ہوئے تم دوست جس کے
23 دسمبر 2018 2018-12-23

ذمہ دار ادارے تو میڈیا کو ریاست و معاشرت کا مثبت رخ دکھانے کا کہہ رہے ہیں مگرمیڈیا کیا کرے۔ گزشتہ روز وزیر اعظم کے ترجمان درانی نے بیان دیا کہ اپوزیشن کی کشتی میں جو بھی سوار ہو گا وہ جیل ضرور جائے گا ۔ اللہ پناہ ! کیا یہ شخصیت اس بیان سے حکومت سے دوستی نبھا رہی ہے یا عدالت اور اداروں کے کردار مشکوک ہی نہیں بالکل جانبدار یا اپوزیشن کے بر خلاف ثابت کر رہی ہے پھر وزیر مملکت برائے داخلہ نے تعلیمی اداروں میں طلباء اور طالبات میں جس وثوق اور عدادوشمار کے ساتھ ہیروئن وہ دیگر نشہ آور اشیاء کے استعمال کا بھر پور ذکر کیا ہے اسرائیل اور ہندوستان کے کسی متعصب یا دنیا بھر میں کسی بھی پاکستان مخالف وزیر یا سفیر کی مخالفت کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ ایسی شکایت تو اپوزیشن کیا کرتی ہے یہ الزامات تو حکومت مخالف لوگ لگایا کرتے ہیں چہ جائیکہ حکومت کے اہم ترین وزراء ایسی بات کریں ابھی جناب عمران کی بیرون ممالک اور اندرون ملک نشری تقریروں میں وطن عزیز کو کرپشن اور منی لانڈرنگ کا شاہکارثابت کرنے کی باز گشت مدہم نہ پڑی تھی کہ چھوٹے وزیر نے تعلیمی اداروں اور طلباء و طالبات کے کردار اور اخلاقیات کا بیڑہ غرق کر دیا ۔ حکومتی ترجمان ہیں کہ عدالتی فیصلہ آنے سے پہلے ہی جناب زرداری ، جناب نواز شریف کے لیے جیل جانے کے فیصلے صادر کیے دے رہے ہیں۔ اس سے بڑھ کر عدالت کی توہین کیا ہو سکتی ہے کہ معزز جج ابھی فیصلہ محفوظ کرتے ہیں یا کسی کی طلبی کرتی ہیں تو حکومتی وزراء ، ترجمان اور مشیر فیصلے سنانے کے در پے ہوتے ہیں ۔ مہنگائی ، بے روز گاری ، اکھاڑ پچھاڑ ابھی چل رہی تھی کہ حکومتی بنچوں کے لوگوں نے عدالتی فیصلے سنانے شروع کر دیے۔

وزیر اعظم فرماتے ہیں کہ ہم اب کسی کی جنگ نہیں لڑیں گے جنگ تو رہی نہیں البتہ بے خبری میں امریکہ اور چائنہ کی ٹریڈ وار ہماری زمین پر ہی لڑی جا رہی ہے جب آنکھ کھلے گی تو وقت اور اختیار ہاتھ سے نکل چکا ہو گا۔

