آرٹیکل 19
23 دسمبر 2018 2018-12-23

ہمیں پریشانی لاحق ہے کہ مہنگائی بڑھ رہی ہے ، لوگوں کا میعار زندگی گررہا ہے ، ڈالر کی اڑان اونچی ہے ، روپیہ اپنی قدر کھو رہاہے ۔ احتساب کی آوازیں لگ رہی ہیں ،گورنر ہاوس کی دیواریں گرائی جارہی ہیں ، وزیر اعظم ہاوس کو یونیورسٹی بنایا جا رہا ہے ، تجاوزات کے خلاف آپریشن کی آڑ میں لوگ رُل گئے ہیں ، جو سکون میں تھے وہ بے سکون ہیں اور جنہیں حکومت میں رہ کے بھی چین نہیں ملتا تھا ، اب اپنے گھروں میں قید ہیں تو بھی انہیں چین نہیں ۔کسی کو شراب کی فروخت کے خلاف بل لانا ہے تو کسی کو اس بل کے خلاف کھڑے ہوجانا ہے ، کوئی بسنت کو ثقافتی تہوار کے نام پر بحال کرانا چاہتا ہے تو کوئی مذہبی تہوار کی دلیل دے کر تاحیات پابندی لگوانا چاہتا ہے۔کسی کو انتخابات قبل از وقت ہوتے دکھائی دیتا ہے تو کسی کو مارچ سے پہلے جھاڑو پھرتے دکھائی دیتا ہے ، کسی کا بنیادی مسئلہ ڈیم ہے تو کوئی کالاباغ ڈیم کو اپنی سرزمین پر حملہ قراردیتا ہے، کوئی آزادی ء اظہار رائے کا داعی ہے تو کوئی ہر بات پہ طبع آزمائی کرنے والوں پہ کنٹرول رکھنے کا شیدائی ہے ۔۔ ملک جیسا بھی ہے ، سیاست دان جیسی بھی سیاست کر رہے ہیں ، ملک کل بھی چل رہا تھا ، ملک آج بھی چل رہا ہے ،سمت کا تعین کل بھی ہورہا تھا ، سمت کا تعین آج بھی ہورہا ہے، مسائل کا حل کل بھی ڈھونڈا جا رہا تھا ، مسائل کا حل آج بھی ڈھونڈا جارہا ہے ، باہمی تنقید کل بھی ہو رہی تھی ، باہمی تنقید آج بھی ہو رہی ہے ، آزادی اظہار رائے کل بھی تھا ، آزادی اظہار رائے آج بھی ہے ، آزادی اظہار رائے پر قدغن کی بات کل بھی ہو رہی تھی ، آزادی اظہار رائے پر قدغن کی بات آج بھی ہو رہی ہے ۔۔ یہ وہ عمومی معاملات ہیں جن پر ہمیشہ بحث ہوتی رہنا ہے ۔۔ اور صحت مندانہ تنقید پر مبنی بحث ہوتے رہنے میں کوئی قباحت بھی نہیں لیکن ہم اِن عمومی معاملات کے درمیان حائل حدوں کو عبور کرنے کی روایت کاکلچر جس طرح سے اب پروان چڑھتے دیکھ رہے ہیں شاید ہم سے پہلی نسلوں نے نہیں دیکھا ہوگا ۔شاید پہلی نسلوں کے پاس نہ تو دیجیٹل گئے جٹس(Digital Gadgets) تھے اور نہ ہی ان گئے جٹس کو استعمال کرنے کے ذرائع ، اب سوشل میڈیا پر خبر بنتی ہے جو بعدازاں مین اسٹریم میڈیا کے ذریعے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ پہلے کوئی مرتا تھا تو خبر پہنچنے میں پندرہ پندرہ دن لگ جاتے تھے ، اب تو اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ ہی سے فیس بک لائیو اور ٹوئیٹر پر لائیو براڈکاسٹ ہوجاتے ہیں۔ فاصلے کم ہوئے ہیں بہت اچھی بات ہے ، اظہاررائے کے مواقع بڑھے ہیں یہ بھی اچھی بات ہے لیکن اپنی رائے کا اظہار کرنے میں کہاں کن عوامل کو زیر غور رکھ کہ بات کرنی ہے اس میں پختگی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ٹوئیٹر یا فیس بک کا پوسٹ شئیر کرنے کا بٹن جہاں خوشی کے اظہار کا ذریعہ ہے وہیں اگر منفیت میں دیکھیں تو کسی ایٹم بم کو لانچ کرنے کیلئے ٹریگر بٹن سے کم حیثیت نہیں رکھتا ۔حد اور سرحد میں ایک باریک سی لائن ہوتی ہے جو ایک عام آدمی عبور کرے تو شاید نظر انداز بھی کر دی جائے لیکن بڑی بڑی تنظیموں کے بینر تلے اراکین قومی اسمبلی منتخب ہونے والے نام۔۔ آزادی اظہار رائے کے نام پریہ لائن عبور کرنے لگیں تو ریاست کو خاموش نہیں رہنا چاہیے ۔ ریاستی اداروں پر بے جا الزامات کی وجہ سے بدنام زمانہ پشتون تحفظ موومنٹ یعنی پی ٹی ایم (PTM) کے رہنما اور شمالی وزیرستان کے حلقہ این اے اڑتالیس سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والی شخصیت محسن داوڑ کا ایک ٹویٹ نظر سے گزرا ، پہلے پہل تو فیک اکاونٹ سمجھ کے نظر انداز کیا لیکن اکاونٹ کی اصلیت کی تصدیق کرنے کے بعد بات کرنا لازمی ہوگیاتھا ، ٹویٹ کے جملے ملاحظہ کیجئے

