”پولیس تجھے سلیوٹ“
23 اگست 2019 2019-08-23

میں اپنے معاشرے پر بالعموم اور اپنے مہربانوں پر بالخصوص حیران ہوں کہ وہ کس کی حفاظت کر رہے ہیں، کس کی لڑائی لڑ رہے ہیں، یہ حیرانی اس وقت عروج پر پہنچی جب میں نے لاہور کے پوش علاقے گلبرگ میں سرکاری، نیم سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیوں سے ڈیزل او رپٹرول چوری کرنے والے ایک ڈپو کی نشاندہی کی۔ ’نیوز نائیٹ‘ کی ٹیم نے بہت سارے خطرات مول لے کر گاڑیوں سے تیل نکالنے کی ویڈیوز بنائیں اور پھر عین اس وقت ہم وہاں پہنچے جب قربان لائن سے تعلق رکھنے والی پولیس کی ایک گاڑی سے ڈیزل نکالا جا رہا تھا۔ ہم صحافی ہیں اور ہمارا کام جرم اور برائی کی نشاندہی ہے۔ کارروائی کرنا حکومت ، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا کام ہے۔ اسی موقعے پر ون فائیو کو کال کی گئی، علاقے کی پولیس کو بھی مطلع کیا گیا اور وہاں اہل علاقہ کی بڑی تعداد بھی جمع ہو گئی۔ پاکستان کے سب سے مشہور ڈی جے، ڈی جے بٹ بھی وہیں ہوتے ہیں۔ وہ بھی آئے، علاقے کے سابق چیئرمین بھی آئے، وہاں قریبی کالجوںمیں زیر تعلیم طالب علموں نے بھی گواہی دی کہ وہ برس ہا برس سے یہاں سرکاری گاڑیاں آتے ہوئے اور ان کا تیل چوری ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور اس ڈپو پر خود تھانہ گلبرگ کی گاڑی بھی آئی، سرکاری اداروں میں محکمہ صحت بھی تھا، محکمہ سرمایہ کاری بھی تھا، نیم سرکاری اداروں میں پاکستان کرکٹ بورڈ بھی تھا اور بہت سارے پرائیویٹ ادارو ںاور افراد کی گاڑیاں بھی تھیں۔

میں مانتا ہوں کہ معمول کے پروگراموں کے برعکس میراچوری کا ڈیزل اور پٹرول بیچنے اور خریدنے والوں سے رویہ سخت تھا مگر ایس ایچ او گلبرگ جو ایک نوجوان اور پروفیشنل آفیسر ہیں تسلیم کر رہے تھے کہ یہ ڈپو غیر قانونی ہے اور یہاں تیل کی خریدو فروخت کے کام کی حمایت نہیں کی جا سکتی مگر دوسری طرف ون فائیو کی کال پر آنے والے ڈولفن پولیس والے اپنے روایتی روئیے کا مظاہرہ کر رہے تھے یعنی وہ چاہتے تھے کہ چوری کرنے والے کی بجائے چوری کی نشاندہی کرنے والے کو ہی دھر لیا جائے۔ ہم نے ویڈیوز بنائیں کہ ڈیزل اور پٹرول چوری والے ڈپو پر لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے اہلکار بھی آ، جا رہے تھے یعنی ان کا بھی گٹھ جوڑ تھا اوراس سے بھی بڑھ کے وہاں تعینات ٹریفک پولیس وارڈن باقاعدہ نیوز نائیٹ کی ٹیم کو دھمکیاں دے رہا تھا کہ وہ چلے جائیں اور ویڈیوز نہ بنائیں۔ مجھے وہاں جرائم کی پشت پناہی کرنے والے صحافیوں کی باقاعدہ ٹیلی فون کالز آ رہی تھیں وہاں بعد میں سوشل میڈیا پر بعض برائلر صحافی ، صحافت بھی سکھا رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ مجھے قربان لائن کی پولیس گاڑی کے اس ڈرائیور کے ساتھ ادب اور احترام سے پیش آنا چاہئے تھا جو سرکاری تیل چوری کروا رہا تھا۔مجھے یہ کہنے میںعار نہیں کہ اگر میں وہاں ذرا سی بھی کمزوری دکھاتا تو تیل چوری مافیا تو ایک طرف رہا ہمیں خود پولیس والے سبق سکھا دیتے۔

میں نے وہاں ’ون فائیو‘ کال پر آنے والے ڈولفن اہلکاروں کو سلیوٹ پیش کیا جو وائرل ہو گیا، یہ اہلکار مجرموں کی بجائے جرم کی نشاندہی کرنے والے کو اپنی وردی ، اسلحے اور اختیارات کی دھونس دے رہے تھے۔ ڈپو سامنے تھا، پولیس کی تیل چوری کروانے والی گاڑی موقعے پر موجود تھی اورڈولفن پولیس والا الٹا مجھے دھمکا رہا تھا اور مجھے پورا یقین ہے کہ اگر یہاں کوئی کمزور شخص ہوتا تو وہ گرفتار ہوچکا ہو تا۔ یہی بنیادی وجہ ہے کہ میرے ملک میں جہاں بھی جرم ہو رہا ہو وہاں عام شہری نظریں چرا کر اور کان لپیٹ کر نکل جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جو بھی جرم ہو رہا ہے وہ بااثر اور بااختیار لوگوں کی سرپرستی میں ہور ہا ہے۔مجھے یہاں اپنے ان صحافیوں کے روئیے کی بھی سمجھ آتی ہے جو یہ سمجھ جاتے ہیں کہ جرم کی نشاندہی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کہ وہ اس کی بیخ کنی نہیں کر سکیں گے، کوئی کارروائی نہیں کروا سکیں گے لہذا وہ ملک، قوم اور معاشرے کی بجائے ذاتی فائدے کا سوچنے لگتے ہیں۔ یہ برائی کا ایک چکر ہے جس میں بہت سارے ایک دوسرے کے ساتھ اپنے مفاد، اپنی خوشی یا کسی نہ کسی مجبوری کی وجہ سے جڑے ہوئے ہیں۔

