23 دسمبر 2018 (08:52) 2018-12-23

ایک درویش کا قول ہے :

انسان کو ایک زبان، دوکان اور دوآنکھیں اس لیے دی گئی ہیں کہ وہ کلام کرنے کی بجائے زیادہ سنے اور زیادہ دیکھے ۔“

غورکریں تو اس قول میں کتنی پتے کی بات کی گئی ہے۔ کہ ہمیں بولنا کم اور سننا دیکھنا زیادہ چاہیے۔ مگر ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو گفتگو سے زیادہ سنتے اور صرف دیکھتے ہیں۔ “کہتے ہیں :”بہت زیادہ بولنے والے کی بہت کم باتیں یاد رہتی ہیں۔ بولتے وقت اپنی گفتگو خود بھی سننے کی طرف توجہ دی جائے تو انسان شرمندگی سے بچ جاتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ہماری دنیا میں بجائے گئے، ہلکے سے ساز کی معمولی آواز بھی ہوا میں ہیجان پیدا کردیتی ہے، ماہرین روح نے یہ بات تحقیق سے ثابت کی ہے کہ معمولی سی آواز تو درکنار ہوا (ایتھر) میں خیال اور ارادہ سے بھی لہریں اٹھنے لگ جاتی ہیں۔ دعا کے احساسات سے ہم اپنے اندرونی جذبات کی قوت (ایموشنل انرجی) سے کاسمک ورلڈ میں (ایتھرمیں) زبردست لہریں پیدا کرسکتے ہیں۔ اگر ایک بھوک پیاس کا مارا شخص اپنی بھوک پیاس کا گلہ نہ بھی کرے تو پھر بھی اس کے چہرے سے بھوک پیاس کے تاثرات ظاہر ہوکررہتے ہیں۔ اعمال کے اثرات کو معلوم کرنے کی نوبت یہاں تک آتی ہے کہ اللہ کے نیک بندے جنہیں ہم اللہ کے دوست کہتے ہیں، کسی کو دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ یہ کیا گناہ کرکے آیا ہے یا کیا چیز کھاکر آیا ہے ؟ بزرگ کسی کا چہرہ دیکھتے ہی اس کے احوال کا اندازہ لگا لیتے ہیں بشرطیکہ کوئی دیکھنے والی آنکھ ہو۔ یہ جو ہم صبح سے شام تک بے دریغ بے سوچے سمجھے بولتے چلے جاتے ہیں۔ اور اڑھائی انچ کی زبان سے پانچ فٹ کے انسان کو ہلاک کرنے سے باز نہیں آتے، ہمیں اپنی زبان کو قابو میں رکھنا چاہیے، لیکن ہوتا یہ ہے کہ ہم فقرہ ضائع نہیں کرتے بندہ ضائع کردیتے ہیں۔

ہمارے حکمرانوں، سیاست کے کھلاڑیوں کے بیانات ہی کو دیکھ لیں۔ کیا کیا باتیں کی جارہی ہیں۔ مسلم لیگ نون کے دور حکومت میں دانیال ،نہال ، طلال چودھری کا ”طوطی“ بولا کرتا تھا آج فواد چودھری اور فیاض الحسن چوہان کے طنزیہ بیانات پر تنقید کی جاتی ہے۔ سعد رفیق کی شعلہ بیانی میں بھی کمی نہیں آئی۔ یہی نہیں سوشل میڈیا پر ہمارے سیاسی رہنما بھی خوب گرجتے برستے ہیں۔ خاص طورپر اپنے مخالفین کے خلاف تو ایسی ایسی باتیں کی جاتی ہیں کہ ”الفاظ“ بھی پانی پانی ہوجاتے ہیں۔ کہنا یہ مقصود ہے کہ نئی نسل اپنے بزرگوں سے سیکھتی ہے۔ ہم اپنے نوجوانوں کو کیا تربیت دے رہے ہیں۔؟

سابق صدر آصف زرداری بھی ان دنوں میڈیا پر خوب”چہک“ رہے ہیں۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں متحدہوکر اپنے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا سدباب چاہتی ہیں۔ زیادہ چیخ چنگھاڑ کرنے والوں میں وہی لوگ ہیں جن پر کرپشن کے مقدمات کھلے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی بے گناہ شخص ہوتو اسے کسی بات کا خطرہ نہیں ہوتا وہ اپنے خلاف مقدمات میں اپنی بے گناہی کے ثبوت پیش کرتا ہے۔ عدلیہ یا حکومت کے خلاف زہر نہیں اگلتا۔ مگر یہاں سبھی حکومت پر برستے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ حکومت کا مو¿قف یہ ہے کہ ابھی انہوں نے مقدمات قائم نہیں کیے۔ یہ سارے مقدمات جو نیب میں ہیں یہ ان کی حکومت سے پہلے کے ہیں۔ فواد چودھری کا بیان تھا۔

