مشرف کی سزا اور وکٹری کے نشان
23 دسمبر 2019 2019-12-23

خصوصی عدالت نے مشرف کو سزائے موت کا حکم سنادیا یاد رہے کہ مشرف اس وقت علیل ہیں اور بالفرض کوئی ان کو یہ بری خبر سنا بھی دیں تو شائد ان پر اتنا برا اثر نہ ہو اور وجہ جس کی یہ ہے کہ وہ پہلے ہی سے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ مذکورہ فیصلے پر حکومت کا کیا رد عمل ہے وہ بعد کی باتیں ہیں لیکن تاریخ میں اس فیصلے کو ضرور سنہری الفاظ سے یاد کیا جائیگا۔ اس فیصلے سے ملک میں دو طرح کے لوگ سامنے آئے ایک وہ جو چاہتے ہیں کہ مشرف کو قانون کے عین مطابق سزا دی جائے اور دوسرے وہ لوگ جو مشرف کے گیت گاتے آئے ہیں اور یہ نہیں چاہتے کہ ان کے قائد کو سزا دی جائے۔

ایک بنیادی بات جو سب سے اہم ہے اور جو اس فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ تاثر اب زائل ہونا چاہئیے کہ پاک فوج اداروں کے اندر حد سے ذیادہ مداخلت کر رہی ہے۔ ایسا اگر ہوتا تو تین ججوں کو یہ فیصلہ سنانے سے روکنا کوئی مشکل کام نہ تھا۔ یہ بہرحال ایک بنیادی نقطہ ہے اور جس پر سوچ بچار کی انتہائی ضرورت ہے۔ ہمارا ایک بنیادی المیہ یہ بھی ہے کہ ہم سیاسی قائدین کی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ہمیشہ سے یہ کمزور دلیل دیتے آئے ہیں کہ اداروں پر اگر خفیہ ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی ہوتی تو شائد سیاستدان ملک کے لئے بہت کچھ کرجاتے اس لمحے ہم یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ سیاستدان اگر صرف اس بات پر متفق ہوجائیں کہ ہمارے انفرادی اختلافات ایک طرف لیکن قومی مسائل اور قومی مفاد کی خاطر ہم ایک ہی رہیں گے تو فوج کو مداخلت کی پھر جرأت تک نہ ہوتی۔ یہ امر واقع ہے کہ فوج نے ملک میں بے شک مارشل لاز لگائے لیکن کیا کسی نے یہ سوچنے کی زحمت کی ہے کہ کیوں لگائے اور بالفرض لگائے بھی تو ان کے خلاف سیاستدانوں نے مل کر کون سا لائحہ عمل تیار کیا۔

پہلا مارشل لاء لگا تو اس میں سیاستدان باقاعدہ شامل تھے پھر جب ضیاء الحق مارشل لاء لگا رہے تھے تو کیا

اصغر خان کے خطوط ہماری تاریخ کا حصہ نہیں۔ یہ بھی تو تاریخ ہی کا حصہ ہے کہ دوسرے الیکشن کے بعد جب حالات خراب ہوئے تو ایک منتخب وزیراعظم آرمی چیف کو اہم معاملات میں شامل کرکے فوج کو گھسیٹتے رہے۔ مشرف کا بھی ایسا ہی حال تھا اس نے جب مارشل لاء لگایا تو سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے انہیں خوش آمدید کہا اور پھر جب وہ صدر بن رہا تھا تو اس وقت کسی کو یاد تک نہ تھا کہ موصوف آئین شکنی کے مرتکب ہوئے ہیں۔

میرا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ وہ دودھ کے دھلے ہیں اور اس کو سزا نہیں ہونی چاہئیے بالکل سزا ملنی چاہئیے لیکن یہ بھی سوچنا بہرحال ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس وقت سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لئے اس کے تلوے چاٹتی تھیں اور موجودہ کابینہ میں شامل بہت سارے سیاستدان اس وقت بھی ملک کے سیاہ و سفید کے مالک تھے اور آج بھی ہیں۔ وار آن ٹیرر میں بے شک ہزاروں پاکستانی لقمہ اجل بن گئے لیکن اس نوحے کا ذکر اس وقت سیاستدانوں نے کیوں نہیں کیا۔اس فیصلے کے بعد یہ باور بھی تو کرانا چاہئیے کہ مشرف کے ساتھ ساتھ ان تمام لوگوں کا احتساب ہوگا جو آج تک ملک کے لئے عذاب بنے ہوئے ہیں۔ سیاستدان آج خوشیاں منارہے ہیں اور بار بار کہہ رہے ہیں کہ یہ مکافات عمل ہے لیکن حقیقت تو یہ بھی ہے کہ ان سے بھی بے شمار غلطیاں سرزد ہوئیں جن کی وجہ سے کبھی ملک دولخت ہوا تو کھبی عام لوگ موت کے دہانے پر پہنچ گئے۔ اچھا ہوا اب ملک کے کونے کونے میں خوشی کے شادیانے بجیں گے کہ ایک ایسے شخص کو سزائے موت ہوئی جو پہلے ہی مردہ پڑا ہے۔

