پریشانی
23 دسمبر 2018 2018-12-23

جب سے کپتان نے وزراء کرام کو پاس کرکے کاروبار ریاست درست سمت رکھنے پر انھیں شاباش دی ہے، ہمارابھی اعتماد بڑھ گیا ہے ہمیں یقین ہو چلا ہے کہ اب ہم ہر امتحان پاس کر نے کے قابل ہیں۔تاہم راوی یہ بتانے سے قاصر ہے کہ ان’’ صاحبان اقتدار ‘‘کی کامیابی کا کیا معیار تھا، سوالات کس نوعیت کے تھے،جوابات کس انداز میں دیئے گئے کیا کسی کو ’’یوٹرن‘‘ لینے کی اجازت تھی یا نہیں، ممتحن کی اپنی قابلیت کیا تھی وغیرہ وغیرہ۔ کامیابی کے لیے اگر اتنی ہی گورننس کی ضرورت ہے تو پھر نسل نو کو مقابلہ کے امتحانی’’ عذاب‘‘ میں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کچھ وزراء کرام کی ’’سپلی‘‘ بھی آئی ہے انکی ناکامی کا کیا سبب ہے،ان کی کارکردگی میں کیا سقم تھا اس بارے میں کوئی مصدقہ اطلاعات نہیں۔ تاہم قوم یہ سمجھنے سے عاجز ہے کہ کامیاب وزراء کو کن بنیادوں پرپروانہ جاری کیا گیا ہے اگر میعار عوامی مسائل کا حل ہے تو محمود ایاز میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا ، فہمیدہ مرزا کا کیا قصور ہے یہ کامیابی کی درڑ سے کیوں نکال باہر کی گئی؟ اگر سابقہ جماعت سے وابستگی جرم ہے توا س ’’گناہ ‘‘میں تو قریباسب وزراء شریک ہیں۔اگر جمہوریت کی کوئی خدمت کسی نے انجام دی ہے تو پھر صف اول میں وزیر اطلاعات سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ موصوف کے بیانات خود اس کی گواہی دیتے ہیں، گمان یہ ہے کہ وہ عہد آمریت میں بشرف مشرف ہوئے تب سے کسی زعم میں یہ لہجہ اختیار کیے ہوئے ہیں اورتاحال جمہوریت اور آمریت میں فرق کرنے سے قاصر ہیں۔

شنید ہے کہ وزیر ریلوے کی ’’گڈی‘‘ چڑھی رہی، انکا خمیر طلباء سیاست سے اٹھا ہے اور پھر ’’ شریفین‘‘ کے زیر تربیت رہے لہذا وزارت کا رنگ نمایاں ہونا لازمی امر تھا ان پر ناقدین الزام دھرتے ہیں کہ جن کا وہ منہ ماضی میں چوما کرتے تھے آج اسی پر صلواتیں بھیجتے ہیں۔اس لئے ابوالکالام آزاد نے کہا تھا کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ان دنوں پرانے کھاتے کھل رہے ہیں، احتساب کی ’’خوشبو‘‘ ہر سو پھیلی ہوئی ہے تو ہم بھی موصوف کی توجہ ماضی کے اس عہد کی طرف دلوانا چاہتے ہیں جس کاتعلق ان کے شعبہ سے ہے جب دور بین لے کر بھی ڈھونڈنے سے ٹریک پر ٹرین نہیں ملتی تھی اس قومی ادارہ کی تباہی میں اک نامور سیاسی خاندان شریک رہا جو آج بھی سیاسی افق پر پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے کیا ہی اچھاہو اگر ’’پاس‘‘ وزیر قومی خزانے کے نقصان کی تلافی کابیڑہ اٹھا لیں اس کماش طبقہ کی کلاس لیں جس نے ریلوے کو تباہ کیا تھا یہ قومی خدمت بھی ہوگی اور نیب کے ہاتھ لمبا مال بھی لگ جاے گا۔

