اس رات کی صبح تلاش کرنی ہے
23 دسمبر 2019 2019-12-23

ٹرک سے بندوق برداراترے اورگاؤں پر قبضہ کرلیا۔سردارنے اعلان کیا کہ اب وہ گاؤں کاسربراہ ہے۔سرپنچ اورپنچائت کے کچھ ارکان نے اسے سردار ماننے سے انکار کر دیا جنہیں گھروں میں نظر بند کر دیا گیا۔

پنچائت کے کچھ ارکان ڈرکرساتھ مل گئے اور سردارکے حق میں فیصلے دینے لگے۔گاؤں کے کچھ سرکردہ افراد نے بھی عہدوں کے لالچ میں اسے سردار مان لیا اور نظام چلانے میں اس کے مدد گاربن گئے۔ کوئی چارہ نہ تھا اس لئے گاؤں کے منتظم، منشی، چوکیدار اورکامے بھی سردارکے مددگار بن گئے۔ ان حالات میں عوام نے بھی سردار کو ’’تسلیم‘‘ کر لیا اور پہلے کی طرح ٹیکس دینے لگے۔

کئی سال نظام چلتا رہا۔ پھر وقت بدلا اور سردارکی سرداری چلی گئی۔

پنچائت کے ارکان بھی بدل چکے تھے۔گاؤں پر قبضے کا مقدمہ چلا اور سابق سردار کو سزائے موت سنادی گئی لیکن اس کے حامیوں کا اصرار تھا کہ سابق سردار کو سزادینی ہے تو پورے گاؤں کو پھانسی دی جائے کیونکہ سب کہیں نہ کہیں سردار کے مددگار رہے ہیں۔

٭٭٭٭

ایک آتا ہے اور کہتا ہے پاکستانیو فلاں غدار ہے، کمپین چلاؤ۔دوسرا آتا ہے اور کہتا ہے پاکستانیو فلاں ننگ ملت ہے میرا ساتھ دو۔تیسرا آتا ہے اور کہتا ہے پاکستانیو فلاں مسئلے پہ دھرنا دینا ہے، میرا ساتھ دو۔چوتھا آتا ہے اور کہتا ہے پاکستانیو آئین کو بچانے میں ہمارا ساتھ دو۔پانچواں آتا ہے اور کہتا ہے پاکستانیو دین بچانے کے لیے دھرنا دینا ہے، ہمارا ساتھ دو ۔چھٹا آتا ہے اور کہتا ہے پاکستانیو نیا صوبہ بنانا ہے، ہمارا ساتھ دو۔ساتواں آتا ہے اور کہتا ہے پاکستانیو کرپشن بہت ہے، میرا ساتھ دو۔ پاکستانیوں کا ساتھ کون دے گا؟ہمیں بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں۔ہمیں انسان ہونے کی عزت بھی حاصل نہیں۔ ہمیں اتنی میسر نہیں جتنی تم پھینک دیتے ہو۔ہم کیوں تمہاراساتھ دیں؟ کیا تم ہمارے ساتھ ہو؟تم اپنی لڑائی خودلڑو، جیسے ہم اپنی زندگی کی لڑائی خود لڑ رہے ہیں۔