So the puppet federal cabnet lead by @ImranKhanPTI after the pressure of 'Boots' has finally included our names on ECL for a reason which the interior Minister of State along with his team was unable to explain. This act wouldn't have been that much easy even in Martial Law.

’توعمران خان کی نام نہاد وفاقی کابینہ نے ’بوٹ ‘والوں کے دباو پر بالآخر ہمارا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال ہی دیا جس کا وزیر مملکت برائے داخلہ بشمول اپنی ٹیم جواب دینے سے قاصر رہے۔ یہ اقدام شاید دورِ آمریت میں بھی اتنا آسان نہ ہوتا ‘

اس ٹویٹ کو پڑھنے کے بعد کچھ دیر کے لئے تو میں ہنستا رہا اور مجھے جناب موصوف کے اس ٹویٹ میں سیاسی ، سماجی اور اخلاقی غیر سنجیدگی واضح دکھائی دی، پھر کوشش کی کہ دیکھا جائے کہ کہیں واقعی موصوف کے ساتھ کوئی زیادتی تو نہیں ہوئی جس کے باعث وہ اچھل اچھل کر ریاستی حدوں اور سرحدوں کو عبور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ۔جب پشتون تحفظ موومنٹ کے ابتدائی دنوں پرنظر ڈالی تو مسنگ پرسنز کے معاملے پر منظورپشتین کی کچھ ویڈیوز نظر سے گزریں ۔’یہ جو دہشت گردی ہے ۔۔ اس کے پیچھے وردی ہے‘ جیسے نعرے کے بل بوتے پہ اپنی تحریک کو بڑھاوا دینے والے گروہ کے حامی محسن داوڑ نے بھی ریاستی اداروں پر الزامات لگانے میں کہیں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ پھر ان کے متعدد ٹویٹس نظر سے گزرے اور تو اوراس جتھے سے وابستہ لوگوں کے Retweets دیکھے تو سر پکڑکے بیٹھ گیا ۔ مندرجہ بالا ٹویٹ میں موصوف نے براہ راست پاک فوج پر الزام لگایا ہے کہ پاک فوج کے کہنے پر وفاقی کابینہ نے ان کا نام ایگزسٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا ہے ۔اس ٹویٹ کے ایک دن کے بعد ان دونوں حضرات کانام ای سی ایل سے نکال دیا جاتا ہے ، جو انہیں اپنی تحریک کی کامیابی نظر آتا ہے ۔بھئی واہ ۔۔وہاں انہیں پاک فوج یعنی بوٹوں کا زور چلتا دکھائی نہیں دیتا ۔۔ بالفرض ان کے اس مفروضے کو مان بھی لیا جائے کہ پاک فوج وفاقی کابینہ کے معاملات میں مداخلت کرکے ان کو