بیچاری ریلوے کے ساتھ ہر دور میں ہاتھ ہوا، کہا جاتا ہے خود ساختہ امیر المومنین نے جو ٹیلی کمیونیکیشن نظام متعارف کروایا تھا وہ نصب ہوتے ہی فلاپ ہوگیا اگر باوردی صدر اس کے باوجود مراعات لے کر رخصت ہو سکتے ہیں تو بلور خاندان کیوں نہیں؟ویسے بھی قومی اداروں کے ساتھ دشمنی نبھانے میں یہ اکیلا گھر شریک سفر نہ تھا اس عہد کی پوری ریاستی مشینری ہم سفر تھی۔اس طرز کی سینکڑوں کہانیاں ہماری تاریخ کا حصہ ہیں جب مال مفت اور دل بے رحم کا عملی مظاہرہ دن کی روشنی میں ہوتاتھا ۔مفادات سمیٹنے والے اس دھرتی پر آج بھی بڑی شان سے جیتے ہیں۔ کپتان کے عہد کے قریبا تمام چہرے وہی ہیں جو ہر زمانہ میں شریک اقتدار رہے ہیں، انکا پاس ہونا تو یقینی تھا مگر اک سوال ہمارے ذہن پر سوار ہے کہ اس قدر با وفا، ذہین،کہنہ مشق ممبران کو اپنی اپنی پارٹی کو الوداع کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ایسے گوہر نایاب یقیناًکپتان کی قسمت ہی میں تھے خدا لگتی بات یہ ہے کہ الیکٹیبل کے نام پر ان کا انتخاب خود عا لم پناہ نے کیا تھا یہ سو دن میں کوئی لائحہ عمل قوم کے سامنے نہ رکھ سکے ورنہ اک وزارت کا سالانہ پروگرام پیش کرنا کون سا تارے توڑنے کے مترادف تھا کابینہ کی صلاحیتوں کا فیض ہے کہ کپتان سو ایام کی کارکردگی قوم کے سامنے رکھتے ہوے انڈے، مرغی، کٹے کی گردان ہی سے باہر نہ نکل سکے جب کپتان خود اس طرز کی’’ تبدیلی‘‘ پے قناعت کرنے کا مظاہرہ کرنے کے خواہاں ہیں تو پھر وزراء کی ناکامی کا کیا سوال۔جن اشیاء کو کپتان جی معیشت کی بنیاد قرار دے رہے ہیں اسکا تعلق زراعت سے جس کے لیے پانی ناگزیر ہے۔کاش ہمارے وزیر زراعت پانی کی مینجمنٹ کا پلان کسانوں کی راہنما ئی کے لیے کابینہ کے سامنے رکھتے تو کم از کم انکی قابلیت کھل کر سامنے آ جاتی۔

وزیر خزانہ کا شہرہ ریاست سے باہر بھی تھا کہا جاتا تھا اوور سیز کیمونٹی ان کے عہدہ سنبھال کے منتظر ہے ڈالروں کی بارش کی نوید تو حکمران پارٹی سے وابستہ افراد سنایا کرتے تھے، نہیں معلوم کپتان کس ڈالر کی کمی کا رونا روتے ہیں وہ جو اہل اوورسیز نے روانہ کر نے تھے یا وہ جو ان کے قابو سے باہر ہے۔ سال بھر میں صرف اک بار پیش ہونے والا بجٹ اب تیسری بار قوم کے سامنے رکھے جانے کی توقع ہے ۔لگتا ایسا ہے کہ وزیر موصوف کے اشک اب قوم کی عاقبت سنوارنے کے لیے کافی ہوں گے جو وہ امداد کے لیے برادر ممالک کے سامنے معاشی بدحالی کے نام پر قوم کے وسیع تر مفاد میں بہاتے ہیں۔

کپتان جی کا اک حسن یہ بھی ہے کہ وہ جمہوریت کی مٖٖثالیں مغرب سے دیتے ہیں ہمارا گمان ہے ان ممالک میں زمام اقتدار تھامنے سے پہلے متو قع قیادت کو سیاسی اکیڈمی کی خاک چھاننا پڑتی ہے تاکہ سبکی نہ ہو اور گورننس قابل رشک رہے۔ ابھی ’’تبدیلی‘‘ والوں کو آئے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں مڈم ٹرم الیکشن کی باز گشت سنائی دینے لگی ہے۔اک طرف آسمان سے باتیں کرتا ڈالر، بے روزگاروں کا ہجوم دوسری طرف وزراء کرام کے پاس ہونے کی کامیابی، ہماری پریشانی یہ ہے کہ ہم انہیں مبارک باد دیں یا مہنگائی کے طوفان میں کمی کا مطالبہ کریں۔


ای پیپر