Dr Ibrahim Mughal, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
23 اپریل 2021 (11:29) 2021-04-23

لیجئے قا رئین ابھی اس نا چیز کے پچھلے کا لم بعنوان ’ تبد یلی وزا رتوں کی‘ سے تا زگی ر خصت نہ ہونے پا ئی تھی کہ ہما رے وز یرِ اعظم عمر ا ن خان نے اپنے پونے 3 سالہ دور حکومت میں تیسرا وزیرخزانہ تبدیل کر کے اس پہ اپنی مہر ثبت کر دی۔ اس بارے حکومتی سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومتی تبدیلیوں کا تسلسل ایک بڑے پیراڈائم شفٹ کی نشان دہی کرتا ہے، بظاہر وزیراعظم سسٹم میں استحکام کی جنگ لڑتے نظر آتے ہیں لیکن اقتصادی دبائو، پیچیدہ سیاسی صورت حال، پیداشدہ معاملات نے عوام کو ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا کردیا ہے۔ عوام محسوس کرتے ہیں کہ حکومت ان کے لیے کوئی بڑا ریلیف دینے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہے، وہ ایک فیصلہ نہیں کرتی کہ دوسرے کئی اقدامات حکومت کی توجہ کو کسی نئی پیچیدہ صورتحال کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ بعض مبصرین کاکہنا ہے کہ حکومت کا کردار کہیں گم ہے، بحران کی بنیادی وجوہ مختلف النوع ہیں اور سیاسی، سماجی اور اقتصادی مسائل کے حل کے لیے کثیر جہتی عملیت پسندانہ سوچ اور بلاتاخیر عمل کے ذریعے ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق حکومت بند گلی سے نکلنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے لیکن اس کے لیے خارجہ پالیسی ا ور مقامی حالات کے لیے سسٹم کو ایک ہنگامی صورتحال کے تحت دور رس فیصلے کرنا پڑیں گے جو عوام کو معاشی پریشانیوں سے نکالیں اور مربوط سیاسی اتفاق رائے کی سوچ کو اہمیت دیں۔بہترین اور صائب استدلال یہی ہے کہ ارباب اختیار فہم و فراست سے کام لیں، عوام پر اعتماد کریں۔ اپنے اقدامات اور فیصلوں کے صائب اور ملک کے سیاسی و معاشی مستقبل کے لیے مفید ثابت کرنے کا سیاسی ماحول پیدا کریں۔ ملک میں بے یقینی ہے، لوگ اس فکر میں ہیں کہ کورونا کا انجام کیا ہوگا۔ کیا مہنگائی کی روک تھام ہوسکے گی، ویکسینیشن پر مایوس کن بیانات اور ہلاکتوں میں اچانک اضافہ کے اسباب سے پیدا ہونے والی مایوسی کو امید، حوصلہ، خوشی اور استقامت میسر ہو۔ اس وقت ضرورت معاملات کو ایک فکری وحدت میں پرو نے کی ہے۔ گھن گرج والے بیانیے کی جگہ سنجیدہ اور فہمیدہ عناصر کو ایک قومی پلیٹ فارم دے کر انہیں اس اعتماد کے ساتھ معاشی نشاۃ ثانیہ کا یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ معیشت ضرور سنبھلے گی۔ اسد عمر، حفیظ شیخ کے بعد اب شوکت ترین کو بھی اس بحرانی صورت حال سے اپنی سٹریٹجی کو لے کر چلنا ہوگا، ان کے لیے پالیسیوں کی دشواریاں موجود ہیں۔ قرضوں میں ملک ڈوبنے کی بات تو کچھ روز قبل وزیراعظم خود قوم سے کرچکے ہیں، اب بھی وزیراعظم نے عوام کو اطمینان دلایا ہے کہ وہ معاشی حالات کی بہتری کے لیے احتساب اعصابی شکنجہ نہیں بننا چاہیے۔ شفافیت کے بغیر کوئی جمہوریت چل نہیں سکتی، احتساب ضرور ہو لیکن جس طرح احتسابی عمل ہورہا ہے اس پر تو ملکی عدلیہ بھی سوال اُٹھا رہی ہے۔ احتساب بلا امتیاز ہونا شرط ہے، انتشار کے اندر سے قومی فکر کو قانون و ضمیر کا راستہ ملنا چاہیے، معاشی محاصرے جیسی صورت حال جتنی جلدی ختم ہو اتنا ہی بہتر ہے۔ فکری عدم مرکزیت سمیت مہنگائی قابو سے باہر ہونے کے اندیشہ ہائے دور دراز روز افزوں ہیں۔ میڈیا کے مطابق شوکت ترین کو چھ ماہ کے عرصے میں سینیٹر منتخب کرانے کے بعد مستقل وزیرخزانہ لگایا جائے گا۔ عمر ایوب سے توانائی کی وزارت واپس لے کر اقتصادی امور پہ لگایا گیا ہے۔ فواد چودھری کو نیا وفاقی وزیر اطلاعات تعینات کردیا گیا ہے، شبلی فراز کو وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی جبکہ خسروبختیار کو وزیر صنعت و تجارت مقرر کیا گیا ہے۔ کابینہ ڈویژن نے وزارتوں میں ردّوبدل کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے۔ اگرچہ وزیراعظم ملک کو درپیش تمام مسائل اور موجودہ اقتصادی بحران کا سبب 2008ء سے لے کر 2018ء تک کی سابقہ حکومتوں کو قرار دیتے رہتے ہیں تاہم اب نئی تبدیلیوں کے بعد ایک دو کو چھوڑ کر وہی تمام چہرے شامل کرلیے گئے ہیں جو پیپلز پارٹی، (ن) لیگ اور (ق) لیگ کی حکومتوں کے دوران وفاقی کابینہ کا حصہ رہ چکے ہیں۔ شوکت ترین پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں سینیٹرز منتخب ہونے کے بعد وزیرخانہ رہ چکے ہیں، اسی طرح حفیظ شیخ بھی پیپلز پارٹی کی یوسف رضا گیلانی کابینہ میں وزیرخزانہ تھے۔ وفاقی کابینہ میں حالیہ ردّوبدل سے قبل ہی یہ قیاس آرائیاں پھیل چکی تھیں کہ بعض اہم وزراء کی تبدیلی ہورہی ہے۔ اب جبکہ حکومت کے تین سال گزرنے والے ہیں، حکومت کو اب عملی طور پر اپنی کارکردگی بھی ثابت کرنا ہوگی۔ وزیراعظم اپنے دور حکومت میں اب تک کئی بار اپنی کابینہ میں تبدیلیاں کر چکے ہیں۔ ایک جانب انتظامی اتھل پتھل ہے اور دوسری جانب مہنگائی کی لہر میں بھی 

ٹھہراؤ نظر نہیں آرہا۔ ماہ رمضان میں پھل مہنگے ہیں، اچھی کھجور مارکیٹ سے غائب یا غریب خریدنے سے معذور ہے۔ اچھا کیلا دو سو روپے درجن سے تین سو روپے درجن دستیا ب ہے۔ بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ کھانے کے قابل کیلا مزید مہنگا ہوگا۔ عالمی مالیاتی ادارہ کے مطابق پاکستان معاشی بحالی اور استحکام کے حصول کے لیے تیار رہے۔ وزیراعظم عمران خان نے عزم ظاہر کیا ہے کہ چار سو چھیالیس ارب پیکیج سندھ کے لیے ہے، اس سے عوام کی معاشی حالت بہتر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بڑے مافیا سے مقابلہ تھا، اس لیے سندھ پر توجہ نہ دے سکا، اب پیکیج پر ایک ماہ میں عمل درآمد ہوگا۔ مگر بھوک سے بلبلاہٹ کا شکار عوام اب وعدوں پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ حکومت زرعی شعبہ کی طرف توجہ نہیں دے رہی، اس حوالہ سے زرعی پالیسیاں کسان اور ہاری کے لیے لولی پاپ سے زیادہ نہیں۔ زرعی شعبہ میں بنیادی اصلاحات پر سنجیدگی نہیں دکھائی گئی، فیوڈل نظام کی چیرہ دستیوں کی بات اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امیر امیر ترین ہوگئے اور محنت کش طبقہ کے لیے روکھی سوکھی ہی رہ گئی ہے، لہٰذا ارباب اختیار کو معاشی انصاف کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ غربت پر پاکستانی سیاست میں زبانی جمع خرچ بہت ہوتا ہے لیکن سماجی و سیاسی نظام سے استحصال، بے انصافی، جبر و ستم، تشدد، جرائم کے خاتمہ کی پالیسیوں پر عمل ہوتا نظر نہیں آتا۔ عوام کو پہلی بار محسوس ہوا ہے کہ ان کی زندگی جمہوریت میں جمود زدہ ہے اور ایک آزاد معیشت کے دعوؤں میں بھی عوام دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں۔ آخر حکمرانوں کو ایک پائیدار اور مستحکم سیاسی، اقتصادی و معاشی نظام کی بنیاد ڈالنے میں کون سی رکاوٹ درپیش ہے۔ حقیقت میں عوام کشمکش زندگی اور سیاست کے دقیانوسی میوزیکل چیئر کے کھیل سے تنگ آچکے ہیں۔ انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ ملک میں کیا ہورہا ہے۔ حکومتی وزراء اپنے اخباری بیانوں اور ٹی وی پروگراموں میں ایسے باتیں کر رہے ہیں جیسے پورے ملک میں ہر طرف خوش حالی پھیلی ہوئی ہے۔ اسلامی فلاحی ریاست کے خواب کو تعبیر دینے کی باتیں مسلسل کی جارہی ہیں، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہیں، معیشت بہتر ہورہی ہے لیکن زمین پر قدم رکھیں تو صورت حال مختلف نظر آرہی ہے۔ کورونا وباء کی وجہ سے ہفتے اور اتوار کوکاروبار مکمل طور پر بند ہیں۔ مڈل کلاس تاجر طبقہ سخت مالی بحران سے دو چار ہے۔ ریسٹورانوں کا کاروبار مسلسل بند چلا آرہا ہے۔ تھوڑا بہت چل بھی رہا ہے تو وہ معاشی سرگرمیوں میں تیزی کا باعث نہیں بن رہا۔ ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ حکومت جس کنسٹرکشن انڈسٹری میں بوم آنے کی باتیں کر رہی ہے، وہاں منظرنامہ یہ ہے کہ کنسٹرکشن مٹیریل بہت زیادہ مہنگا ہورہا ہے جس کی وجہ سے کنسٹرکشن کاسٹ میں کئی گنا اضافہ ہوچکاہے۔ اگر اضافہ اسی طرح جاری رہا تو کنسٹرکشن انڈسٹری کی سرگرمیوں میں بھی کمی آجائے گی۔ کنسٹرکشن میٹریل کے ریٹس پر بھی حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ سریہ ہو یا سیمنٹ، ان کے نرخ روزانہ کی بنیاد پر مقرر ہوتے ہیں۔ ایک ہی چیز کے ایک جگہ نرخ مختلف ہیں۔ اسی طرح کنسٹرکشن انڈسٹری سے وابستہ دیگر آئٹمز بھی مہنگی ہورہی ہے۔ تنخواہ دار طبقے کی بات کریں تو اس کی حالت زار بھی سب پر عیاں ہے۔ صحت کی سہولتوں کو دیکھا جائے تو سرکاری ہسپتالوں میں افراتفری کا عالم ہے۔ نجی ہسپتال اور نجی لیبارٹریز اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں حکومت کی ذمہ داریاں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ محض وزیر تبدیل کرنے سے کچھ نہیں ہوسکتا۔ ملک جس قسم کے مالیاتی بحران کا شکار ہے، اس کا تقاضا ہے کہ غیرترقیاتی اخراجات میں کمی کی جائے۔ ملک کے منتخب ارکان پارلیمنٹ کم از کم موجودہ حکومت کے آخری اڑھائی تین برس تک اپنی تنخواہوں او ردیگر مراعات سے دستبردار ہوجائیں۔ حکومت اور عوام کے منتخب نمائندے اگر اس قسم کے ایثار و قربانی کا مظاہرہ کریں تو کم از کم ملک کے عوام کو یہ تو تسلی ملے گی کہ حکومت اور ان کے منتخب نمائندے، ان کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔


ای پیپر