سوال تو اٹھیں گے
23 دسمبر 2018 2018-12-23

ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر سوال تو اٹھیں گے جمہوریت کا یہی تو خاصہ ہے جسے چند سال قبل جمہوریت کا حسن کہا جاتا تھا حالانکہ جمہوریت کبھی اتنی حسین نہیں رہی جمہوریت نوازوں نے اس کا چہرہ داغ داغ کیے رکھا تاہم قابل برداشت رویہ ہمیشہ جمہوریت کا خاصہ کہلایا سوال جواب، عمل رد عمل، الزامات جوابی الزامات، اعتراضات، وضاحتیں، تردیدیں آج کے دور میں جگت بازی، بدنام زمانہ محاورے، ضرب الامثال، گالی اور جواب میں دس گالیوں کی دھمکیاں، ایسی جیالی جمہوریت میں سوال تو اٹھیں گے، سوال کیے جا رہے ہیں سوشل میڈیا سوشل کہاں رہا سوشیالوجی چھو کے نہیں گزری، تہذیب و مروت رخصت ہوگئی خرافات زیادہ، ذہانت پر مبنی سوالات کم، سوالات میں بھی اپنوں اور غیروں کی تمیز، اپنوں کی ساری باتیں الہامی، اپوزیشن کے سارے دلائل شیطانی، حکومتی ترجمان تردیدوں میں مصروف، لیکن اپنے وضع کردہ ’’صراط مستقیم‘‘ پر چلے جا رہے ہیں یہ صراط مستقیم انہیں اور ملک کو کہاں لے جائے گا یہ بھی سوالیہ نشان ہے،بسنت،شراب، سود، احتساب کم انتقام زیادہ اور اس پر مدینہ کی ریاست کے خدوخال پر غور، چہ خوب، مدینہ کی ریاست نے ان تمام چیزوں کا خاتمہ کیا البتہ یثرب میں ساری برائیاں موجود تھیں ملک کو یثرب بنانے چلے ہیں یا مدینہ، پہلے فیصلہ کرلیا جائے ورنہ سوال اٹھیں گے تو دکھ ہوگا، اساتذہ کو ہتھکڑی لگانے کی ایسی بری روایت پڑی کہ سرگودھا کے پروفیسر میاں جاوید کی ہتھکڑی لگی لاش کی تصویر وائرل ہوگئی، سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ، لوگوں نے کہا کہ تصویر پوری قوم کے ضمیر کا بوجھ بن گئی، قوم کا سر شرم سے جھک گیا مہذب معاشرے کی قدریں قتل ہونے لگیں، وہ دور کہاں سے لائیں جس میں استاد کا احترام بچوں اور بڑوں کی تربیت کا حصہ ہوتاتھا اب تو حالت یہ ہے کہ استاد پر الزام لگا الزام لگتے ہی ملزم سے مجرم بن گیا ہارٹ اٹیک ہوا جان سے گیا مگر ہتھکڑی نہ کھل سکی، ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیوں ہو رہا ہے؟ سوچا جائے کہ جو لوگ ایسا کر رہے ہیں یا کرنے کے احکامات دیتے ہیں انہیں کسی استاد نے ایسا کرنے سے منع نہیں کیا، احترام، مروت، اخلاقی قدریں مہذب معاشرے کا حسن ہوتی ہیں اس پر سوچا جانا چاہیے، حکومت قائم ہوئے چار ماہ ہوگئے مگر گرما گرمی ختم ہونے میں نہیں آرہی، ’’اسے کہنا دسمبر آگیا ہے۔‘‘ ٹھٹھرتا موسم، برفباری موسم کی شدت نام پوچھ رہی ہے مگر سیاسی ماحول گرم ہوتا جا رہا ہے، دونوں بڑی پارٹیوں کے سربراہ احتساب کے شکنجے میں جکڑے پیشیاں بھگت رہے ہیں، نواز شریف کے بقول مفروضوں پر مبنی ریفرنسوں کی سماعت کے دوران کم و بیش 185 پیشیاں بھگت چکا ہوں، دو ریفرنسوں کا فیصلہ آج یعنی 24 دسمبر کو سنایا جائے گا، سوال ہو رہے ہیں جواب آرہے ہیں، جیل ہوگی؟ وزیر مشیر سبھی اس پر متفق ہیں لیکن سوال پوچھا جا رہا ہے کہ شیخ رشید سمیت درجہ دوم کے مشیروں کو کیسے پتا چل گیا کہ جیل ہوگی، کہیں فیصلہ ہوا ہے یا فیصلہ لیک ہوگیا ہے، زبانیں قابو میں نہیں ہیں حالانکہ ’’ہمیشہ جیت کا دعویٰ تو سچا ہو نہیں ہوسکتا‘‘ ریفرنسوں کی سماعت کے دوران مدلل بحث ہوئی ہے فاضل جج کے ریمارکس بھی غور طلب رہے اس پر بھی اگر جیل مقدر ہے تو ایسا ہی سہی اور کتنے ریفرنس ہیں ؟کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ پچیس تیس ریفرنس پائپ لائن سے نکالے جائیں اور ایک ساتھ ساٹھ ستر سال کی سزا سنا دی جائے، دہرا فائدہ ہوگا، اخراجات میں کمی آئے گی، ن لیگ ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی ، اے بسا آرزو،کہنے لگے نواز شریف کی گرفتاری پر کوئی مظاہرہ نہیں ہوگا، سچ تو ہے ڈیڑھ کروڑ ووٹ لینے والے لیڈر کی گرفتاری پر 20 سے 25 آدمیوں کی نعرے بازی، ڈیڑھ کروڑ ووٹر کہاں سے آتے تھے ؟کہاں گئے؟ سوال اہم ہے اس پر احسن اقبال کو غور کرنا چاہیے اسی گرما گرمی میں آصف علی زرداری بھی سیاسی شہید ہوتے ہوتے رہ گئے، 21 دسمبر کو بینکنگ کورٹ میں پیشی تھی نقارے بج اٹھے، ڈھول پیٹے جانے لگے کہ پیشی پر ضمانت منسوخ ہوگئی تو گرفتار کرلیے جائیں گے، واقفان حال نے البتہ پہلے سے بتا دیا کہ اوپر بیٹھے ’’عالی دماغ‘‘ چاروں کھونٹ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے، نواز شریف کے پاس صرف ووٹر ہیں، مظاہرہ کرنے والے اور جلاؤ گھیراؤ کے ماہرین نہیں ہیں ان کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے پاس ووٹر کم ہوئے ہیں لیکن مظاہرین اور ہنگامہ آرائی کرنے والے وافر تعداد میں موجود ہیں ،27 دسمبر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی برسی، 5 جنوری ذوالفقار علی بھٹو مرحوم و مغفور کی سالگرہ ،دونوں مواقع پر گڑھی خدا بخش میں اجتماعات ہوں گے، اگر ان اجتماعات میں نہ کھپے کا نعرہ لگ گیا تو صورتحال بے قابو ہوجائے گی، لوگ زرداری کی گرفتاری کی آڑ میں محترمہ کی شہادت اور ان کے والد محترم کی پھانسی کا غصہ اتاریں گے اس لیے دونوں مواقع بخیر و عافیت گزر جانے چاہییں،5 جنوری کے بعد کچھ بھی ہوجائے اس پر رد عمل اتنا شدید نہیں ہوگا، ’’نجانے کیسے خبر ہوگئی زمانے کو‘‘ آصف زرداری 21 دسمبر کو کورٹ میں پیش ہوئے تو انہیں خود بھی یقین تھا کہ اس بار ضمانت میں توسیع نہیں ہوگی سارے چینل گرفتاری کی خبریں دے رہے تھے، زرداری ستے ہوئے چہرے کے ساتھ کورٹ پہنچ گئے حیرت انگیز طور پر 7 جنوری تک ضمانت میں توسیع ہوگئی، آرام سکون سے برسی اور سالگرہ منائیں سالگرہ کے دو دن بعد کورٹ آئیں گے تو دیکھا جائے گا، یقین ہوگیا کہ اوپر عالی دماغ بیٹھے ہیں کم از کم گزشتہ چار ماہ کے دوران جو کچھ ہو رہا ہے اس سے تو یہی ثابت ہوا ہے کہ روز مرہ معاملات اور طویل المیعاد اقدامات انتہائی سوچ بچار اور عواقب و نتائج کو مد نظر رکھتے ہوئے کیے جارہے ہیں، پتا نہیں ’’عالی دماغ ‘‘حکومتی پارٹی میں ہیں یا بیرونی مدد مل رہی ہے بیرونی امداد بھی تو بیرون مدد سے ہی آرہی ہے جو بھی ہے اقدامات پنے تلے اور بالفاظ دگر موقع محل کی مناسبت سے حکومت کے مفاد میں ہیں، ایم کیو ایم کے بعد تحریک لبیک کا حشر نشر، پہلے کارکن پکڑے پھر لیڈر، مظاہرے کون کرے گا، اب دونوں بڑی پارٹیوں کے حصے بخرے کرنے کے منصوبے بن رہے ہیں، پہلے کس سے نمٹا جائے، شاید ن لیگ کی باری ہے کیونکہ پنجاب کے حوالے سے یہی بھاری ہے، پیپلزپارٹی سندھ تک سمٹ کر رہ گئی اس سے نمٹ لیا جائے گا، زرداری پر افتاد پڑی تو پی پی ’’بڑے بھائی‘‘ یاد آگئے خورشید شاہ نے امکان ظاہر کردیا کہ زرداری اور نواز شریف مل سکتے ہیں مگر حکومت کو یقین ہے کہ دونوں ندی کے دو کنارے بھلا کیسے ملیں گے دونوں میں تحفظات، زردای گیارہ سالہ جیل نہیں بھلا پاتے کہتے ہیں نواز شریف دور کے بنائے مقدمات بھگت رہا ہوں ہاں 90ء کی دہائی کی پٹخنیوں کے بعد میثاق جمہوریت کیا تھا اب پٹخنیوں اور دھکوں کے بعد شاید مل جائیں تاہم اس وقت تک حکومت اپنی میعاد پوری کرچکی ہوگی۔ گرمئ محفل کم ہونے میں نہیں آرہی سب کے منہ بگڑے ہوئے، لہجوں میں تناؤ، تلخ بیانات اور اس پر شاباشی کے ریمارکس، غالب نے کہا تھا۔

