Opposition's commotion in the National Assembly, the Speaker adjourned the session indefinitely
کیپشن:   فائل فوٹو
23 اپریل 2021 (13:06) 2021-04-23

اسلام آباد: ایوان میں شور شرابا اور ڈائس کے گھیراؤ کے دوران ہی سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا۔ آج فرانسیسی سفیر کے معاملے پر پیش کی گئی درخواست پر بحث ہونا تھی، اپوزیشن اراکین نے الزام عائد کیا کہ انھیں بحث کا کوئی موقع ہی نہیں دیا گیا۔

تفصیلات کت مطابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ناموس رسالت کے معاملے پر قرارداد پر بحث ہونا تھی تاہم اسے غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے ارکان آج کے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے۔ اپوزیشن ارکان لبیک یارسول اللہ اور تاجدار ختم نبوت ﷺ کے نعرے لگاتے رہے، بعض نے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے۔

ایوان میں پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کی اجازت نہ ملنے پر اراکین نے ڈپٹی سپیکر کا گھیراؤ کر لیا۔ ایک رکن نے مطالبہ کیا کہ احسن اقبال کو پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے دیا جائے۔ تاہم ڈپٹی سپیکر قاسم سوری وقفہ سوالات پر مصر رہے اور ارکان کو سوالات کی دعوت دیتے رہے۔ وقفہ سوالات کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے احتجاج شروع کر دیا۔ اس موقع پر ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا، صورتحال دیکھتے ہوئے ڈپٹی سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں رہنما مسلم لیگ (ن) احسن اقبال کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں قرارداد پر بحث کرنے اور قوانین کی روشنی میں کمیٹی تشکیل دینے کا کہا تھا لیکن حکومت نے اس معاملے میں بھی ہمیں کوئی جواب نہیں دیا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت سے کہا تھا ہمیں معلومات دیں، اس کی پالیسی کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں نجی ممبر نے قرارداد پیش کی جس کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں تھی۔ مطالبہ کیا تھا کہ وزیراعظم، وزیر داخلہ یا ڈی جی آئی ایس آئی ریاست کی پالیسی ایوان میں پیش کریں۔ حکومت نے اس مطالبے کا جواب دینے کی بجائے سوال جواب کا سلسلہ جاری رکھا۔

لیگی رہنما نے کہا کہ جب ہم نے بات کرنے کی کوشش کی تو سپیکر نے اسمبلی اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا۔ چاہتے تھے کہ 2 اہم معاملات کو قومی اسمبلی میں زیر بحث لایا جائے۔ ان میں سے ایک سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم پر قاتلانہ حملہ اور دوسرا کوئٹہ میں دہشت گردی کا واقعہ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف دہشت گردی نہیں تھی بلکہ سی پیک پر حملہ کیا گیا۔ پاکستان کے دوست کے سفیر کے دورہ پر ایسی کارروائی ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ ملک میں دہشت گردی کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کو دہشت گردی کیخلاف استعمال نہیں کیا جا رہا بلکہ اپوزیشن کو پکڑنے پر لگا دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حکومت کی ترجیح دہشت گردی نہیں بلکہ اپوزیشن کیخلاف جھوٹے مقدمات کا اندراج کرانا ہے۔ آج قومی اسمبلی میں جو رویہ اختیار کیا گیا، وہ انتہائی غیر سنجیدہ اور افسوسناک ہے۔ ایسی قرارداد جو ہر پاکستانی کے دل کے قریب ہے اسے پاس کرنا ضروری تھا۔


ای پیپر