دو سالہ کارکردگی کی بیٹھک
23 اگست 2020 2020-08-23

کبھی سوچتے تھے حکومت حکمت سے دور ہوتی ہے مگر ایسا نہیں.... یہ ریاست کوئی عام نیک بادشاہ کی ریاست نہیں جہاں چین کی بنسی بجتی ہے یہ چِلتر داﺅ پیچ سے سجی ”چترانت ریاست“ ہے جو جلد ہی مدینہ کی ریاست بننے جا رہی ہے چہ نسبت خاک ءابا عالم پاک.... کہاں میں کہاں یہ مقام.... یہ بھی ہو سکتا ہے موجودہ سعودی ریاست کی تقلید کا ارادہ ہو اور وہ مدینہ جو حضور کی خاک پاءسے سجا تھا آج اسرائیل کو تسلیم ہوتے دیکھ کر عاشق کے نین سے سرمئہ عشق بن کر بہہ نکلا ہو.... یہ سیلاب یونہی تو نہیں آ جاتے کہیں بہت سے دل ٹوٹتے ہیں تو دشمن کی سرحدوں سے سرحدیں جڑتی ہیں....

بات حکومت میں حکمت کی تھی تو بے ساختہ ہنسی آئی کہ چلو عمران خان سے لاکھ اختلاف سہی مگر وہ بین الاقوامی نوع کے کھلاڑی تو ہیں اوراُن کی گفتگو میں کھیل کی ”ٹرمنالوجی“ کا آ جانا قدرتی سی بات ہے.... وہ چونکہ ماہر اقتصادیات نہیں لہٰذا اکنامکس کی زبان نہیں بولتے شاعر نہیں لہٰذا کسی بھی درمیانے درجے کے شاعر کی نظم کو غزل کہہ ڈالنا حتیٰ کہ علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کی شاعری لکھ دینا کوئی بڑی بات نہیں مگر وہ کھیل کے اصول و ضوابط اور قاعدے قانون کی بات کرتے ہوئے کبھی غلطی نہیں کریں گے ہنسنے والی بات یہ کہ اُن کی کابینہ کسی منجھے ہوئے کھلاڑی کی طرح کھیل یعنی کرکٹ کی زبان بولنے لگی ہے محض کپتان کو خوش کرنے کے لئے اچھے بھلے سیانے بیانے اسد عمر فرما رہے تھے کپتان اب کریز پر سیٹ ہو گئے ہیں اب لمبی اننگز کھیلیں گے اب وہ نہ جانے عوام کو ڈرا رہے تھے یا حوصلہ بڑھا رہے تھے مگر دو سال میں کپتان کا کریز پہ محض سیٹ ہو کر کھڑا ہونے کا بیانیہ یقینا کپتان کے حق میں نہیں جاتا یہ اُن کے کھیلنے کودنے کے وصف کے بھی منافی ہے.... جو کھلاڑی محض دو سال میں کریز پر سیٹ ہو رہا وہ تماش بینوں کو کتنا اپ سیٹ کردے گا....

ہمارے معاشرے کے خودساختہ اکابرین و شرفاءکے نزدیک کھلاڑی، گلوکار، شاعر، ادیب انٹرٹینر ہوتے ہیں اور معزز اکابرین تماش بین.... وہ خود کو تماش بین کی انکلوژیر میں رکھ کر معزز ہو جاتے ہیں.... اسد عمر جو بے چارے صبح سے یہ جملہ رٹ کر ادا کر رہے تھے میں اپنی بُری عادت چہرہ شناسی کے باعث اُن کی مجبور مسکراہٹ کو دیکھ رہی تھی مجھے اس مسکراہٹ سے بڑی مزدوری اور کوئی نظر نہیں آئی....

ڈھٹائی بھی زندگی کے لئے ضروری ہے حفیظ شیخ بڑی ہٹ دھرمی سے خسارے کے زیرو بم کو کامیابی گردان رہے تھے.... ثانیہ نشتر ملک میں پناہ گاہیں اور لنگرخانے کھولنے پر نازاں تھیں....گو یہ پورے کالم کے متقاضی موضوعات ہیں تاہم جشن کے اجزاءکے طور پر مزکور ہیں....