تلخی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر

کی جس نے بات اس نے شکایت ضرور کی

70 سال کے سارے پرانے لیڈر کٹہرے میں کھڑے ہیں، پرانے پاکستان کے ملبہ میں دبے اکھڑی اکھڑی سانسیں لے رہے ہیں، ایسے میں نیب نئے ساز و سامان اور جے آئی ٹی کی نئی مشینری کے ساتھ لیڈروں کی رگوں سے خون نچوڑ رہا ہے، جسے پکڑا وہی مریض، سب کے بلڈ پریشر ہائی، جیلوں کے اندر اور باہر چیک اپ کی ضرورت بڑھ گئی جیلوں کے اندر جدید ترین اسپتال تعمیر کیے جانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے، ان لیڈروں میں صرف شیخ رشید واحد رہنما ہیں جنہیں خوراک میں کمی کے سوا کوئی ڈر خوف نہیں، وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی بھوک لگی ہے کا واویلا، وزیر اعظم نے ترت جواب دیا آپ کو ڈائٹنگ کی ضرورت ہے وزیر بننے کا کیا فائدہ کہ فاقے کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے، ان کا کہنا ہے کہ اگلے سال یعنی مارچ 2019ء تک جھاڑو پھر جائے گی’’ گلیاں ہو جان سجنیاں وچ مرزا یار پھرے‘‘ سارے دشمن ختم ہوگئے تو حکومت کرنے کا کیا مزہ آئے گا، پرانے لوگ مرکھپ گئے کہا کرتے تھے دشمن کوئی نہ بچے تو کرائے پر لے آؤ، یہی جمہوریت کا حسن ہے خاطر جمع رکھیں کرائے کے بارہ چودہ آدمی موجود ہیں ان ہی کے دم قدم سے گرمئ محفل ہے، یاد رکھیے جب تک سب ایک پیج پر ہیں سرد موسم میں گرم سیاسی ماحول برقرار رہے گا سورج ڈھلا تو سوال اٹھنے لگیں گے کہ

ہمیشہ جیت کا دعویٰ تو سچا ہو نہیں سکتا

انا کا جو پجاری ہے ہمیشہ ہار جاتا ہے


ای پیپر