بجٹ در بجٹ
23 دسمبر 2018 2018-12-23

چھو ٹے بچے جب حسا ب کا ذ راٹیڑھا سا سوا ل سلیٹ پے حل کر نے بیٹھتے تو ا لجھ جا نے پہ سب کچھ مٹا کر نئے سرے سے حل نکا لنے کی کو شش شر و ع کر دیتے۔ کچھ ایسا ہی ان دنو ں و طنِ عز یز کے سا تھ ہو رہا ہے۔وزیر خزانہ اسد عمر نے بیا ن جا ری کیا ہے کہ حکومت اگلے ماہ ایک اور ضمنی بجٹ لانے والی ہے۔ گو یا سب کچھ مٹا کر نئے سرے سے چار ماہ کے دوران یہ دوسرا منی بجٹ ہوگا مالی سال 2018-19ء کا تیسرا فنانس بل۔ ستمبر کے وسط میں حکومت نے جو ضمنی بجٹ پیش کیا تھا اس میں 183 ارب روپے کی اضافی ٹیکس آمدن کا بندوبست کیا گیا اور ترقیاتی اخراجات میں 350 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی تھی۔ حالیہ ملکی تاریخ میں کسی مالی سال کے تخمینوں میں اس بڑے پیمانے پر ردّو بدل کی مثال نہیں ملتی۔ علا وہ ا زیں وزیر خزانہ ٹیرف اور ٹیکس بڑھانے کا عندیہ دے چکے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ برآمدی صنعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے ٹیکس کم بھی کیے جاسکتے ہیں۔ برآمدی صنعت کے لیے موجودہ حکومت کی ترجیحات قابلِ تو جہ ہیں۔ اس سلسلے میں لازمی طور پر ایسے فیصلے کیے جائیں جن سے ملکی برآمدات میں اضافہ ہو۔ لیکن یہ اقدامات حقیقی طور پر نظر آنے چاہئیں۔ خواہ ٹیکسوں میں کٹوتی ہو یا بجلی، گیس اور دیگر صنعتی ضروریات کی ترجیحی بنیاد پر فراہمی۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے عملی سے زیادہ زبانی جمع خرچ سے کام چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کی وضاحت اس طرح ہوگی کہ ہماری برآمدی صنعت میں ٹیکسٹائل، چاول اور پھل بنیادی طور پر زرعی پیداوار ہیں۔ یعنی ملکی برآمدات بڑھانے کی خاطر ہمیں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اس پیداواری صنعت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مگر زراعت کے شعبے کو خصوصی طور پر توجہ کا مرکز نہیں بنایا گیا اور اس شعبے میں عملی اقدامات سے زیادہ دعووں، وعدوں اور نعروں سے کام چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کپاس کا زیر کاشت رقبہ کم ہوگیا ہے اور پیداوار بھی۔ اس کے لیے ہمیں رواں سال اندازاً دو ارب ڈالر کی کپاس درآمد کرنا پڑے گی۔ دوسری بڑی برآمدی صنعت چاول، معیار اور مقدار کے ہاتھوں مار کھا رہا ہے کیونکہ حکومت کو چاول کی ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ سے کوئی دلچسپی نہیں۔ یہی حال پھلوں کی پیداوار اور برآمدات کا ہے۔ برآمدات اور ملکی پیداوار کو فروغ دینا بے شک بہترین اقدام ہے، اور اس کی خاطر درآمدی اشیاء پر حکومت ٹیکس بڑھانے میں حق بجانب ہے مگر خیال رہے کہ ٹیکس میں اضافہ ان اشیائے ’’تعیش‘‘ ہی پر ہو جو پاکستان میں پیدا ہونے کے باوجود باہر سے منگوائی جارہی ہیں۔ مگر یہ بات اہم ہے کہ اگر مقامی پیداوار کا معیار بہتر اور قابل بھروسہ ہو تو لوگ باہر کی اشیاء کو ویسے ہی خریدنا چھوڑ دیں۔ اس لیے حکومت کو ’ساختہ پاکستان‘ اشیاء کو فروغ دینا منظور ہے تو یہ کام صرف درآمدی اشیاء پر ٹیکس بڑھانے سے نہیں ہوگا،ملکی معیار کی جانب کچھ توجہ بھی درکار ہے۔ مگر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ملکی صنعتی پیداوار کی قیمت بڑھانے اور عالمی منڈی میں اس کی مسابقتی قوت کم کرنے کا ایک سبب ہے۔ ضمنی بجٹ کی خبر کے ساتھ حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں یکمشت ایک روپیہ 27 پیسے فی یونٹ اضافہ کرکے عوام کے خدشات کو بڑھاوا دیا ہے۔ حکومت کے چار ماہ کے عرصے کا جائزہ لیں تو یوں لگتا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا غم جونہی کچھ کم ہونے لگتا ہے، حکومت ایک اور دھماکہ کردیتی ہے۔ ان چار ماہ کے دوران کوئی پندرہواڑہ ایسا نہیں گیا جس میں عام آدمی کے استعمال کی لازمی اشیاء کی قیمتوں میں ردّ و بدل نہ ہوا ہو۔ اس صورت حال سے سماج میں بے چینی تو عام ہے مگر کم آمدنی والا طبقہ یقیناًزیادہ متاثر ہورہا ہے۔ یہ صورت حال سماجی بدنظمی کا تاثر پیدا کرتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قیمتوں میں توازن برقرار رہے، خواہ یہ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہی کیوں نہ ہوں۔