جنہاں کھاہدیاں گاجراں ڈھڈ اُنہاں دے پیڑ

جن لوگوں نے گاجریں کھائی ہیں وہی درد میں مبتلا ہیں۔ وہی لوگ چیخ رہے ہیں جنہیں اپنے کرتوت کا مکمل ادراک ہے۔ تیس برس تک کسی نہ کسی طرح حکومت کرنے والوں نے آخر کچھ تو ایسا کیا ہے کہ ان کے خلاف ”وعدہ معاف“ گواہ سامنے آرہے ہیں۔

اب مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی ”نیب“ کو کالا قانون کہتی ہیں حالانکہ دونوں نے مل کر نیب کا چیئرمین لگایا تھا۔ اگر عدالتیں انصاف کے سفر پر ہیں تو انہیں اپنا کام کرنے دیا جائے۔ اگر کوئی کرپٹ نہیں ہے تو اسے اپنی جائیدادوں اور بینک بیلنس کا حساب دیتے ہوئے تکلیف نہیں ہوتی۔

البتہ ایک افسوس ناک بات نیب کی بھی ہے کہ قانون سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔ آپ پروفیسروں کو تو ہتھکڑیاں لگاتے ہیں۔ اور بعض اوقات موت کے بعد بھی زنجیروں سے آزاد نہیں کیا جاتا۔ سرگودھا یونیورسٹی کے لاہور کیمپس کے مالک جاوید میاں کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی زندگی کی آخری تصویر دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ ہسپتال میں بھی کیا ہتھکڑیاں ضروری ہوتی ہیں ؟ نیب نے کہا کہ یہ جیل والوں کا معاملہ ہے وہی جاوید میاں کو بغرض علاج ہسپتال لے کر گئے تھے۔ ہم کہتے ہیں کہ سوائے ان مشکوک افراد کے جن کے بھاگنے کا خطرہ ہو ان کو ہتھکڑیاں لگائی جائیں۔ پڑھے لکھے افراد اور جن کے پولیس کے ہاتھوں سے بھاگ جانے کا اندیشہ نہ ہو انہیں اس طرح کی ذلت سے کیوں گزارا جاتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود ایک صحافی بھی ہیں اور بہت پڑھے لکھے شخص ہیں۔ انہوں نے کچھ بھی کیا ہو اس کا فیصلہ عدالت کرے گی مگر انہیں عدالت لاتے وقت اس طرح زنجیروں سے باندھ کر کہاں کی دانش مندی ہے۔ پروفیسروں، بزرگوں یا کسی بھی ایسے شخص کو جو پولیس کے ہوتے ہوئے بھاگنے کا ارادہ نہیں کرسکتا ۔ اسے کس لیے ہتھکڑیاں پہنائی جاتی ہیں۔

اگر قانون میں یہ سب ضروری ہے تو پھر میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف کو بھی ہتھکڑیوں میں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے کہ قانون کی نظر میں تو سبھی برابر ہیں۔ ان کے لیے اتنا نرم رویہ کیوں روا رکھا جاتا ہے۔علیمہ خاں کو عفیفہ سمجھ کر ملک کی سب سے بڑی عدالت کی جانب سے منی ٹریل کا سوال اٹھائے بغیر محض جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے کر باعزت گھرروانہ کیوں کیا جارہا ہے، سعد رفیق ہوں یا کوئی بھی سیاستدان انہیں تو ہتھکڑیاں نہیں لگتیں البتہ بزرگ پروفیسرز صحافیوں کو عدالت میں ہتھکڑیاں لگاکر پیش کیا جاتاہے کیا قانون کے رکھوالے اس کا کوئی جواز پیش کرسکتے ہیں۔ ؟ عدالت کے ججز کو بھی اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہیں بھی بیانات دینے کے بجائے اپنے فیصلوں میں بولنا چاہیے۔

اینکروں اور تجزیہ نگاروں کو بھی ٹی وی شوز میں گفتگو کرتے وقت اپنی آواز خود بھی سننی چاہیے بعض تو اتنی اونچی آواز میں چیختے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ ایک کمرے میں بیٹھے ہوئے وہ بھی کیمرے کے سامنے اس بلند آہنگی کی ضرورت کیا ہے۔ مگر یہاں خبریں پڑھنے والے بھی عام بریکنگ نیوز ایسے دیتے ہیں جیسے قیامت سرپر آکھڑی ہوئی ہو۔ وہ اپنی بریکنگ نیوز سے ایک سنسنی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہمیں اپنے روزوشب میں اپنے افعال واعمال پر توجہ کی ضرورت ہے۔

شاید کہ ترے دل میں اترجائے مری بات


ای پیپر