم ہے اور اپنی طاقت سے بے خبر ہے لہٰذا خاندانی اعتبار سے فوج کے خاندان نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ 4 بار ، پیپلزپارٹی نے 4 بار نواز شریف نے تین بار حکومتیں کر لیں مگر تواتر سے 10، 11، 9 سال فوج کے خاندان کے حصہ میں ہیں مگر جسٹس سیٹھ بھی یاد رہیں گے ۔


ای پیپر