چوری کے تیل کے ڈپو والا پروگرام لاہور کا ہر دوسرا شہری ڈسکس کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس پروگرام اور کلپس کے دیکھے جانے کی تعداد کروڑوں میں پہنچ چکی ہے تو کیا لاہور کے سی سی پی او، ڈی آئی جی آپریشنز ، متعلقہ ایس پی اور دیگر حکام اس سے ناواقف ہیں۔ میں خود سے سوال کرتا ہوں کہ جب پولیس افسران کے علم میں ایک جرم آجاتا ہے اور پورا شہر اس کے بارے میں بات کررہا ہوتا ہے تو وہ اس پر کارروائی کیوں نہیں کرتے۔ اس سوال کا جواب بہت آسان ہے، آپ بھی اپنے دماغ پر تھوڑا سا زور ڈالیں تو معلوم ہوجائے گا اور کیا یہ پہلی بار ہوا ہے کہ جرم اور برائی کی نشاندہی کے باوجود کارروائی نہ ہوئی ہو۔ ابھی ایک ماہ قبل میں نے لاہور کے دروازے ٹھوکر نیاز بیک پر ایک پروگرام کیا کہ نہر سے رائے ونڈ روڈ اوربحریہ ٹاون کو جانے والی سڑکو ں کوملانے والی لنک روڈ پر روزانہ مغرب کے بعد خواجہ سراو¿ں کا راج ہوتا ہے۔ یہ خواجہ سرا دو سو سے پانچ سو روپوں میں وہاں انتہائی گندا کام کرتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ٹھوکر نیاز بیگ کے پل کے نیچے اس لنک روڈ کے ساتھ پارکوں کی بتیاں خاص طور پر بند رکھی جاتی ہیں اور وہاں زیر تعمیر کمروں کے ساتھ ساتھ سنسان اور ویران جگہوں کا اہتمام بھی ہے جو مقامی پولیس کے علاوہ پی ایچ اے کے تعاون کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ چشم دید گواہ بیان کرتے ہیں کہ خواجہ سرا یہاں گاہک ڈھونڈتے ہیں اور ویرانے میں لے جاتے ہیں اور اس کے بعد پولیس کے جوان حملہ آور ہوتے ہیں۔ گھیرے میں آئے شوقین مزاجوں کو بتایا جاتا ہے کہ ان پر حدود آرڈی ننس کا پرچہ ہوگا جس کے بعد ان کی جیبیں خالی کروا لی جاتی ہیں اور یہ دھندا بھی برسوں سے جاری ہے۔ جب میں نے اس کی نشاندہی کی تو مجھے لاہور کی ڈی سی او کے پی آراو کا فون آیا کہ ڈی جی پی آر سے آپ کے پروگرام کی کلپنگ آئی ہے، یہ سب کیا ہے۔ جس کے جواب میں، میں نے انہیں پروگرام کا تفصیلی لنک بھیج دیا مگر دلچسپ امر یہ ہے کہ اس کے بعد بھی وہ دھندا اسی طرح جاری ہے۔ آپ وہاں ہر وقت درجنوں خواجہ سرا اور زیر تعمیر ویران کمرے میں ان کے موٹے پیٹ والے گروُ کو بھاری میک اپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔

مجھے لگتا ہے کہ میں پرائمری کے نصاب میں شامل کہانی کے مصداق کسی سوئے ہوئے محل میں گھوم رہا ہوں جہاں ہر بااختیار سو رہا ہے یا سونے کی اداکاری کر رہا ہے کہ اس کا بھید نہ کھل جائے ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ میڈیا پر ثبوتوں کے ساتھ جرائم اور برائیوں کی نشاندہی کی جائے اور اس پر کسی قسم کی کوئی کارروائی نہ ہو بلکہ دلچسپ امر یہ ہے کہ پٹرول اور ڈیزل چوری پر غلیظ گالیوں کی بوچھاڑ جہاں سے ہوئی وہ خود آئی جی پنجاب کا دفتر تھا اور ایسا کرنے والا فیس بک پر خود کو آئی جی پنجاب کے دفتر کا سپرنٹنڈنٹ ظاہر کر رہا تھا۔ایسے میں کوئی حیرانی نہیں کہ جرائم پیشہ افراد دندناتے پھرتے رہیں اورقانون پسند عام شہری اربوں روپوں کے بجٹ کے ساتھ نیلی پیلی بتیاں جلاتی بجھاتی بڑی بڑی گاڑیوں، ہیوی موٹرسائیکلوں، سبز کالی وردیوں والوں کودیکھ کر تحفظ محفوظ کرنے کی بجائے ان سے خوفزدہ رہیں، یہ پولیس مجرموں کی محافظ اور عام شہریوں کے لئے دہشت کی علامت کیوں ہے، یہ اس نے اپنے عمل سے واضح کر دیا ہے۔


ای پیپر