وہ پروفیسر نہ ہوا تو۔۔۔
23 دسمبر 2018 2018-12-23

اگر پروفیسر کی بجائے کچھ اور ہوتا تو۔۔۔؟

لاہور کے سروسز ہسپتال کے ایمر جنسی وارڈ میں مردہ لاش کی صورت میں پہنچنے والے پروفیسر کا نام محض اس کی شناخت ہے۔ نام سے کیا فرق پڑتا ہے۔ بس اس کو پروفیسر نہیں ہونا چاہیے تھا۔ چلیں پروفیسر بھی ہوتا تو اس کو طاقتور نہیں ہونا چاہیے تھا۔ وطن عزیز میں پیسہ تو بہت ہے لیکن وہ بھی ضمنی چیز ہے۔ اصل چیز طاقت، اختیار،اقتدار ہے۔ جس کے پاس تینو ں چیزیں کسی بھی شکل میں موجود ہیں باقی سب کچھ اس کا ہے۔طاقت کے مراکز بہت ہیں۔وردی بھی ہے۔ دولت بھی طاقت ہے۔عہدہ بھی طاقت ہے۔خاندان، بیک گراؤنڈ بھی،حسب نسب بھی۔ معلوم نہیں کہ متوفی پروفیسر کا بیک گراؤنڈ کیا ہے۔ ضرور اخباروں میں کہیں نہ کہیں شائع ہواہو گا۔ سماجی حیثیت کیا ہے۔ یہ بھی معلوم نہیں بس اتنا معلوم ہوا کہ متوفی نے سرگودھا یونیورسٹی کا کوئی کیمپس لیا۔ لاہور میں کیمپس کھولا۔ الزام تین تھے۔ قواعد وضوابط کے بر عکس یونیورسٹی سے الحاق کیا۔ یونیورسٹی میں مقررہ تعداد سے زائد طلبا کو داخلے دیے۔ اور کیمپس کی منظوری کیلئے رشوت دی۔ چند ماہ پہلے گرفتار ہوئے۔دوماہ پہلے جوڈیشل ریمانڈ پر کیمپ جیل گئے۔ دو ماہ بعد جمعتہ المبارک کی سہ پہر دل کا دورہ پڑا جان کی بازی ہار گئے۔ قید سے تو رہا نہ ہو سکے البتہ مردہ حالت میں ہتھکڑیوں سمیت قید حیات سے رہائی پا گئے۔ پیچھے رہ گئی ایک تصویر سخت سردی میں ناکافی کپڑوں میں ہتھکڑی سمیت۔ایک تصویر یں سٹریچرکے سرہانے ایک نو عمر الجھے بالوں،مایوس، غم ناک چہرے والے لڑکے کو دیکھا۔ غالباً مرحوم کا بیٹا ہو گا۔ عینی شاہد بتاتے ہیں کہ مرحوم کا غالبا یہی بیٹا موقع پر موجود محافظوں کے ترلے کرتا رہا کہ باپ مر گیا اب تو ہتھکڑی کھول دو۔ مردہ باپ کی مزید اہانت نہ کرو۔ لیکن صاحب قانون کی حکمرانی ہے۔ مجاز اتھارٹی کے حکم کے بغیر ہتھکڑی کیسے کھل سکتی ہے۔ سو افسر کی آمد تک مردہ ہتھکڑیوں میں ہی رہا۔ سٹریچرپر مردہ حالت میں پڑے پروفیسر کی لوہے کی ہتھکڑی میں لپٹی تصویر سوشل میڈیاپر وائرل ہوئی تو کسی ٹی وی چینل کو ہوش آیا۔ عوام الناس مخلوق کو بھی پتہ چلا کہ کیا قیامت برپا ہو گئی۔ ورنہ تو آجکل تصویر کا مثبت رْخ دکھانے کی رضا کارانہ مہم عروج پر ہے۔ قانون کی حکمرانی کے حوالے سے اس سے زیادہ مثبت پہلو اور کیا ہو گا۔ جب یہ کالم لکھا جا رہا تھا تو ابھی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نہیں آئی تھی۔ کیا اس سے کوئی فرق پڑتا ہے۔ نیب کا ترجمان تو بیان دیکر بری الزمہ ہو چکا۔ ملزم ان کی کسٹڈی میں تو ہلاک نہیں ہوا۔ وہ تو جیل میں تھا۔ جیل انتظایہ کی جانب سے کوئی بیان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ وہ تو کہیں گے کہ نیب کا ملزم تھا۔ ہماری تو کسٹڈی میں تھا۔ ہسپتال انتظامیہ نے تو سرٹیفکیٹ جاری کر دیا کہ شخص مذکور ان تک پہنچا تو مردہ حالت میں تھا۔ سب فریق بری الزمہ۔ میاں جاوید عصر حاضر کا واحد مردہ بن گیا جو اگرچہ جا ن کی بازی ہار چکا تھا لیکن پھر بھی پولیس حراست سے فرار ہو جانے کی قدرت رکھتا تھا۔ مرحوم پروفیسر کا جرم کیا تھا۔ سنا ہے دارالحکومت کے ایجوکیشن مافیا کو تعلیم کے بازار میں نئے آوٹ لٹ کھل جانے کی جسارت پسند نہ آئی۔جس طرح نئی دکان کھل جانے سے گاہکوں میں کمی کاخدشہ رہتا ہے۔ نئی یونیورسٹی،کالج، سکول کھل جانے سے بھی متوقع طلباء ٹوٹ جانے کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ تعلیم تو عرشوں پہلے پرائیویٹائز ہو چکی۔ شعبہ صحافت کی مانند سرکار اب تعلیم کے فرض سے سبق دوش ہو گی۔ پڑھنا ہے تو بوریوں میں پھر کر پیسہ لائیں۔ اورزیور تعلیم سے آراستہ ہو جائیں۔ زیور تو آپ کو معلوم ہی ہے کتنا مہنگا ہے۔ سونا 70 ہزار روپے تولہ کے قریب ہے۔ زیور تعلیم سستا کیسے ہو سکتا ہے۔ بہر حال میاں جاوید مرحوم کا جرم کیا تھا۔ کتنا تھا۔ قانون میں اس کی کیا سزا ہے۔ یہ باتیں غیر متعلقہ ہو چکیں۔ اگر متوفی نے کوئی جرم کیا بھی تھا وہ اس سے کہیں زیادہ بڑا کفارہ ادا کر چکا۔ البتہ ہتھکڑیوں میں جکڑا اس کا بے جان لاشہ ان کے اہل خانہ کے ذہنوں پرہمیشہ نقش رہے گا۔ کسی کو کیا معلوم کہ متوفی پروفیسر کے خلاف کیس چلتا تو کیا فیصلہ آتا۔ وزیر اعظم عمران خان اپنے خطاب میں انکشاف کر چکے ہیں کہ نیب کے تیار کردہ کیسوں میں سزاؤں کی شرح صرف سات فیصد ہے۔ ہو سکتا ہے پروفیسر بھی بری ہو جاتا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے ان کی مستقبل قریب میں ضمانت ہو جاتی۔ سزا بھی ہو سکتی تھی۔ ایک اور آپشن بھی تو تھی کہ پروفیسر مرحوم پلی بارگین کر لیتا اور اس کی گلو خلاصی ہو جاتی۔ پلی بارگین تو قانون کے مطابق ہے ناں۔پلی بارگین کے نام پر تو ویسے بھی نیب افسران کی باچھیں کھل جاتی ہیں۔ جس نے جتنی رقم لوٹی اس کی طے شدہ پرسنٹیج ادا کی اور چپ چاپ باقی مال سمیٹ کر نکل گئے۔ بہر حال یہ معیوب بات ہی سہی لیکن ہے قانون کے مطابق۔ آج اپوزیشن ہو یا حکومت سب اس بات پر متفق ہیں کہ نیب قوانین میں ترمیم ہونی چاہیے۔ کیونکہ نیب کا کردار دن بدن متنازعہ ہو رہا ہے۔احتساب ہونا چاہیے۔لیکن احتسابی عمل اس قدر شفاف ہونا چاہیے کہ کسی کو اس پر انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے۔ نیب پر سیاسی شخصیات انگلی اٹھائیں تو عوام اس پر زیادہ کان نہیں دھرتے۔ ظاہر ہے جو سیاسی شخصیت نیب کے شکنجے میں آئی ہے اس کی پارٹی اہل خانہ،کارکن واویلا کرتے ہیں۔لیکن اس کا موقع ہی کیوں دیا جائے۔ جب غیر سیاسی شخصیات نیب پر انگلی اٹھاتی ہیں تو معاملہ مختلف ہو جاتا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلرڈاکٹر مجاہد کامران کے دوران حراست مشاہدات میڈیا میں آچکے ہیں۔ دوران حراست بدسلوکی،تشدد کے الزامات ابھی تک کلیئر نہیں ہو سکے۔ اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگا کر پیشی سے بھی نیب کی بدنامی ہو چکی ہے۔ نیب پنجاب کے ڈی جی کا میڈیا پر آنا بھی ہدف تنقید بن چکا۔ جس پر چیئرمین نیب بھی نوٹس لے چکے۔نیب کو تنازعات سے بچنا چاہیے۔ کیونکہ ایک غلطی ساری مثبت کارکردگی کو بھی منفی رنگ دے ڈالتی ہے۔ سرگودھا یونیورسٹی کے سابق ڈائریکٹر کی ہتھکڑی میں جکڑی لاش کی تصویر سے نیب کی نیک نامی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ یہ تصویر نیب اور جیل حکام کا طویل عرصہ تک پیچھا کرتی رہے گی۔ سوال کرتی رہے گی کہ اگر پروفیسر جاوید راؤ انوار ہوتا تو کیا اس کے ساتھ ایساہی سلوک ہوتا۔ اگر وہ بر سراقتدار پارٹی کا لیڈر ہوتا،کسی لیڈر کا رشتہ دار یا مقرب خاص ہوتا تو اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک ہوتا جیسا متوفی کے ساتھ ہوا۔ یقیناًنہیں نیب کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ اس کے پاس دو نہیں ایک ہی پیمانہ ہے جس پر وہ ملزوں کو پرکھتا ہے۔ تھوڑی دیر پہلے کسی کرم فرما نے فون پر کہا کہ میاں جاوید مرحوم پروفیسر نہیں بلکہ کیمپس کا صرف ڈائریکٹر تھا۔سمجھ نہ آئی کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے تھے۔ پروفیسر نہیں تھے تو کیا ہوا انسان تو تھے۔


ای پیپر