The agreement between the government and the banned tehreek-e-labbaik has been fully implemented: Fawad Chaudhry
کیپشن:   فائل فوٹو
23 اپریل 2021 (11:56) 2021-04-23

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ حکومت کا کالعدم تحریک لبیک (ٹی ایل پی) کے ساتھ معاہدے پر مکمل عملدرآمد ہو چکا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے کوئی بھی قرارداد لائی گئی تو ان کی اپنی صوابدید ہوگی۔

یہ اہم بات انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر کے ذریعے جاری ایک بیان میں کہی۔ فواد چودھری نے لکھا کہ اس کے علاوہ قومی اسمبلی میں بھی قراداد پیش ہو چکی ہے جبکہ ایم پی او میں گرفتار لوگ رہا کر دئیے گئے ہیں۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں ملک میں احتجاج کا سلسلہ ختم ہو چکا، نون لیگ یا پیپلز پارٹی اپنی قراداد لانا چاہتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے، حکومت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

خیال رہے کہ  گزشتہ قومی  اسمبلی  اجلاس  کے دوران وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے فرانسیسی سفیر کے  معاملے پر پارلیمینٹ کی کمیٹی بنانے کی تحریک پیش کی تھی جسے منظور کر لیا گیا تھا۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ فرانسیسی میگزین کی جانب سے پہلی بار 2015ء میں گستاخانہ خاکے شائع کئے گئے اور ایک بار پھر عالمی سطح پر مذہبی ہم آہنگی اور امن کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی اور خاکے شائع کرنے پر پوری دنیا کے مسلمانوں نے شدید غم وغصے کے اظہار کیا، یہ ایوان متنازع فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کی جانب سے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی مذمت کرتا ہے۔

قرارداد کے فوراً بعد اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے جبکہ بات کرنے کا موقع نہ ملنے پر شاہد خاقان عباسی سپیکر ڈائس پر پہنچ گئے۔ شاہد خاقان نے اپنے خطاب میں کہا کہ تحفظ ناموس رسالت پر کوئی دو رائے نہیں مگر یہ قرارداد ناکافی ہے۔ دوران اجلاس شاہد خاقان عباسی اور سپیکر قومی اسمبلی میں تلخ کلامی ہوئی۔ شاہد خاقان عباسی نے سپیکرسے کہا کہ آپ کوشرم نہیں آتی، میں آپ کو جوتاماروں گا جس پر سپیکر نے کہا کہ میں بھی وہ کام کروں گا،آپ اپنی حد میں رہیں۔

قرارداد میں فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کیلئے پارلیمنٹ سے رائے مانگتے ہوئے کہا گیا کہ فرانسیسی سفیر کو کیوں نہ ملک بدر کیاجائے اور اس معاملے پر بحث کی جائے۔ قرارداد میں مذہبی معاملات پر احتجاج کیلئے ملک کے مختلف مقامات پر جگہ فراہم کرنے کی بھی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ سڑکوں کی بندش کے بجائے احتجاج کیلئے مخصوص مقامات کا تعین کیاجائے، تمام مسلم ممالک سے اس معاملے پر سیر حاصل بات کی جائے اور تمام یورپین ممالک بالعموم اورفرانس کوبالخصوص معاملہ کی سنگینی سے آگاہ کیاجائے۔

وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے معاملے پر پارلیمنٹ کی کمیٹی بنانے کی تحریک بھی پیش کی جسے منظور کر لیا گیا۔ علی محمد خان نے کہا کہ یہ قرارداد پرائیویٹ ممبر کی طرف سے آئی ہے اور حکومت اس پر کوئی دعویدار نہیں۔ پیپلزپارٹی کے ارکان قومی اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 34 اور جے یو آئی (ف) کے 7 ارکان اور جماعت اسلامی کا ایک رکن اجلاس میں شریک ہوئے۔

ایوان میں پیر نور الحق قادری کی تقریر کے دوران بھی اپوزیشن نے احتجاج کیا اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے شدید نعرہ بازی کی۔ سپیکر نے کہا کہ قرارداد پیش ہوئی ہے، منظور نہیں ہوئی، قرارداد پر تمام جماعتیں مشاورت کرلیں اور متفقہ قرارداد لائیں اور پھر قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔


ای پیپر