چترانت ریاست کے تمام اکابرین کی بیٹھک میں وزیراعظم اپنا ”ٹیپ“ کا مصرع دہراتے ہوئے ذرا بھی نہیں چوکے.... ”میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا“ شاید سیاستدانوں کے اندر کوئی فنی خرابی کے باعث ٹیپ پھنس جاتی ہے یا طویل العمری کے باعث وہ جملے دہرانا شروع کر دیتے ہیں.... بہرطور جو بھی ہو بیٹھک کا اختتام بھی تو کرنا تھا اُن کے جملے سے خوا مخواہ یوسف رضا گیلانی یاد آ گئے موصوف روز صبح ناشتے کے بعد برستے ڈرون حملوں کے درمیان فرماتے ہم ڈرون حملوں کی اجازت نہیں دیں گے اس سے قطع نظر کہ اُن سے کون اجازت چاہتا ہے یا پھر وہ یہ اجازت نامہ بھی اجازت لے کر بولتے ہیں ڈھٹائی سیاست کی سیڑھیاں چڑھنے کی پکی لاٹھی ہے....

وزیراعظم نے یہ بھی فرمایا کہ اپوزیشن کے سامنے نہیں جھکیں گے بہت غوروفکر کیا شائد وہ مریم اورنگزیب کو اپوزیشن سمجھ رہے ہیں جو فوراً ہی جوابی بیانیہ لئے مخصوص ڈکشن کے ساتھ آ موجود ہوتی ہیں....یا پھر میاں شہباز شریف کا سہما سہما اختلاف اور باقی ماندہ کی ہلکی پھلکی میاﺅں میاﺅں بھی اُن کے وژن کو اختلاف لگتی ہے اگر وزیراعظم کبھی سچ مچ کے وژن کو بروئے کار لاتے ہوئے پورے انصاف سے سوچیں تو یقینا دشمن کا حسن بھی دیکھ پائیں گے اور تسلیم کر سکیں گے کہ اختلاف کس کو کہتے ہیں اور کون اتنے اختلاف کو برداشت کر سکتا ہے.... وہ جو آپ کے خود کا احتساب میں آیا آپ کی رضا سے باہر گیا اور آپ اپنی ہی لگائی ہوئی لکیر پیٹتے اُسے چائے کا کپ پیتے دیکھ کر غش کھا جاتے ہیں.... وہ جس کے چہار اطراف وحشت جھلی ڈال رہی تھی اختلاف ناچ رہا تھا اور سازشیں کہانیاں بن رہی تھیں اُسے میاں محمد نوازشریف کہتے ہیں....

برصغیر کی سرکش تاریخ بتاتی ہے کہ ان شانت دریاﺅں تلے کتنے مدوجزر ہیں اس فضا کی خاموشی کتنی پُرشور ہے وباﺅں کا سلوک ملکوں ملکوں مختلف کیوں ہوتا ہے کون بلائیں لے کر آتا ہے اور کون بلائیں ٹال دیتا ہے آپ کو کیا معلوم.... کبھی حکمت کے درجات اُس سے پوچھئے جو گھر لٹا کر آ رہا ہو....

آپ تو اسیروں سے ٹیلی وژن چھیننے کی بات کرتے ہیں اور ہم آپ کے وژن پر شرمندہ ہو جاتے ہیں دیارِ غیر میں اے سی چھیننے والا وزیراعظم تقریر کرتے ہوئے نہیں سوچتا کہ پورا مغربی میڈیا وژن ہی چیک کر رہا ہے....

تجھ سے وحشی کبھی غافل نہیں ہونے پاتے

نیند آتی ہے تو زنجیر ہلا دیتے ہیں

شب فِراق کے شب زندہ داروں سے آپ کو کیا مطلب جایئے نقصان اٹھانا سیکھئے پہلے گھر کوہجر سے بھرنا سیکھئے آپ تو انسان بدل لیتے ہیں کبھی کسی کی جگہ کوئی دوسرا بھی لے سکتا ہے؟ نبھانے والے عظیم ہوتے ہیں اور ہمسفر بدلنے والے لااُبالی....

چہرے پڑھئے پل پل بدلتے ہوئے چہرے باریاں لیتے ہوئے چہرے آپ کے اطراف اچھلتی کودتی لہریں لیتی ہلکی پھلکی سیاست ہے آپ نے کہنہ مشق سیاست دانوں کا جلوہ نہیں دیکھا آپ امپائر پر نازاں ہیں آپ وقت کے ہاتھوں لکھی تحریر نہیںپڑھ سکتے.... احمد فراز آبروئے اُردو کے صاحبزادے محض خوشنودیِ خان میں اُن کی ڈکشن بول رہے تھے ملک ”اوپر“ جا رہا ہے تو مجھے بچپن یاد آیا جب کسی قریب المرگ عزیز کی خیریت ڈرتے ڈرتے دریافت کی جاتی تو جواب دینے والا اوپر انگلی اُٹھا کر خاموش ہو جاتا.... اِس سے اشارہ امپائر کی انگلی نہیں ہے اشارہ ویسے بھی عقلمند کے لئے ہوتا ہے ہم ایسوں کے لئے نہیں....


ای پیپر