ڈالر مہنگا، گیس مہنگی، بجلی مہنگی، پٹرول مہنگا اور اب آ ٹا بھی مہنگا ہو چکا ہے۔ اب نیپرا نے بجلی کے بلوں میں 1 روپے 27 پیسے فی یونٹ بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ادھر لاہور میں آٹا چکی مالکان نے ایک کلو چکی آٹے کی قیمت میں 2 روپے اضافہ کردیا جس سے اب اس کا ریٹ 50 روپے سے بڑھ کر 52 روپے ہوگیا۔ تندوری روٹی کی قیمت بڑھنے کا بھی امکان ہے جس سے عام آدمی بری طرح متاثر ہوگا۔ سو کلو چینی کی بوری کی قیمت میں دو سو روپے کا اضافہ ہوگیا۔ اس طرح شوگر ملز مالکان کی چاندی ہوگئی ہے۔ وہ گنے کے کاشتکاروں کا بھی استحصال کررہے ہیں اور کنزیومرز کا بھی اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ریٹیلرز بھی موج میں ہیں ان کا بھی کچھ نہیں بگڑ رہا۔ سٹیٹ بینک کے مطابق بدھ کے روز انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 1 پیسے کے اضافے سے 138 روپے 94 پیسے ہوگئی۔ اس کا اثر بھی درآمدی اشیاء کی قیمت پر پڑے گا اور وہ مہنگی ہوجائیں گی۔ جب سے موجودہ حکومت اقتدار میں آئی ہے عوام کو آئے دن کسی نہ کسی جنس کی قیمت میں اضافے ہی کی خبر ملتی ہے۔ بجلی مہنگی کرنے کے حوالے سے نیپرا نے نوٹیفیکیشن کے لیے فیصلہ وفاقی حکومت کو ارسال کردیا۔ اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بجلی تمام تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے لیے 1 روپے 27 پیسے فی یونٹ کا یکساں ٹیرف منظور کرلیا گیا ہے۔ صارفین سے یکساں ٹیرف ایک سال کے لیے وصول کیا جائے گا۔ نوٹیفیکیشن کے بعد ایک سال میں ٹیرف ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ نیپرا نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ یکساں ٹیرف میں ٹارگٹڈ سبسڈی بھی شامل ہے۔ وفاقی حکومت صارفین کے حقوق کا خیال رکھے۔ اطلاعات کے مطابق نیپرا نے اپنے اس فیصلے سے بجلی صارفین پر 226 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔ اب حکومت اس بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے، یہ دیکھنے کی بات ہے۔

ایک طرف حکومت بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے پٹرول، بجلی اور گیس کو مہنگا کررہی ہے تو دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ قوم کو یہ مژدہ بھی سنا رہے ہیں کہ نئے اقدامات کی بدولت کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے بحران پر قابو پالیا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے مذاکرات پر قوم جلد خوشخبری سنے گی۔ مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ حکومت کا رواں سال یہ تیسرا بجٹ ہوگا۔ پہلے بجٹ سال میں ایک بار پیش ہوا تھا اور پورے ملک کے معاشی نظام کو چلانے کے لیے طریقہ کار وضع کردیا جاتا تھا لیکن اب لگتا ہے حکومت نے مالیاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہر چندماہ بعد نیا بجٹ پیش کرنے کا وطیرہ اپنا لیا ہے۔ غالباً اس کا یہ خیال ہے کہ جس طرح کچھ عرصے بعد کرکٹ کے میچ کروا کر کھیل کو فروغ دیا جاتا ہے بالکل اسی طرح ہر چند ماہ بعد نیا بجٹ پیش کرکے وہ ملک کے مالیاتی نظام میں تبدیلی لے آئے گی۔ حکومت کے معاشی بزرجمہروں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ یہ ملک ہے کوئی کھیل کا میدان نہیں۔ حکومت چلانے کے لیے فہم و فراست اور تجربہ کار ماہرین پر مشتمل ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن یہ محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ان دونوں نعمتوں سے محروم ہے۔ ایک طرف ملک بھر میں تجاوزات ہٹانے کے نام پر ایک کروڑ لوگوں کو بے روزگار اور 50 لاکھ کو بے گھر کرنے کا ٹاسک پورا کیا جارہا ہے تو دوسری جانب مہنگائی میں تیز ترین اضافے نے عام آدمی کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔ حکمران بار بار یہ اعتراف کررہے ہیں کہ ملک سے ہنڈی کے ذریعے بڑے پیمانے پر سرمایہ بیرون ملک منتقل ہورہا ہے۔ عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہین کہ اگر حکومت ہی بے بسی کا اظہار کر رہی ہے تو پھر فلائٹ آف کیپیٹل کو کون روکے گا؟ تعلیم، صحت اور دیگر شعبو کی حالت بھی بدستور دگرگوں ہے اور ابھی تک ان میں تبدیلی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف آج بھی حکومت کی جانب سے سہولتیں نہ ملنے پر شکوہ سنج ہیں۔ شہروں اور دیہاتوں میں سڑکوں کی حالت بھی بہتر نہیں۔ ناقص سیوریج کا نظام اور پینے کا غیر معیاری پانی آج بھی عوا م کی زندگی کا بدستور حصہ ہے۔ ابھی تک حکومت نے کوئی ایسی پالیسی یا کسی سکیم کا اعلان نہیں کیا جس سے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں۔ تجارتی، صنعتی اور زرعی شعبہ بھی پہلے کی طرح مشکلات سے دوچار ہے۔ برآمدات میں اضافے اور درآمدات میں کمی کے بھی کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ بجٹ پہ بجٹ لا ئے چلا جا نا کبھی مسا ئل کا حل ثا بت نہیں ہو سکتا۔


ای پیپر