23 دسمبر 2018 (08:55) 2018-12-23

ہمارے ملک میں اگر کوئی قانون شکنی کا عادی ہو اور ہمارے نظام انصاف سے واقف بھی ہو تو عدالتوں سے کھیلنا اور اپنے مخالف فریق کو زچ کرنا کوئی مشکل کام نہیں. ماتحت عدلیہ پر مناسب چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے سائلین کو بہت سی ایسی شکایات ہیں جن کا ازالہ نہیں ہو پاتا. قانون کے شعبے سے وابستہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ اعلی عدلیہ کے ججوں کے خلاف کارروائی کا فورم سپریم جوڈیشل کونسل ہے جبکہ ماتحت عدلیہ کے خلاف شکایات کی دادرسی کے لیے لاہور ہائیکورٹ کا سابق ایم آئی ٹی سیکشن اور موجودہ ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری ہے لیکن آج تک کسی عام آدمی کی جانب سے ان فورمز پر کی جانے والی شکایات پر کارروائی کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا، اگر عام شہری یا کسی خاص طبقے کی جانب سے کبھی اعلی یا ماتحت عدلیہ کے کسی جج کے خلاف رویہ اور جانبداری کی شکایت کی کوشش کر ہی لی جائے تو اسے پذیرائی نہیں ملتی. بلکہ شکایت کنندہ کو اس غلطی کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑ جاتا ہے. اعلی عدلیہ تو بہت کی بات ہے، ماتحت عدلیہ کے کسی جج کے خلاف شکایت ہو تو لاہور ہائیکورٹ کا جو شعبہ اس کے خلاف کارروائی کا اختیار رکھتا ہے اس کا طریق کار بھی ایسا ہے کہ شکایت کنندہ کو کچھ بتانا ضروری نہیں سمجھا جاتا. ہمارے ملک میں رائج قانونی نظام میں لوگ انصاف کی تلاش میں سب سے پہلے جس فورم کا رخ کرتے ہیں وہ ماتحت عدالتیں ہیں، اگر فریقین میں تنازعہ دیوانی ہو تو سول عدالت اور فوجداری نوعیت کے تنازعات کے لیے فوجداری عدالتوں سے رجوع کیا جاتا ہے. اسی طرح ہر جرم، ناانصافی، ریاستی جبر یا حق تلفی کے لیے عدالتیں موجود ہیں. لیکن بدقسمتی سے ریاست کے اس سب سے مضبوط رکن اور انصاف کے بنیادی پلیٹ فارم سے ہی عوام الناس کو سب سے زیادہ شکایات ہیں. اہم عدالتی شخصیات بھی متعدد مواقع پر یہ دہرا چکی ہیں کہ اگر ماتحت عدالتیں حقیقتاً قانون کی حکمرانی کے لیے اپنی سمت درست کر لیں تو اس معاشرے سے ناانصافیوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے. لیکن شاید عملی طور پر ایسا ممکن نہیں کیونکہ اگر کبھی کسی عام آدمی کا عدالتی نظام سے واقف عادی قانون شکن سے واسطہ پڑ جائے تو وہ انھی عدالتوں میں انصاف کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتا ہے. اس کی تازہ مثال گذشتہ دنوں ایک ایسے کیس کی صورت میں سامنے آئی. جس میں ایک عادی قانون شکن ملزم مختلف قانونی حربوں کے ذریعے عدالتوں سے آنکھ مچولی کھیلتا آ رہا ہے اور ملکی اثاثوں کی چوری کے سنگین الزامات میں ملوث ہونے کے باوجود ایک سال سے عدالتوں سے ضمانت ضمانت کھیل رہا ہے. ملزم سے گھر خالی کروانے اور اس کے خلاف کارروائی کے لیے گلشن راوی کی رہائشی عمر رسیدہ خاتون حمیدہ مشتاق گذشتہ ایک سال سے عدالتوں میں دھکے کھا رہی ہے. ماتحت عدالتوں سے خائف خاتون نے ملزم کی عبوری ضمانت پر دس ماہ تک فیصلہ نہ کرنے پر سیشن جج لاہور سمیت 9 ایڈیشنل سیشن ججوں کیخلاف کارروائی کے لئے لاہور ہائیکورٹ کے انتظامی شعبے ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں درخواست بھی دے رکھی ہے. خاتون کا کہنا تھا کہ اس ایک سال میں اسے یہ سمجھ آ گئی ہے کہ ہمارے عدالتی نظام میں انصاف کا حصول کتنا دشوار ہے. جج صاحبان تمام حقائق جاننے کے بعد بھی قانون سے کھیلنے والے ملزم کو مسلسل ریلیف دیتے ہیں. خاتون نے بتایا کہ عطاءالرحمن نامی شخص نے 2015 میں اس کا گلشن راوی میں واقع مکان رہائش کیلئے کرائے پر لیا اور کچھ عرصے بعد وہاں غیر قانونی سرگرمیاں شروع کر دیں اور پھر کرایہ دینا بھی بند کر دیا. جس پر اس نے تھانہ گلشن راوی میں اندراج مقدمہ کی درخواست دی، جہاں ملزم نے گھر خالی کرنے کا وعدہ کیا لیکن ساتھ ہی سول عدالت سے حکم امتناعی بھی لے لیا. اسی دوران ایف آئی اے، لیسکو اور محکمہ سوئی گیس نے اس کے کرائے پر دیئے گھر پر مشترکہ چھاپہ مارا اور وہاں گیس اور بجلی چوری پکڑی گئی.قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزم عطاءالرحمن کیخلاف 2 کروڑ 11 لاکھ روپے گیس اور 3 لاکھ روپے کی بجلی چوری کے مقدمے درج کیے اور تفتیشی افسران نے ملزم عطاءالرحمن کو گناہگار قرار دے چالان عدالت میں پیش کیا. جس میں آج سے ایک سال قبل سترہ دسمبر 2017 کو ملزم نے عبوری ضمانت کی پہلی درخواست دائر کی اور لگ بھگ 300 دنوں تک 9 مختلف سیشن عدالتوں سے مختلف قانونی حربوں کے ذریعے عبوری ضمانت جیسا اہم ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب رہا. ملزم کے یہ حربے اور ان کی کامیابی ہمارے عدالتی نظام پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے. سب سے پہلے ایڈیشنل سیشن جج سعید رفیق نے ملزم کی پہلے چھ جنوری 2018 تک بیس روز اور پھر 20 جنوری تک چودہ دن کے لئے عبوری ضمانت منظور کی. یوں چونتیس دن عبوری ضمانت پر رہنے کے بعد ملزم نے عدالت پر عدم اعتماد کر دیا اور کیس ایڈیشنل سیشن جج رفاقت علی گوندل کو بھجوا دیا گیا جنھوں نے 21 جنوری سے 20 اپریل تک ملزم کی پندرہ تاریخوں میں 89 روز تک ضمانت منظور رکھی اور 20 اپریل کو سماعت سے معذرت کرتے ہوئے کیس واپس سیشن جج کو بھجوا دیا. 21 اپریل کو سیشن جج نے کیس ایڈیشنل سیشن جج مرزا شاہد بیگ کو بھجوا دیا. جہاں ملزم نے آخری موقع حاصل کر کے ضمانت کی درخواست واپس لے لی. اس کے بعد ملزم نے سولہ مئی کو دوبارہ حقائق چھپا کر ضمانت کے لیے رجوع کیا. اس بار سیشن جج نے کیس ایڈیشنل سیشن جج توثیر الرحمن کو سماعت کے لئے بھجوایا اور ملزم ایک بار پھر مختلف بہانوں سے 47 روز تک ضمانت پر رہا، پھر فاضل جج کی ٹرانسفر کے باعث کیس ایڈیشنل سیشن جج فرحان شکور کو بھجوا دیا گیا، ملزم نے اس عدالت سے بھی چار تاریخیں حاصل کرنے کے بعد سولہ جولائی کو عدالت پر عدم اعتماد کر دیا اور جج صاحب نے ریفرنس بنا کر کیس واپس سیشن جج کو بھجوا دیا، سیشن جج نے کیس واپس اسی عدالت بھجواتے ہوئے دو روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی. مگر دو تاریخوں کے بعد ملزم کے پیش نہ ہونے پر اس کی ضمانت عدم پیروی پر خارج کر دی گئی. 31 جولائی کو ملزم نے حقائق چھپا کر تیسری درخواست ضمانت دائر کی اور ایڈیشنل سیشن جج یاسر ندیم نے براہ راست 5 ستمبر تک چھتیس روز کے لئے ملزم کی عبوری ضمانت منظور کر لی. حالانکہ قانونی طور پر تیسری درخواست ضمانت دائر نہیں کی جا سکتی تھی اور عبوری ضمانت کا فیصلہ سات یوم میں ہونا لازم تھا. 5 ستمبر کے بعد یہ کیس ایڈیشنل سیشن جج یاسر ندیم سے ایڈیشنل سیشن جج رائے نعیم کھرل، وہاں سے پھر سیشن جج، سیشن جج سے پھر یاسر ندیم کی عدالت، پھر ایڈیشنل سیشن جج مصباح خان کے پاس چلا گیا اور دس تاریخوں کے بعد پھر عدم پیروی پر خارج کر دیا گیا. ماتحت عدالتوں کے اس رویے سے رنجیدہ خاتون نے اپنی شکایات کے لیے لاہورہائیکورٹ سے رجوع کیا. ڈائریکٹوریٹ میں دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ بااثر ملزم کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن ججز فیصلہ نہیں کر سکے. عدالتیں ملزم کے ہاتھوں میں کھیلتی رہیں اور بروقت فیصلہ کرنے میں ناکام رہیں. جبکہ ملزم تین بار عبوری ضمانت بوجہ عدم پیروی خارج ہونے کے باوجود آزاد ہے. درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ملزم کی عبوری ضمانت کی درخواستوں کا ریکارڈ ہائیکورٹ میں طلب کیا جائے اور سماعت کرنیوالے ایڈیشنل سیشن ججز کیخلاف کارروائی کی جائے. خاتون کا کہنا تھا کہ اکتوبر میں درخواست دینے کے باوجود اب تک ملزم آزاد اور اس کے گھر پر قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے جبکہ ہائیکورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کا کام صرف درخواست دینا تھا، اب اس پر جو کارروائی کی گئی ہے یا کی جائے گی اس کے بارے میں درخواست گزار کو بتانا ضروری نہیں. خاتون کا کہنا تھا کہ یہ کیسا انصاف ہے جو عمر کے اس حصے میں دربدر ہونے کے باوجود نہیں مل سکا اور اب ہائیکورٹ بھی کچھ بتانے سے گریزاں ہے، اب میں کس کا دروازہ کھٹکھٹاو¿ں، تو میرے پاس اسے دینے کے لئے کوئی جواب نہ تھا۔


ای پیپر