مجھے یاد ہے وہ مداخلت جس کے تحت جنرل ضیاء الدین بٹ کو تیار کیا گیا تھا لیکن اس مداخلت کا کوئی ذکر تک نہیں کرتا۔ وہ تو اچھا ہوا پاک فوج کے درمیان چپقلش وقوع پذیر نہ ہوئی ورنہ اس وقت تو شائد فوج کو لڑانے کا بھی سوچا گیا تھا۔ مشرف تو غداری کے مرتکب ہوئے لیکن بے چارے سیاستدان کا بھی ٹرائل ہونا چاہئیے کہ یہ لوگ مارشل لاء تو نہیں لگاتے لیکن دیمک کی طرح ملک کو چاٹتے ضرور ہیں۔ رائو انوار کس کا بہادر بچہ تھا اور کہاں ہے وہ کیا اس کی سزائے موت پر بھی فتح کے شادیانے بجائے جائیں گے یا وہ اسی طرح دودھ کا دھلا ہی رہے گا۔فتح کے یہ شادیانے سب مل کر بجائیں گے بس ملک سے بدامنی ، کرپشن اور سیاستدانوں کی کرپشن پر بھی ذرا تفصیل سے بات شروع ہوجائے۔ میں اس فیصلے کے خلاف نہیں لیکن فیصلے کے بعد فوج کے خلاف وکٹری کے جو نشان بن رہے ہیں اس کے خلاف ہوں اور مجھے ہزار اندیشوں نے گھیرا ہوا ہے کہیں یہ سب کچھ کسی طوفان کا سبب نہ بنے۔

حکومت اس فیصلے کے خلاف اپیل کرتی ہے یا نہیں یہ الگ بات ہے لیکن اس دن کا شدت سے انتظار ہے جب عام آدمی کے ساتھ کئے گئے ایک ایک ظلم کا حساب لیا جائیگا۔چلیے فیصلے کو ایک طرف رکھ کر یہ بات تو واضح ہو ہی گئی کہ فوج اداروں میں مداخلت سے گریز کر رہی ہے۔پاک فوج داد کی مستحق ہے جو اپنے ایک سابق سپہ سالار کے خلاف اتنا بڑا فیصلہ سنا اور ججوں کے کام میں مداخلت تک نہیں کی۔ایسا فیصلہ اگر کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کے خلاف آتا تو شاہراہ دستور کا کیا حال ہوتا سب کو پتا ہے۔سوال یہ ہے حکومت اب اپنی ناکامیوں کو کس کے کھاتے میں ڈالے گی۔ مشرف کی سزائے موت پر عمل ہوتا ہے یا نہیں لیکن کم از کم ایک بات کنفرم ہے کہ فیصلہ سنانے والے ہر قسم کے دبائو سے آزاد تھے۔

کہانی کا لب لباب یہ ہے کہ ہم بدل رہے ہیں ، پاک فوج بھی بدل رہی ہے لیکن سیاستدان کبھی نہیں بدلیں گے۔ ان کی شعوری سطح اسی طرح منجمد رہے گی اور جس کی مثال یہ ہے کہ آج بھی یہ معمولی باتوں پر قومی مفاد کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔

وقت بدلنے کا موقع دے رہا ہے۔ کیوں نہ کھلے عام ناکامیوں کا اعتراف کیا جائے اور ایک نئے جذبے کے ساتھ کام شروع کیا جائے۔ورنہ اگر سیاست صرف یہی ہے جو آج تک ہم دیکھتے آئے ہیں تو ایسی سیاست سے فارغ بیٹھنا بہرحال بہتر ہے۔


ای پیپر