سیاسی عناد کی بھینٹ چڑھا رہی ہے تو پھر اس گمان کو تقویت کیوں نہیں ملتی کہ ملک میں اور بھی معاملات میں پاک فوج کی مداخلت ہوگی ، پھر یہ کیسے ہوگیا کہ ’یہ جو دہشت گردی ہے ۔۔ اس کے پیچھے وردی ہے ‘ کے نعرے کے بل بوتے پر شمالی وزیر ستان سے انتخاب لڑنے والا رکن قومی اسمبلی بننے میں کامیاب ہوگیا ۔وہاں بوٹوں نے محسن داوڑ یا علی وزیر کے انتخابات کو متاثر کیوں نہیں کیا ، وہاں انہیں اپنی کامیابی کی وجہ پی ٹی ایم کے بیانئے میں کامیابی کیوں نظر آتی ہے ۔۔کڑوا کڑوا تھو تھو ۔۔ میٹھا میٹھا ہپ ہپ ۔۔ کے مصداق موصوف کی بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے میں انہیں تحریک کی کامیابی نظر آتی ہے ، جبکہ نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا جانا انہیں بوٹوں کی کارفرمائی نظر آتی ہے ۔جناب بوٹوں والوں کے نہ چاہنے کے باوجود آپ پارلیمان میں کیسے بیٹھیں ہیں ۔یہ انتہائی منافقانہ رویہ ہے ۔۔ جو بات موصوف کے مطلب کی تھی اس پر انہوں نے سکسر مارنے کوشش کی اور جو بات مطلب کی نہیں تھی اسے اپنی کامیابی سے جوڑ دیا ۔۔ داوڑ صاحب جیسے موم بتی مافیا سے منسلک افراداسی بیانئے کو بیچ بیچ کر بین الاقوامی سطح پر اپنے لئے راہیں ہموار کرتے ہیں ۔ ایسے لوگ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں آئین پاکستان کی کھل عام خلاف ورزی کرتے ہیں، آئین پاکستان کا آرٹیکل 19 جو آزادی اظہاررائے سے متعلق ہے ، یہ کہتا ہے کہ دفاع پاکستان ، اسلام اور ریاست کے علاوہ ہر سماجی رویے پر پریس فریڈم ہے لیکن ان معاملات پر اظہار کے علاوہ۔ ٹویٹر ۔۔مائیکرو میڈیا یعنی پریس کے زمرے میں آتا ہے اور اس میڈیم پر ریاست مخالف بات کرتے ہوئے افواج پاکستان پر براہ راست الزام لگانا سستی شہرت کے حصول کے مترادف ہے ۔ ریاست اگر آرٹیکل19کے تحت ہی آپ کے ان ٹویٹس پر کاروائی کرنا چاہے تو آپ رکن قومی اسمبلی نہ رہیں ۔ لیکن ان تمام ہرزہ سرائیوں کے باوجود ریاست مسلسل نظر انداز کر رہی ہے ۔ آپ اس بچگانہ بیانئے کے ذریعے ریاست پر بار بار حملوں کے بجائے قانونی راستہ اختیار کریں ، عدالتوں میں اپنا مقدمہ لڑیں ، اپنی آواز اٹھائیں لیکن بین الاقوامی زرخریدوں کے مبینہ آلہ کار نہ بنیں ۔ریاست کے لئے تمام پاکستانی ایک ہیں ، جہاں زیادتیاں ہوئی ہیں ، جہاں اختیارات سے تجاوز ہوا ہے وہاں مداوا ہونا چاہیے لیکن مختلف فورمز کا سستی تشہیر کے لئے استعمال آپ کی چھوٹی اور ریاست مخالف سوچ کی عکاسی کرتا ہے ۔ تمام قارئین سے بھی گزارش ہے کہ لکھیں ، بولیں مگر پہلے اسے تلاوڑے میں تولیں ، یہ ملک ہے تو ہم ہیں ۔۔ یہ ریاست نہیں تو ہم کچھ بھی نہیں ۔۔ پاکستان زندہ باد


ای پیپر