موت ایک زندہ حقیقت ہے اس سے روگردانی تو کی جا سکتی ہے مگر اسے شکست اور دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔ تاریخ کا عمیق کاور باریک بین مطالعہ کیا جائے تو کوئی قاری بھی اس بات سے مبرا نہیں ہو سکتا کہ اقتدار کے لالچ میں بہت سے حکمرانوں نے اپنی جانیں گنوائیں اور بہت کو دار پر جھولنا پڑا کو مگر ان واقعات سے آج تک نہ تو کسی حاکم اور نہ ہی اقتدار کی ہوس رکھنے والوں نے سیکھا بلکہ ایسی فتنہ آور فصلیں تیار ہوتی رہیں جو سر کٹاتی رہیں۔ بغض ، حسد، لالچ، ہوس اور سرداری کے اس نشے نے قیام پاکستان کے دو سال بعد ہی یہ سلسلہ ملک عزیز میں جاری کر دیا اور آج تک قائم ہے۔ یہ قوم ایسی پجاری قوم نکلی کہ اپنے ہاتھوں سے حکمرانی آزر کی طرح تیار کرتی ہے۔ توحید سے بالاتر ہو کر اس حکومتی بت کو پوجتی ہے پھر اچانک خیال کرتی کہ ہم تو شرک کے مرتکب ہو رہے ہیں اور اس بت کو اپنے ہاتھوں سے پاش پاش کرنے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ لیاقت علی خان سے لے کر محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ اس قوم نے جو سلوک روا رکھا اس کی مثال تاریخ کے بدترین ابواب میں بھی نہیں ملتی۔ ایوب خان، یحییٰ خان، ذوالفتار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق، بینظیر بھٹوقوم میں کوئی ایسا حکمران نہ تھا جو بڑی عزت اور احترام سے سیاست سے سبکدوش ہوا ہو بلکہ آخری تین احباب بھی بے اجل لقمہ اجل بن گئے۔ پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا سنائی گئی اس بیچ میں بھی ماضی کی طرح تین جج ہی تھے ان ججوں نے جسٹس مولوی مشتاق حسین کا جنازہ بھی دیکھا ہو گا قصہ اجل تو سنا ہو گا مگر افسوس کہ کوئی سبق نہ سیکھا۔ مشرف کو پھانسی دینے میں کوئی اعتراض نہیں مگر اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے والے، عوام سے کھلواڑ کرنے والے، غریبوں کا لہو چوسنے والے ، رات سے دن چڑھنے تک امیر ہونے والے، منی لانڈرنگ کرنے والے، پانامہ کیس کے ملازم،غریب لوگوں کی عزتیں تار تار کرنے والے بدمعاش جو کھلے عام اور سر عام دندنا رہے ہیں ان کو بھی تو سزا سے ہمکنار کیا جائے۔ ان کو بھی توانصاف کے ترازو میں تولا جائے؟ ان کی لاشوں کو ڈی چوک نہ ہی سہی کسی ڈی ایف چوک میں میں چند گھنٹے ہی لٹکایا جائے۔ احتساب تو شروع ہی اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ اگر ہر وزیر اور مشیر اپنی ذات کا احتساب کرے تو بات دار اور تہ تیغ تک نہیں پہنچتی مگر جہاں تو صورت حال ہی عوام دشمن اور غریب دشمن ہے۔ ان کی پالیسیاں (جو نام نہاد ہیں) عوام کش ہیں۔ ان کے تو ادارے ہی برائے نام رہ گئے ہیں۔ شجر سے پیوستگی اور امید بہار کا مژدہ سنانے والے بھی نظروں سے اوجھل ہو گئے ہیں۔ بت کدے بڑھ رہے ہیں اور حکم اذاں دینے والا کوئی نہیں ہے۔نم موجود ہے اور کشت ویراں پڑی ہوئی ہے۔ ہماری کم ہمتی، سستی، کوتاہی، بے علمی، جہالت اور بے وقوفی اس سردار کی کہانی سے ملتی ہے۔ میری عوام! میرے پاکستانیو! میرے عزیزو! میرے قارئین بہت ہو چکا۔ اب بہت ہو چکا۔ ہم نے پون صدی ضائع کر دی ہے۔ ہم جدیدنسل نو ضائع کر رہے ہیں؟ …ہم گھاٹ کے رہے ہیں نہ گھر کے… ہم نے بانس رکھا ہے نہ بانسری بحائی ہے… ہم اندھیروں میں جھٹک رہے ہیں… ہم زمانہ جہالت سے بھی آگے نکل چکے ہیں… آئیے سوچیے… غور و فکر کیجیے… اپنے آپ کو جگائیے۔ اپنی کوتاہیوں پر نظر ڈالتے۔ اپنے گریبانوں کو چاک چاک کیجیے۔ قیس، لیلیٰ، محمل ہمارے پاس ہے۔ صحرا اپنا ہے اور پانی کی بہتات بھی …بس عمل کی ضرورت ہے… نیک نیتی اور خوف خدا کی ضرورت ہے} آخرت پر یقین محکم کی ضرورت ہے۔بھروسے کی ضرورت ہے اور ہمیں بس اندھیری رات کی صبح تلاش کرنی ہے… بس ہمیں اس رات کی صبح تلاش کرنی ہے۔


ای پیپر