حکومتی نمائندے کا بیان تھا کہ عنقریب پتہ چل جائے گا بزدار با اختیار وزیر اعلیٰ ہیں سچی بات ہیں میں تو بیورو کریسی کے کمزور افسران کی طرف دیکھنے لگ گیا کیونکہ جب نواز شریف پہلی بار وزیر اعظم بنائے گئے تو پنجاب میں وائیں وزیر اعلیٰ تھے جبکہ حقیقت میں وزارت اعلیٰ کے اختیارات جناب شہباز شریف کے پاس تھے ۔ بیورو کریسی کو علم تھا کہ حقیقی وزیر اعلیٰ شہباز شریف ہیں ایک دن وائیں مرحوم نے اپنے دفتر میں چند قابل بھروسہ دوستوں سے بات کی کہ میں نے کچھ ایساکرنا ہیں۔ جس سے میرے با اختیار ، وزیر اعلیٰ ہونے کا تاثر قائم ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے دو اضلاع کے ڈپٹی کمشنر کا نام لیا خوش قسمتی سے ایک ڈپٹی کمشنر کا سفارشی رکنِ اسمبلی اس گفتگو کا حصہ تھا وہ فوراً بول پڑا کہ وائیں صاحب اس کو کچھ نہیں کہنا آپ کی مہربانی لہٰذا بد نصیبی کہ دوسرا پی سی ایس ڈپٹی کمشنر اس مشورے سے بے خبر تھا لہٰذا وائیں صاحب نے گوجرانوالہ دورہ کیا اور اختر علی مانگا ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کا سر لے گئے اس عمل سے پورے پنجاب میں ان کے خیال میں بیورو کریسی کو یقین ہو گیا یا لوگوں کو تاثر مل گیا کہ وائیں صاحب حقیقی اختیارات کے مالک ہیں مگر یہ غلط فہمی ہی ثابت ہوئی۔ اختیارات تو جناب شہباز شریف کے پاس تھے البتہ یہ بات طے ہے کہ وائیں مرحوم ایک سیاسی ورکر اور کمٹڈ انسان تھے ۔ مسلم لیگ کے راہنماؤں اور ورکروں کے ساتھ پورے رابطے میں تھے مگر جناب عثمان بزدار کا معاملہ بالکل اس کے بر عکس ہے۔ آج وزیر اعلیٰ پنجاب پی اے ٹو پی ایم بن کر رہ رہ گیا ۔ موجودہ حکمرانوں کے ہر معاملے میں استدلال اپنی مثال آپ ہیں۔ گورنر ہاؤس کی دیواریں گرانے والی رنگ بازی کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ استدلال یہ پیش کیا گیا کہ یہ غلامی کے دور کی یاد ہے لہٰذا اس کو اس لیے گرایا جاناضروری سمجھا اگر یہی آزادی کا اظہار ہوتا تو قائد اعظم گورے کی بنائی ہوئی ایک بھی عمارت قائم نہ رہنے دیتے ۔ عمارتیں حکومت نہیں کرتیں ان میں براجمان لوگ حکمران ہوا کرتے ۔ کیا ہم میں سے کبھی کسی نے غور کیا ہے کہ جناح کیپ جو قائد اعظم کے نام سے منسوب ہے ہائی کے کورٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کے نائب قاصدوں، میس مینوں اور حکمرانی کرنے والے دیگر اداروں کے چپراسیوں کی یونیفارم کا حصہ ہے صاحب لوگ تو گورے کی تقلید میں ٹائی کوٹ اور گاؤ ن میں ہوتے ہیں۔ انتظامی افسران پی کیپ میں ہوتے جبکہ آگے پیچھے چلنے والے چپڑاسی ہر اندر آنے والے کے لیے چائے پیش کرنے والے جناح کیپ اور قومی تشخص کی غماز شیروانی میں ملبوس ہوتے ہیں جو ان کی یونیفارم کا حصہ ہے ظلم یہ ہے کہ اسلامی رنگ جو کہ سبز رنگ تصور ہوتا ہے اس رنگ کی شیروانی ان چپراسیوں کی یونیفارم کا حصہ ہے۔ شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ جو پارلیمنٹیرین پہنتے ہیں۔ مقتدر اداروں اور بیوروکریسی کے خادمین کی یونیفارم اور پروٹوکول کا حصہ ہے۔ان کی دیکھا دیکھی جاگیردار بھی یہی لباس اپنے ملازمین کو پہناتے ۔ مجھے حیرت ہے کہ یہ گورنر ہاؤس کی دیواروں کو گرا کر مار آزادی کا اعلان کر رہے ہیں۔ زیر سماعت مقدمات کے فیصلے سنا رہے ہیں۔ اپوزیشن کی کشتی میں سوار ہونے والوں کو جیل کی نوید سنا رہے ہیں یہ کس جمہوریت کی خدمت کر رہے ہیں۔ کیا یہ حکومت سے ہمدردی کر رہے ہیں یا دشمنی! در اصل یہ اپنی نوکری پکی کر رہے ہیں۔ چوہان، فواد چوہدری، درانی، مراد سعید ایسی شخصیات کو چاہیے کہ حضرت علیؓ کا قول یاد رکھیں ’’ڈرو اس سے جو تم سے ڈرتا ہے‘‘۔ یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ چلتے لمحے میں بھی عوام کی اکثریت کس کے ساتھ ہے۔ قصہ صرف اتنا ہے،کیونکہ ان کے بیانات اور مخاصمت بکھری ہوئی اپوزیشن کو اکٹھا کر رہے ہیں جو ان کو حکومت میں لانے والوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے کیونکہ انہیں ملک عزیز ہے کوئی پارٹی یا فرد نہیں۔

ہوئے تم دوست جس کے

دشمن اس کا آسمان کیوں ہو!


ای پیپر