جشن ِاقبال کے تین روز
23 دسمبر 2019 2019-12-23

یوتھ امپاورمنٹ سوسائٹی (YES)نے ۰۲ دسمبر۹۱۰۲ء کو تین روزہ جشن ِ اقبال کا اہتما م کیا جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد جشن تھا جس میں علامہ اقبال فلسفے اور اس کے شعری جہان کو دریافت کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔یہ تین روزہ تقریبات ۲۲ دسمبر کو اپنے اختتام کو پہنچیں جس میں آخری سیشن مزاح نگاری اور مزاحیہ مشاعرے کا تھا جن کو ماڈریٹ کرنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی۔اس تین روزہ اقبال میلے میں کئی ایسے سیشنز تھے جنہیں بلاشبہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جیسا کہ نامور مذہبی اسکالر اور اقبال شناس جناب احمد جاوید کا مکالمہ جس میں خاص طور پر پوسٹ ماڈرن ازم اور اقبال پر خصوصی گفتگو کی گئی‘اس سیشن کی سب سے نمایاں خوبی یہ تھی کہ اس میں محترم اسکالر نے کئی ایسے اقبالی پہلوئوں کا جائزہ لیا جن کی پیروری امتِ مسلمہ کی مٹتی ہوئی تہذیب و ثقافت کونہ صرف بچا سکتی ہے بلکہ اسے تہذیبِ فرنگی کے مضر اثرات سے بھی محفوظ رکھ سکتی ہے۔یہ سیشن جس طرح سراہا گیا اور جس طرح عوام بڑھ چڑھ کر اس سیشن میں شریک ہوئے یہ الگ قابلِ داد امر ہے۔آفاق تعلیمی سسٹم کے چیف ایگزیکٹو برادر شاہد وارثی کی گفتگو اور پاکستانی تعلیمی نظام پر سیر حاصل لیکچر بھی اس جشن میں توجہ کا مرکز بنارہا کیونکہ یہ سچ ہے کہ ہمارا تعلیمی اسٹراکچر ناگفتہ بہ حالت میں ہے اور اسے جدید بنانے کی اشد ضرورت ہے‘اب یہاں جدید کا مطلب قطعاً یہ نہیں کہ ہم اسے ایسٹ سویلائزیشن سے ہی الگ کر دیں اور اسے جدید بنانے کے چکر میں ہم ایک ایسی نسل تیار کرنے لگیں جو مغربی نظام کی پروردہ ہو اور پھر ہم یہ نوحہ کرتے رہیں کہ ہماری نسل ‘ہماری لگتی ہی نہیں۔ ویسٹ نے جس انداز میں ہمارے تعلیمی نظام‘ہمارے معاشی و معاشرتی نظام کو متاثر کیا اس حوالے سے احمد جاوید نے بہت پیاری بات کی کہ ’’ہم مجموعی طور پر جیسے پسماندہ (ان کے الفاظ زیادہ سخت تھے)قوم بن چکے ہیں‘ایسی قوم کو کوئی ازم بہت جلد اپنی جانب کھینچ سکتا ہے‘‘۔یعنی ہمارے پاس جب کوئی اپنا نقطہ نظر نہیں ہوگا‘کوئی اپنا فلسفہ اور اپنی تھیوری نہیں ہوگی تو پھر ہم کبھی یورپ سے متاثر ہوں گے تو کبھی

جاپانیوں اور یونانیوں سے۔سو شاہد وارثی ایک پورا ایجوکیشن سسٹم ماڈریٹ کر رہے ہیں سو ایسے لوگ اگر وہ چاہیں تو یہ نظام یقینی طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔

اس جشن کا ایک نمایاں پہلو یہ رہا کہ اس میں مذہب‘کلچر‘معیشت سمیت کئی اہم ترین موضوعات پر مباحثے ہوئے‘ مکالمے ہوئے‘ تقاریر ہوئیں اور سامعین تین روز بھرپور ماحول میں رہے۔جیسا کہ ایک سیشن ’’ہم ایک امت ہیں‘‘ کے نام سے منسوب تھا جس میں مختلف مکتبہ فکر کے علماء کو شریک گفتگو کیا گیا جس میں مولانا طارق جمیل‘مولانا راغب نعیمی سمیت کئی اہم علمائے دین شامل تھے جنہوں نے اس موضوع پر بھرپور مکالمہ کیا کیونکہ یقین جانیں میرا ذاتی نقطہ نظر ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ فرقہ پرستی اور مذہبی انتشار پسندی ہے جو ملک کی جڑیں بہت تیزی سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ہمیں جہاں دیگر قومی اہم ایشوز کا سامنا ہے وہاں ہمیں مذہبی فرقہ واریت اور ادبی فرقہ وارہت سے بھی نمٹنا ہے۔ادبی فرقہ واریت اس لیے کہا کہ پاکستان میں جب بھی کوئی ادبی کانفرنس کا فیسٹیول ہوا ‘اس کے خلاف ایک محاذ کھڑا ہو گیا جیسا کہ جشنِ اقبال کے خلاف بھی ہوا مگر میں برادرعرفان بٹ اور ان کی ٹیم کے حوصلے کو داد دیتا ہوں کہ انھوں نے حوصلہ نہیں ہارا اور انتہائی ادبی بحران میں بھی جشنِ اقبال کو کامیاب کر کے دکھایا۔اس جشن میں ایک اہم سیشن بزنس ٹائیکون کا بھی تھا جس میں کئی اہم بزنس مین شریک ہوئے اور پاکستان کے معاشی نظام کی بہتری کے لیے کی جانے والی کوششوں پہ مکالمہ ہوا۔ڈاکٹر بابر نسیم آسی نے بھی فلسفہ اقبال پہ سیر حاصل گفتگو فرمائی ۔ محترم معین نظامی کی گفتگو بھی اس جشن میں توجہ کا مرکز بنی رہی ‘ نظامی صاحب ایک عالم آدمی ہیں اور ایک زمانہ ان کا معترف ہے سو ہم اس سیشن میں بہت محنت سے شریک ہوئے کیونکہ سردی اور بارش نے ہمارے راستے میں بہت روڑے اٹکائے مگر ہم چاروناچار پہنچ ہی گئے۔مزاح نگاری کا سیشن بھی بہت یادگار رہا‘جس میں محترم عطاالحق قاسمی‘گلِ نوخیز اختر‘یاسر پیرزادہ اور عائشہ عظیم شریک تھیں‘یہ سیشن مجھے ماڈریٹ کرنا کا کہا گیا۔اگرچہ میں قطعاً مزاح نگار نہیں مگر جب سے اس سیشن کی ایڈورٹائزمنٹ ہوئی‘مجھے دوستوں نے مزاح نگا ر سمجھ لیا‘یعنی میرے ساتھ مزاح نگار کا سابقہ لگانا شروع کر دیا جس کا میں انکار کر رہا ہوں کیونکہ مزاح نگاری ایک خداداد صلاحیت ہے جو مجھ میں بالکل نہیں ہے ۔مزاحیہ مشاعرہ بھی رکھا گیا جس کی صدارت معروف شاعر انورمسعود نے کی جبکہ مہمانوں میں کئی نامور مزاحیہ شاعر شریک تھے۔خیر یہ دونوں مزاحیہ سیشن انتہائی یادگار رہے کیونکہ کچھ بھی ہو‘مزاحیہ مشاعرہ بہرحال سنا جاتا ہے اور اس میں لوگوں کا جمِ غفیر دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔

قارئین مجموعی طور پر یہ تین روزہ میلے جسے علامہ اقبال ؒ کے نام سے منسوب کیا گیا تھا‘انتہائی کامیاب رہا۔ تین روز پاکستان بھر سے نوجوان ‘بڑے‘بوڑھے اور خواتین کی ایک کثیر تعداد اس میلے کا حصہ بنی رہی اور علامہ اقبالؒ کے شعری جہان پہ بھی گفتگو سنی اور پاکستان کے کئی اہم ایشوز پر مکالمہ سنا گیا۔میں برادر عرفان بٹ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے ایوانِ اقبال کے اشتراک سے ہر سال کی طرح جیسے اس جشن کا کامیاب بنایا اور علامہ اقبالؒ کا نوجوان نسل سے ٹوٹا تعلق بحال کرنے کی کوشش کی وہ یقینا قابلِ داد ہے کیونکہ نوجوان نسل کو جس انداز میں مغربی کلچر‘سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نے ہیپنٹائز کیا ہے اس سے اسلامی تہذیب اور کچر کا بے تحاشا نقصان ہوا جس کا ازالہ بہت مشکل سے ہوگا۔یہ نسل جسے اقبالؒ اپنا شاہین کہتے رہے یہ کتنی تیزی سے کرگس بنتی جا رہی ہے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے سو اس نسل کو اپنی مٹتی ہوئی اسلامی تہذیب سے جوڑنے کی اشد ضرورت ہے اور جشن ِ اقبال اس میں یقینا بنیادی کردار ادا کرے گا۔میں ان سے گزارش کروں گا کہ یہ نیک کام اسی تسلسل کے ساتھ جاری رکھیں کیونکہ اگر آپ جیسے بہادر لوگ یہ کام نہیں کریں گے تو یقین جانیں نوجوان نسل بھٹک جائے گی اور بھٹکی ہوئی نسل ہمیشہ تباہ و برباد ہو جاتی ہے اور ہماری نوجوان نسل تباہی کے دہانے پہ ہے جسے فلسفہ اقبالؒ ہی بچا سکتا ہے۔


ای پیپر